جی این این سوشل

کھیل

 طالبان نے آئی پی ایل کے میچز دکھانے پر پابندی عائد کردی

طالبان نے افغانستان میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے میچز دکھانے پر پابندی لگادی۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

 طالبان نے آئی پی ایل کے میچز دکھانے پر پابندی عائد کردی
 طالبان نے آئی پی ایل کے میچز دکھانے پر پابندی عائد کردی

آئی پی ایل کا 14 واں سیزن متحدہ عرب امارات میں جاری ہے جس میں کئی غیرملکی کھلاڑی بھی شریک ہیں۔ طالبان نے افغانستان پر کنٹرول کے بعد آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی عائد کردی ہے۔

مزید پڑھیں : امریکہ افغانستان میں قتل ومظالم کی ذمہ داری قبول کرے : طالبان

افغان کرکٹ بورڈ کے سابق میڈیا منیجر ابراہیم مومند نے ٹوئٹ میں بتایا کہ طالبان نے قومی ٹی وی پرآئی پی ایل کے میچز دکھانے پر پابندی لگادی ہے۔

اس کے علاوہ افغان صحافی انیس الرحمان نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ افغان اسپورٹس چینل آر ٹی اے اسپورٹس ٹرانسمیشن کیلئے فیس بھی ادا کرچکا ہے۔

تاہم اس حوالے سے طالبان کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

 

شہروز اظہر 2018 سے ویب جرنلسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز سے ماس کمیونیکیشن میں بی ایس کیا ہے۔ مسٹر اظہر اس سے قبل معروف چینلز کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور اب جی این این کے ساتھ بطور سینئر کنٹینٹ رائٹر وابستہ ہیں۔

صحت

کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کی علامات کیا ہیں؟

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیبل ڈیزیز جنوبی افریقا نے رواں ماہ 25 نومبر کو کورونا کی بی.1.1.529 قسم کا اعلان کیا تھا۔ اس دریافت کے بعد امریکا، آسٹریلیا، یورپ اور ایشیا کے کئی ملکوں نے سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

پر شائع ہوا

Muhammad Akram

کی طرف سے

کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کی علامات کیا ہیں؟

کیپ ٹائون:  جنوبی افریقا کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کی علامات بہت معمولی ہیں۔ اس وائرس سے چالیس سال کی عمر تک کے افراد کو متاثر ہو رہے ہیں۔

جنوبی افریقا کے شعبہ صحت کی سربراہ ڈاکٹر اینجلیک کوٹزی نے بتایا ہے کہ اومیکرون کی علامات ڈیلٹا ویرئنٹ سے بہت مختلف ہیں۔ جو مریض علاج کیلئے لائے گئے ان کو گلے میں خراش، خشک کھانسی، ہلکا درد، انتہائی تھکاوٹ اور پٹھوں میں کھنچائو کی شکایت تھی۔

ڈاکٹر کوٹزی کا کہنا تھا کہ ایسی علامات عام طور پر عام وائرل انفیشکن سے متاثر مریضوں میں ہوتی ہیں۔ ایسے مریضوں کا گھر پر ہی علاج معالجہ کیا جا سکتا ہے۔ جن لوگوں کا تجزیہ کیا گیا ان میں سے پچاس فیصد نے کورونا کی ویکسی نیشن ہی نہیں کرائی تھی۔

دوسری جانب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا کی نئی قسم اومیکرون کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے لوگوں سے احتیاط کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ کتنا شدید ہے؟ ابھی اس کو سمجھنے میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیبل ڈیزیز جنوبی افریقا نے رواں ماہ 25 نومبر کو کورونا کی بی.1.1.529 قسم کا اعلان کیا تھا۔ اس دریافت کے بعد امریکا، آسٹریلیا، یورپ اور ایشیا کے کئی ملکوں نے سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

دنیا کی بڑی ایئر لائن کمپنیوں نے اومیکرون کے پھیلائو کو روکنے کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھاتے ہوئے جنوبی افریقا سے آنیوالے مسافروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دیگر ملکوں پر بھی ایسی سفری پابندیاں عائد ہو سکتی ہے، اگر ایسا ہوا تو عالمی دنیا کا نظام ایک بار پھر رک جائے گا۔

اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے حصص گرنا شروع ہو چکے ہیں۔ تاہم گذشتہ روز اس میں بہتری دیکھی گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر اومیکرون کم خطرناک ہوا تو صورتحال پھر نارمل ہو سکتی ہے۔

امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیرمی پائول نے کورونا کی نئی قسم کی دریافت کے بعد غیر یقینی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو مہنگائی کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے سینیٹ میں دیئے گئے اپنے بیان میں کہا کہ اومیکرون کے پیدا ہونے معاشی سرگرمیاں اور روزگار ایک بار پھر خطرے میں پر چکا ہے۔

جیرمی پائول کا کہنا تھا کہ اومیکرون کا پھیلائو نہ روکا گیا تو سپلائی چین شدید متاثر جبکہ لیبر مارکیٹ سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب عالمی معیشت کی درجہ بندی کرنے والے اداروں موڈیز اور فچ ریٹنگز نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اومیکرون کی آمد نے معاشی بحالی کے امکانات کو شدید متاثر کیا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ ممکن ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے ایک بیان میں عوام سے کہا ہے کہ انھیں بالکل بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اس نئی قسم کے کورونا کے تدارک کیلئے میڈیسن کمپنیوں کیساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم لاک ڈاؤن نہیں نافذ کریں گے تاہم ویکسی نیشن، بوسٹر شاٹ لگوانا اور ماسک پہننا بہت ضروری ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پاکستان کی او آئی سی کو افغان صورتحال پر اسلام آباد میں اجلاس کرنے کی پیشکش 

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے  کہ ہم نے او آئی سی کو 17 دسمبر 2021 کو اسلام آباد میں اجلاس کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے، ہم پراعتماد ہیں کہ او آئی سی رکن ممالک اس پیشکش کی تائید کریں گے۔

پر شائع ہوا

Umar Nawaz

کی طرف سے

پاکستان کی او آئی سی کو افغان صورتحال پر اسلام آباد میں اجلاس کرنے کی پیشکش 

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان او آئی سی کا بانی رُکن ہے، اسلامی امہ کا حصہ ہونے کی حیثیت سے ہم افغانستان کے عوام کے ساتھ اخوت وبھائی چارے کے دائمی برادرانہ رشتوں میں بندھے ہیں۔

شاہ محمود قریشی  نےکہا کہ آج ہمارے افغان بھائیوں اور بہنوں کو ہمیشہ سے بڑھ کر ہماری ضرورت ہے، آپ آگاہ ہیں کہ افغانستان اس وقت سنگین انسانی صورتحال سے دوچار ہے۔

 وزیر خارجہ نے کہا کہ لاکھوں افغان جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن کو خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاءکی فراہمی کی قلت کی بناءپر ایک غیریقینی مستقبل کا سامنا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سردیوں کی آمد نے اس انسانی المیہ کو مزید گھمبیر بنادیا ہے، او آئی سی کو افغان بھائیوں کی مدد کے لئے آگے بڑھنا ہوگا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کی ہماری اجتماعی کوششوں کو تیز کرنا ہوگا، انہیں فوری اور مسلسل مدد فراہم کرنا ہوگی۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کی صورتحال پر او آئی سی کی وزرا خارجہ کونسل کا پہلا غیرمعمولی اجلاس جنوری 1980 میں اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، افغان عوام کے ساتھ دائمی بھائی چارے اور ان کی حمایت میں اگلے ماہ ایک بار پھر ہم اسلام آباد میں جمع ہوں گے۔

 

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وزیراعظم کی زیرصدار ت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہو گا۔اجلاس میں ملکی سیاسی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ 

پر شائع ہوا

Asma Rafi

کی طرف سے

وزیراعظم کی زیرصدار ت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت  اجلاس میں کابینہ  14 نکاتی ایجنڈے پر غور کرے گی ۔ اپوزیشن جماعتوں سے نمٹنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز میں سی ای اوز اور ایم ڈیز کی خالی آسامیوں بارے بریفنگ بھی  ایجنڈے میں شامل ہے ۔ 

اجلاس میں نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2019 کے قانون میں ریلیکسیشن کی منظوری بھی شامل ہے ، قانون میں ترمیم کے لیے سیرین، ایر بلیو، پی آئی اے سی ایل اور پرنسلے جیٹس کمپنیوں نے نظرثانی کی درخواست کی تھی۔ 

کابینہ اجلاس میں سول ایوی ایشن کے رول 68 میں طیاروں کی پرواز کی اونچائی سے متعلق غور کیا جائے گا۔ تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے افسران کے لیے گاڑیوں کی درآمد سکیم  کی منظوری  ، تبلیغی ویزوں پر ملک میں داخلے اور ویزوں میں توسیع کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل ہے ۔ 

کابینہ اجلاس میں فارما سوٹیکل کمپنیوں کے لیے ادویات کی تیاری اور پروموشن سے متعلق کابینہ کو بریفنگ دی جائے گی۔

اجلاس میں ای او بی آئی کے چیئرمین کی کنٹریکٹ پر تعیناتی کی منظوری دی جائے گی ۔ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے نئے لائسنس کے اجرا، پرانے لائسنس کے خاتمے اور منتقلی کی منظوری دی جائے گی۔

کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے فیصلوں کی توثیق کی جائے گی ،  کابینہ کو معاشی اعشاریوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

اجلاس میں پنجاب ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو مویشیوں کے لیے فرانس سے مونٹانائیڈ آئل درآمد کی اجازت دی جائے گی۔ 

کابینہ پریس کونسل آف پاکستان اور ٓئی ٹی این ای کے چیئرمین کی تقرری کے لیے سلیکشن بورڈ کی منظوری دے گی ۔ وفاقی کابینہ تیونس (Tunisia ) کو کرونا سے نمٹنے کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کی منظوری دے گی ۔

اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے فیصلوں کی توثیق بھی ایجنڈے میں شامل ہے ۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll