Advertisement

افغان طالبان کا ایک صوبے فراہ کے دارالحکومت پر قبضے کا دعویٰ

کابل : افغان طالبان نے ایک اور صوبائی دارالحکومت فراہ پر قبضے کا دعویٰ کر دیا ، افغان خانہ جنگی سے 77 ہزار شہری بے گھر ہو گئے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Aug 11th 2021, 12:48 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
افغان طالبان کا   ایک صوبے فراہ کے دارالحکومت پر قبضے کا دعویٰ

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق  افغان طالبان نے  ایک صوبے فراہ کے دارالحکومت پر قبضے کا دعویٰ کر دیا  ہے،طالبان جنگجوؤں کی فراہ کے گورنر ہاؤس میں گھومتے پھرنے کی ویڈیوز سامنے آ گئیں  لیکن  ابھی تک کابل انتظامیہ یا  آزاد ذرائع نے فراہ پر طالبان کے مکمل قبضے کی تصدیق نہیں کی ۔

 طالبان نے  شمالی افغانستان پر قبضہ مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ تمام سرحدی کراسنگز پر قبضہ کرکے ملکی  ریونیوز کے پچاس فیصد پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔

دوسری جانب  مزار شریف پر قبضے کی لڑائی جاری ہے   اور طالبان شہر پر چاروں اطراف سے حملہ آور ہیں ۔ بھارت نے مزار شریف میں آخری قونصلیٹ بھی بند کردیا   اور افغانستان میں موجود سفارتکاروں اور شہریوں کو فوجی طیارے کے ذریعے افغانستان سے نکال لیا ۔

  صدر اشرف غنی نے طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لیے  جنگی سرداروں سے مدد مانگ لی ہے۔ کابل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس لڑائی کی وجہ سے اب تک 77 ہزار خاندان بے گھر ہو چکے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے چار لاکھ شہری بے گھر ہونے کا تخمینہ  لگایا ہے ۔

صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ  افغانستان کی عوام کو اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہو گا۔  امریکیوں کی ایک اور نسل کو 20 سال کی جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتے۔  امریکا افغان فورسز کو فضائی مدد دے رہا ہے لیکن پینٹاگون ترجمان جان کربی کا کہنا ہے  کہ یہ افغانوں کی لڑائی ہے اور انہیں ہی لڑنی ہے ۔ یہ ان کی سکیورٹی فورسز ہیں اور ان   کے صوبائی دارالحکومتیں اور قوم ہیں، ان کا دفاع کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

Advertisement