Advertisement
علاقائی

لاہور سے واپسی پر وزیر اعلی سہیل آفریدی نے مریم نواز کو احتجاجی مراسلہ لکھ دیا

میں نے 40 ملین لوگوں کے نمائندہ کی حیثیت سے لاہور کا دورہ کیا لیکن جو کچھ میرے ساتھ ہوا وہ کسی بھی طور ایک عوامی نمائندہ کے شایان شان نہ تھا،سہیل آفریدی

GNN Web Desk
شائع شدہ 8 months ago پر Dec 29th 2025, 6:37 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
لاہور سے واپسی پر وزیر اعلی سہیل آفریدی نے مریم نواز کو احتجاجی مراسلہ لکھ دیا

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اپنے دورہ لاہور کے دوران نامناسب رویے پر احتجاجی مراسلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ارسال کردیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی نے خط میں لکھا کہ دورہ پنجاب میں میرے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا، پنجاب میں دورے کے دوران میرے ساتھ نامناسب رویہ اور بدتمیزی کی گئی۔

مراسلے میں سہیل آفریدی نے کہا کہ میں نے 40 ملین لوگوں کے نمائندہ کی حیثیت سے لاہور کا دورہ کیا لیکن جو کچھ میرے ساتھ ہوا وہ کسی بھی طور ایک عوامی نمائندہ کے شایان شان نہ تھا، مارکیٹیں اور عوامی مقامات کی بندش کرتے ہوئے لاہور کے باسیوں کو تکلیف دی گئی ، موٹروے ریسٹ ایریا تک بند رکھا گیا۔

مراسلے میں انہوں نے مزید کہا کہ میرے دورہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی اور اسے منشیات سمگلنگ تک سے جوڑا  گیا اوریہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، ایسے رویئے اور انداز سے میری شخصیت کوتباہ کرنے کی کوشش کی گئی جسے کسی بھی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامی طور پر ایسے حربے استعمال کیے گئے جن کا مقصد تضحیک کرنا تھا، ایسے طورطریقوں کے ذریعے ریاست کے یونٹس کے درمیان ہم آہنگی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔

جس انداز میں میرے دورہ کے دوران معاملات کو ڈیل کیاگیا وہ کوتاہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر سب کیاگیا، جو ہوا وہ انتظامی خامی تھی نہ ہی حادثاتی بلکہ آئینی عہدہ اوربین الصوبائی عزت کو خراب کیاگیا۔

احتجاجی مراسلے میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انتظامی طور پر ایسے حربے استعمال کیے گئے جن کا مقصد تضحیک کرنا تھا، ایسے طورطریقوں کے ذریعے ریاست کے یونٹس کے درمیان ہم آہنگی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں اس مراسلے کے ذریعے اس انداز اورطورطریقوں پر بھرپوراحتجاج کرتے ہوئے توقع رکھتاہوں کہ ان کا ازالہ کرتے ہوئے مستقبل میں ان سے اجتناب برتا جائے گا۔ اس خط کو باقاعدہ طور پر احتجاجی مراسلہ تصور کرتے ہوئے مستقبل میں کسی بھی قسم کی آئینی ، قانونی اور بین الصوبائی کاروائی کے لیے ریکارڈ پر رکھا جائے۔

 

Advertisement