جی این این سوشل

ٹیکنالوجی

لاہور کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند 

اسلام آباد: وزارت داخلہ نے لاہور کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس  بند کرنے کی ہدایت کردی۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

لاہور کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ  سروس بند 
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق وزارتِ داخلہ نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ بند کرنےکی ہدایت کردی ۔ وزارت داخلہ کی جانب سے انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی ہدایت ایک کالعدم جماعت کےاحتجاج کے باعث کی گئی ہے۔

وزارت داخلہ نے پی ٹی اے کو لاہور کے علاقے سمن آباد، شیرا کوٹ اور نواں کوٹ ، گلشن راوی، سبزہ زار اور اقبال ٹاؤن میں بھی فوری طور پر انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے ۔ 

اسماء رفیع گزشتہ 8سالوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، اس عرصے کے دوران وہ پاکستان کے نامور میڈیا ہاؤسز کے مختلف شعبوں سے وابستہ رہی ہیں۔ اسما ء رفیع 2018 سے جی این این میں بطوراُردو نیوز ایڈیٹر، ریسرچر کام کررہی ہیں ۔ اس شعبے میں وہ تحقیق سے لے کر خبر کی نوک پلک سنوارنا ، سماجی اور سیاسی مسائل کو اپنے الفاظ کی طاقت کے ذریعے اُجاگر کرتی ہیں۔

صحت

فائزر نے کورونا کی امیکرون قسم کیخلاف ویکسین پر کام شروع کردیا، سی ای او

سی ای او فائزر کا کہنا ہے کہ  ہم کورونا کے امیکرون ویرینٹ کے خلاف ویکسین پر کام شروع کردیا ہے۔

پر شائع ہوا

Ali Raza

کی طرف سے

فائزر نے کورونا کی امیکرون قسم کیخلاف ویکسین پر کام شروع کردیا، سی ای او

بورلا نے غیرملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ان کی کمپنی نے امیکرون  ویریئنٹ کے خلاف موجودہ ویکسین کی جانچ شروع کردی ہے۔

بورلا نے کہا ، "مجھے نہیں لگتا کہ نتیجہ یہ نکلے گا کہ ویکسین حفاظت نہیں کرتی ہیں۔" لیکن تجربے سے یہ ظاہرہوسکتا ہے کہ موجودہ شاٹس "کم حفاظت کرتے ہیں،" جس کا مطلب ہے کہ "ہمیں ایک نئی ویکسین بنانے کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے کہا، "جمعہ کو ہم نے اپنا پہلا ڈی این اے ٹیمپلیٹ بنایا، جو کہ ایک نئی ویکسین کی نشوونما کے عمل کا پہلا ممکنہ اثر ہے۔"

بورلا نے صورتحال کو اس سال کے شروع میں اس منظر نامے سے تشبیہ دی جب فائزر اور اس کے جرمن پارٹنر BioNTech نے 95 دنوں میں ایک ویکسین تیار کی جب یہ خدشات تھے کہ پچھلا فارمولا ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف کام نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ویکسین ڈیلٹا کے خلاف "بہت موثر" ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیاں 2022 میں ویکسین کی چار بلین خوراکیں تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔

خیال رہے کہ  عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا کہ امیکرون  کی نئی قسم عالمی سطح پر "بہت زیادہ" خطرہ ہے۔

بورلا نے کہا کہ وہ اس بات پر بھی "بہت پر اعتماد" ہیں کہ فائزر کی حال ہی میں منظر عام پر آنے والی اینٹی وائرل گولی اومیکرون سمیت تغیرات کی وجہ سے ہونے والے انفیکشن کے علاج کے طور پر کام کرے گی۔ فائزر کی گولی سے ہسپتال میں داخل ہونے یا موت کو تقریباً 90 فیصد تک کم کیا گیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کی علامات کیا ہیں؟

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیبل ڈیزیز جنوبی افریقا نے رواں ماہ 25 نومبر کو کورونا کی بی.1.1.529 قسم کا اعلان کیا تھا۔ اس دریافت کے بعد امریکا، آسٹریلیا، یورپ اور ایشیا کے کئی ملکوں نے سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

پر شائع ہوا

Muhammad Akram

کی طرف سے

کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کی علامات کیا ہیں؟

کیپ ٹائون:  جنوبی افریقا کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کی علامات بہت معمولی ہیں۔ اس وائرس سے چالیس سال کی عمر تک کے افراد کو متاثر ہو رہے ہیں۔

جنوبی افریقا کے شعبہ صحت کی سربراہ ڈاکٹر اینجلیک کوٹزی نے بتایا ہے کہ اومیکرون کی علامات ڈیلٹا ویرئنٹ سے بہت مختلف ہیں۔ جو مریض علاج کیلئے لائے گئے ان کو گلے میں خراش، خشک کھانسی، ہلکا درد، انتہائی تھکاوٹ اور پٹھوں میں کھنچائو کی شکایت تھی۔

ڈاکٹر کوٹزی کا کہنا تھا کہ ایسی علامات عام طور پر عام وائرل انفیشکن سے متاثر مریضوں میں ہوتی ہیں۔ ایسے مریضوں کا گھر پر ہی علاج معالجہ کیا جا سکتا ہے۔ جن لوگوں کا تجزیہ کیا گیا ان میں سے پچاس فیصد نے کورونا کی ویکسی نیشن ہی نہیں کرائی تھی۔

دوسری جانب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا کی نئی قسم اومیکرون کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے لوگوں سے احتیاط کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ کتنا شدید ہے؟ ابھی اس کو سمجھنے میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیبل ڈیزیز جنوبی افریقا نے رواں ماہ 25 نومبر کو کورونا کی بی.1.1.529 قسم کا اعلان کیا تھا۔ اس دریافت کے بعد امریکا، آسٹریلیا، یورپ اور ایشیا کے کئی ملکوں نے سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

دنیا کی بڑی ایئر لائن کمپنیوں نے اومیکرون کے پھیلائو کو روکنے کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھاتے ہوئے جنوبی افریقا سے آنیوالے مسافروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دیگر ملکوں پر بھی ایسی سفری پابندیاں عائد ہو سکتی ہے، اگر ایسا ہوا تو عالمی دنیا کا نظام ایک بار پھر رک جائے گا۔

اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے حصص گرنا شروع ہو چکے ہیں۔ تاہم گذشتہ روز اس میں بہتری دیکھی گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر اومیکرون کم خطرناک ہوا تو صورتحال پھر نارمل ہو سکتی ہے۔

امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیرمی پائول نے کورونا کی نئی قسم کی دریافت کے بعد غیر یقینی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو مہنگائی کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے سینیٹ میں دیئے گئے اپنے بیان میں کہا کہ اومیکرون کے پیدا ہونے معاشی سرگرمیاں اور روزگار ایک بار پھر خطرے میں پر چکا ہے۔

جیرمی پائول کا کہنا تھا کہ اومیکرون کا پھیلائو نہ روکا گیا تو سپلائی چین شدید متاثر جبکہ لیبر مارکیٹ سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب عالمی معیشت کی درجہ بندی کرنے والے اداروں موڈیز اور فچ ریٹنگز نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اومیکرون کی آمد نے معاشی بحالی کے امکانات کو شدید متاثر کیا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ ممکن ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے ایک بیان میں عوام سے کہا ہے کہ انھیں بالکل بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اس نئی قسم کے کورونا کے تدارک کیلئے میڈیسن کمپنیوں کیساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم لاک ڈاؤن نہیں نافذ کریں گے تاہم ویکسی نیشن، بوسٹر شاٹ لگوانا اور ماسک پہننا بہت ضروری ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

روس کا سرکون  نامی ہائپرسونک کروز میزائل کا تجربہ

روس نے سرکون  نامی ہائپرسونک کروز میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ روس کی وزارت دفاع نے تجربے کی کامیابی کا دعویٰ کیا۔

پر شائع ہوا

Ali Raza

کی طرف سے

روس کا سرکون  نامی ہائپرسونک کروز میزائل کا تجربہ

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ  روسی جنگی بحری جہاز ایڈمرل گورشیکوف سے سرکون میزائل داغا گیا، جس کے ذریعےچار سو کلومیٹر دور ایک ہدف کوکامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

 روس حالیہ کچھ عرصے سے اس ہائپر سونک میزائل کی تیاری کے تجربات میں مصروف ہے جب کہ اس کا منصوبہ ہے کہ یہ میزائل جنگی جہازوں اور آبدوزوں میں نصب کیے جائیں۔

 روس، امریکا، فرانس اور چین گزشتہ کافی عرصے سے ماچ فائیو کہلانے والے ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز کی تیاری کے تجربات کر رہے ہیں۔

پیوٹن نے 2018 میں نئے ہائپرسونک ہتھیاروں کی ایک صف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کے تقریباً کسی بھی مقام کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور امریکی ساختہ میزائل شیلڈ سے بچ سکتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll