قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو مزید وسعت دینے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے،وزیر اعظم
علاقائی کشیدگی کے باوجود کامیاب سفارتکاری کے ذریعے خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات کی ترسیل یقینی بنائی گئی،شہباز شریف


اسلام آباد:وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ محکموں کو ہدایات دیتے ہوئے کہاہے کہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو قومی سطح پر مزید وسعت دینے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر بجلی کی فراہمی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں ملکی برآمدات کی پیشرفت کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء ڈاکٹر احسن اقبال، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، سردار اویس احمد لغاری، جنید انور چوہدری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی ہارون اختر اور طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
دوران اجلاس وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود ملک میں قابل تجدید توانائی کا مناسب حصہ ہونے کی وجہ سے توانائی کا کوئی بحران پیدا نہیں ہوا۔
انہوں نے بیٹری توانائی اسٹوریج سسٹم کے منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید ذرائع ہی بجلی کے شعبے کا مستقبل ہیں۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو قومی سطح پر مزید وسعت دینے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور چیلنجز کے باوجود خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات جاری ہیں۔
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کو سمندری راستے سے ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے بحری جہازوں کے انتظام کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کامیاب سفارتکاری کے ذریعے خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات کی ترسیل یقینی بنائی گئی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار کے حوالے سے طویل مدتی حکمت عملی، عالمی صورتحال میں ملکی برآمدات کے مواقع، درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت بجلی کی مجموعی پیداوار میں 55 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع جبکہ 45 فیصد حصہ حیاتیاتی ایندھن پر مشتمل ہے۔
مزید بتایا گیا کہ آئندہ دس سال کے دوران بجلی کی پیداوار کو قابل تجدید ذرائع سے 90 فیصد جبکہ حیاتیاتی ایندھن سے 10 فیصد تک لانے کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ ملکی برآمدات کے لیے سہولت پیدا کی جا سکے جبکہ ان ممالک میں پاکستانی زرعی اجناس کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان نے اگلے سال کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی
- 20 hours ago

کتنے پاکستانی کرپٹو اکاؤنٹس کے مالک بن گئے؟ بلال بن ثاقب نے بتا دیا
- 2 days ago
’مکہ دفاعی اتحاد‘ کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، عسکری و سیاسی قیادت کی شرکت
- 2 days ago
بلوچستان میں متعدد کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندستان اور فتنہ الخوارج کے 21 دہشت گرد ہلاک
- 20 hours ago
پنجاب اسمبلی میں 16سال سے کم عمربچوں کے سوشل میڈیا استعمال پرپابندی کی قرارداد منظور
- 20 hours ago
لاہور چیمبر کی ایکسپورٹ کمیٹی نے ایک سالہ کارکردگی پیش کردی
- 3 days ago
راولپنڈی، اسلام آباد میں طوفانی بارش، نالہ لئی بپھر گیا، فوج طلب، تعلیمی اداروں میں تعطیل
- a day ago

اسٹیج اداکار محمد صدیق المعروف عابد چارلی شدید علیل
- 2 days ago

مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا، حاقان فیدان
- 2 days ago

فیملی ڈرامے وقت کی اہم ضرورت ہے، اداکار شان شاہد
- 2 days ago

وزیراعظم کی بشکیک میں عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال
- a day ago

خریداروں کے لیے خوشخبری، سونے کی قیمت میں مزید کمی
- 2 days ago



