Advertisement
تجارت

پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پراُمید

پیرس : فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا تین روزہ ورچوئل اجلاس آج سے شروع ہوگا جس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کیخلاف پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 6 years ago پر Feb 23rd 2021, 4:33 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

تفصیلات کے مطابق  اجلاس سے قبل ایف اے ٹی ایف نے تمام ممالک کی مجموعی کارکردگی  کا جائزہ لیا  ہے۔ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے، گرے لسٹ میں برقرار رکھنے یا گرے لسٹ سے نکالنے سمیت تمام آپشنز پر بات چیت ہوگی۔ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے اقدامات میں مزید بہتری دکھائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق   پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو قابل ذکر اقدامات میں پیش رفت کی رپورٹ بھجوا رکھی ہے، رپورٹ میں منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام  سے متعلق اقدامات شامل ہیں ۔  27 نکات پر عملدرآمد  مکمل  کرنے اور 6 نکات پر جاری پیشرفت کو جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے،پاکستان نے 27 میں سے 21 نکات پر مکمل عمل درآمد کے دستاویزی ثبوت حکام کے حوالے کر دیئے ہیں۔باقی ماندہ 6 نکات پر اہم پیشرفت کی یقین دہانی کروائی ہے  اوران 6 نکات کے 50 سے 70 فیصد امور پر عمل مکمل ہو چکا ہے۔  گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان نے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد کیا ہے۔ پاکستان کے متعلق فیصلہ 27 نکاتی ایکشن پلان کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں ترکی، چین اور ملائشیا نے پاکستان کو یقین دہانی کروارکھی ہے، ان ممالک کے ووٹوں کے بغیر پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جاسکتا، اجلاس کے فیصلوں کا اعلان 25 فروری کو کیا جائے گا۔

 خیال رہے کہ پاکستان کا نام جون 2018 سے ایف اے ٹی ایف کی گِرے لسٹ میں شامل ہے۔

Advertisement