Advertisement

پی سی بی چیف ایگزیکٹو وسیم خان نےاستعفی دے دیا  :ذرائع

لاہور : ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں ۔ 

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Sep 29th 2021, 2:15 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پی سی بی چیف ایگزیکٹو وسیم خان نےاستعفی دے دیا  :ذرائع

جی این این کے مطابق وسیم خان کا استعفی آج گورننگ بورڈ اجلاس میں پیش کیا جائے گا ۔

فروری 2019 میں وسیم خان نے مینجنگ ڈائریکٹر پی سی بی کا  عہدہ سنبھالا تھا ۔ وسیم خان کے پی سی بی کے  ساتھ طے پانے والے معاہدے کی مدت  فروری 2022 میں  ختم ہونی  تھی۔ سابق کرکٹر رمیز راجہ نے پی سی بی چیئرمین منتخب ہوجانے کے بعد وسیم خان سے ملاقات کی تھی جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت ہوئی تھی۔ ذرائع کا ملاقات کے بارے مہں کہنا تھا کہ رمیز راجہ نے وسیم خان کے مستقبل سے متعلق فیصلے کے لیے 2 ماہ کا وقت لیا تھا۔

وسیم احمد خان 1995سے 2001 تک  واروکشائر، سیسیکس اور ڈربی شائر کی طرف سے کاؤئنٹی کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ وسیم خان انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں ۔  وہ دنیا کے 10 بہترین بزنس اسکولوں میں سے ایک ’واروک بزنس اسکول سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں اور خود انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ 

وسیم خان نے 58 فرسٹ کلاس میچوں میں 5 سنچریوں اور 17 نصف سنچریوں کی مدد سے 2 ہزار 835 رنز بنائے جس میں ان کا زیادہ سے زیادہ اسکور 181 رنز تھا۔

انہیں 2013 میں انگلش کرکٹ میں اعلیٰ خدمات پر ملکہ برطانیہ کی جانب سے ایم بی ای ایوارڈ (آرڈر آف برٹش ایمپائر) سے نوازا گیا تھا اور اس کے 2 سال بعد انہیں لیسٹر شائر کاؤنٹی کرکٹ کلب کی جانب سے چیف ایگزیکٹو مقرر کیا گیا اور وہ انہوں نے وہاں ایک کامیاب دور گزارا۔

2005 میں انہیں 50 ملین ڈالر لاگت کے کمیونٹی ڈویلپمنٹ منصوبے کی قیادت سونپی گئی جسے انگلینڈ اینڈ ویلز کے 11ہزار اسکولوں کے 25 لاکھ بچوں کے لیے کام کرنا تھا۔ وہ اسپورٹس انگلینڈ کے بورڈ میں بھی شامل ہیں جو برطانیہ کے 55 کھیلوں کے لیے پالیسی سازی کرتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ پرنس ٹرسٹ کرکٹ گروپ کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔

وسیم خان نے 7 سال تک انگلش کرکٹ بورڈ کے انسداد کرپشن اور انٹیگریٹی یونٹ کے لیے بھی خدمات انجام دیں اور حال ہی میں انہیں انگلش کرکٹ بورڈ نے ایک ورکنگ گروپ کی ذمے داری سونپی تھی جسے 2020 کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری کے لیے تجاویز مرتب کرنی تھیں۔

اس کے علاوہ وسیم خان کی کتاب کو 2006 میں وزڈن نے سال کی بہترین کتاب قرار دیا تھا۔

خبر میں مزید تفصیل شامل کی جارہی ہے ۔۔۔

Advertisement