امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات جاری
مذاکرات کا عمل اب ’ایکسپرٹ فیز‘ میں داخل ہو چکا ہے، اور ایرانی وفد کی تکنیکی کمیٹیوں کے متعدد ارکان بھی مذاکرات کے مقام پر موجود ہیں،ایرانی میڈیا


اسلام آباد:پاکستان کی ثالثی اور میزبانی میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری ہیںجہاںدونوں ملک ایک دہائی بعد آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان تاریخ ساز امن مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں دونوں فریقین کشیدگی کے بعد پہلی بار براہِ راست ایک میز پر بیٹھے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد ابتدائی طور پر مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں ابہام پایا جارہا تھا کہ یہ بات چیت ثالثوں کے ذریعے ہوگی یا فریقین آمنے سامنے بیٹھیں گے۔
تاہم پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن ’پی ٹی وی‘ کے علاوہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (آئی آر این اے) نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا عمل اب ’ایکسپرٹ فیز‘ میں داخل ہو چکا ہے، اور ایرانی وفد کی تکنیکی کمیٹیوں کے متعدد ارکان بھی مذاکرات کے مقام پر موجود ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات میں امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جس میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندے اسٹیو ویٹکوف شامل ہیں۔
جبکہ ایرانی وفد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر رہنماؤں پر مشتمل ہے۔
ماہرین کے مطابق اعلیٰ سطح وفود کی آمد، پاکستان کی مؤثر سفارتکاری اور عالمی قیادت کے مثبت بیانات نے جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن کی امید کو مزید تقویت دی ہے، جبکہ دنیا کی نظریں ان اہم مذاکرات کے نتائج پر مرکوز ہیں۔
خیال رہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
جبکہ اس سے قبل 2015 میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام پر ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا۔
انقلاب اسلامی کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ان دونوں ممالک کے نمائندے براہِ راست آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ تاہم اس معاہدے کو 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے بعد ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات ایک دفعہ پھر سرد مہری کا شکار ہو گئےتھے۔

پر اسرار موت، نوجوان کی پھندا لگی لاش برآمد
- 2 دن قبل
براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے سے لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 8 کی لاشیں مل گئیں، 2 کی تلاش جاری
- 14 گھنٹے قبل

کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلہ
- 15 گھنٹے قبل

ایل پی جی مہنگی ہو گئی، فی کلو قیمت جانیے
- 15 گھنٹے قبل
دہشت گرد ہتھیار ڈالیں یا انجام بھگتیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
- 20 گھنٹے قبل
افسوسناک خبر: پاکستانی شوبزدنیا ایک قیمتی ستارے سے محروم ہو گئی
- 2 دن قبل

ارشد ندیم کی شاندار واپسی، ایک اور بڑی کامیابی حاصل
- 2 دن قبل
لاہور: اٹارنی جنرل ہاؤس ریڈ کیس، ایس پی کینٹ عہدے سے فارغ
- 2 دن قبل

جناح اسپتال میں مبینہ غفلت، مریض جان سے گیا
- 2 دن قبل

خواجہ آصف عوام سے معافی مانگیں، شعیب صدیقی
- 19 گھنٹے قبل
کپتان کا لاپتا پالتو کتا آخرمل ہی گیا
- 20 گھنٹے قبل

ہولناک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق
- 2 دن قبل


