Advertisement
علاقائی

سرکاری ملازمین کو دھمکی دینے کامعاملہ : وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن میں طلب

سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور الیکشن عملے کو دھمکایا، جبکہ جلسے میں موجود عوام اور عمومی طور پر لوگوں کو اکسانے پر نوٹس لیا گیا،ای سی پی

GNN Web Desk
شائع شدہ 9 months ago پر Nov 20th 2025, 2:18 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سرکاری ملازمین کو دھمکی دینے کامعاملہ : وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن میں طلب

اسلام آباد: الیکشن کمیشن پاکستان ( ای سی پی ) نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی مبینہ دھمکی پر نوٹس جاری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا، جس میں اراکین، سیکرٹری، اسپیشل سیکرٹری، لا ونگ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

دوران اجلاس الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیان پر نوٹس جاری کر دیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور الیکشن عملے کو دھمکایا، جبکہ جلسے میں موجود عوام اور عمومی طور پر لوگوں کو اکسانے پر نوٹس لیا گیا،لیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

ای سی پی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ جلسے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ہمراہ ایک مفرور مجرم بھی کھڑا تھا، اور وزیر اعلیٰ کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے ضمنی الیکشن کا پرامن انعقاد مشکل ہو گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انتخابی ڈیوٹی پر مامور عملہ اور ووٹروں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل وزیر اعلی سہیل آفریدی نے حویلیاں میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ضمنی الیکشن ڈیوٹی پر مامور سرکاری ملازمین اور پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے سخت جملے کہے۔

انہوں نے انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر الیکشن کے دن کسی قسم کی بدمزگی ہوئی تو وہ “رات تک عہدوں پر نہیں رہیں گے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ہے۔

ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے کسی کو دھمکی نہیں دی بلکہ قانون کے نفاذ کی بات کی تھی۔ ترجمان نے اسے محض “سیاسی پوائنٹ اسکورنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر قیمت پر شفاف اور غیر جانبدارانہ ضمنی انتخابات یقینی بنائے گی۔

Advertisement