جی این این سوشل

علاقائی

چترال سے زخمی حالت میں پکڑا جانیوالا برفانی چیتا علاج کیلئے پشاور منتقل

چترال : چترال کے وادی ارکاری سے زخمی حالت میں پکڑا جانیوالا برفانی چیتا کو پشاور منتقل کردیا گیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

چترال سے زخمی حالت میں پکڑا جانیوالا  برفانی چیتا علاج کیلئے پشاور منتقل
چترال سے زخمی حالت میں پکڑا جانیوالا برفانی چیتا علاج کیلئے پشاور منتقل

رپورٹ : فہیم اختر

چترال کے وادی ارکاری میں زخمی حالت میں پکڑے گئے نایاب جانور برفانی چیتا کومزید علاج کے لئے پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔گزشتہ دنوں چترال کے وادی ارکاری کے گاں رباط میں مقامی نوجوانوں نے ایک زخمی برفانی چیتے کو اس وقت پکڑ لیا تھا جب وہ پہاڑی سے گاں کے قریبی جنگل میں گر گیا ۔ مقامی شخص نے برفانی چیتے کو زخمی حالت میں چلتا دیکھا اور اسے فوراً پکڑ کر اپنے گھر لے گیا اور ابتدائی علاج سمیت مناسب انتظامات کا بندوبست کیا اور محکمہ جنگلی حیات کے اہلکاروں کو زخمی برفانی چیتے سے متعلق اطلاع کردی۔ جس کے بعد مقامی کمیٹی برائے تحفظ اور متعلقہ محکمہ متحرک ہوگیا اور برفانی چیتے کو اپنی تحویل میں لیکر طبی امداد کا آغاز کردیا ہے۔

چترال میں برفانی چیتے کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سنو لیپرڈ فانڈیشن کے علاقائی پراجیکٹ منیجر شفیق اللہ خان نے زخمی برفانی چیتے کے حوالے سے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ برفانی چیتے کا پچھلا دھڑا زخمی ہے اور گہری چوٹیں آئی ہیں جس کی وجہ سے وہ مفلوج ہوگیا ہے جس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ برفانی چیتا کافی اونچائی سے نیچے گر گیا ہے اور ممکن ہے کہ یہ کسی شکار کا پیچھا کررہا تھا۔

یہ واقعہ چترال کے وادی ارکاری کے گاں رباط میں ہفتے کی صبح پیش آیا ہے۔جہاں پر مقامی افراد نے ابتدائی ریسکیو کرکے محکمہ جنگلی حیات کا اطلاع کردی۔ چترال کے دورافتادہ اور پہاڑوں سے گھرے گاں تک پہنچنے میں محکمہ جنگلی حیات کا عملہ شام تک وہاں پہنچ گیا اور اپنی حفاظتی تحویل میں لیکر ویٹرنری ہسپتال پہنچادیا ۔ طبی عملے کے مطابق برفانی چیتا کئی فٹ اونچائی سے گر گیا ہے جس کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی پہ چوٹیں آئی ہیں۔زخمی ہونے کی وجہ سے برفانی چیتا چلنے پھرنے سے قاصر ہے ۔

ویٹرنری ہسپتال چترال میں سینئر ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر شیخ احمد کے مطابق برفانی چیتے کی عمر 4سال ہے اور جنس کے لحاظ سے مادہ ہے۔ زخمی ہونے کی وجہ سے برفانی چیتے کے پچھلے دھڑے سے بال بھی اکھڑگئے ہیں ۔ ویٹرنری ہسپتال چترال میں ابتدائی ایگزامنیشن کے بعد زخمی برفانی چیتے کو مزید طبی سہولیات کے لئے پشاور منتقل کردیا گیا ہے ۔

ضلعی انتظامیہ نے برفانی چیتے کو بروقت بچانے پر جنگلی حیات اور مقامی رضاکاروں کو شاباشی دیتے ہوئے بتایا ہے کہ نایاب جانوروں کے تحفظ اور بقاءکے لئے ہم سب کو اسی طرح مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس امر کی بھی تصدیق کردی کہ زخمی برفانی چیتے کو مزید علاج معالجے کے لئے پشاور منتقل کردیا گیا ہے جس کی تجویز چترال کے ماہرحیوانات نے دی تھی۔

برفانی چیتے کا تعلق جانوروں کے اس گروہ سے ہے جو بلندی پر رہتے ہیں اور منفی درجہ حرارت پر بسیرا کرتے ہیں ۔ برف سے ڈھکی چوٹیوں پر یہ شکار کے زریعے اپنے خوراک کا بندوبست کرتے ہیں۔ بعض اوقات خوراک کی قلت کے باعث یہ جانور آبادی کی طرف بڑھتا ہے اور مال مویشی پر حملہ آور ہوتا ہے۔ خیبرپختونخواہ کا ضلع چترال اور انتظامی صوبہ گلگت بلتستان کو برفانی چیتے کا مسکن قرار دیا جاتا ہے جہاں پر یہ نایاب اور قیمتی جانور برفیلے چوٹیوں پر اپنا گزراوقات کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں اکثر اوقات لوگ برفانی چیتے کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کرتے ہیں جبکہ بعض غیر سرکاری تنظیموں نے بالائی علاقوں اور چوٹیوں پر خفیہ کیمرے بھی نصب کردئے ہیں جن کے زریعے ان کی حرکات کو محفوظ کیا جاتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق چترال میں برفانی چیتے کی تعداد صرف 36ریکارڈ کی گئی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ برفانی چیتا انتہائی نایاب جانوروں میں شامل ہوتا ہے اور اس کے تحفظ اور بقاءکے لئے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

نایاب جانوروں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے اہلیان چترال کی جانب سے برفانی چیتے کو تحفظ دینے کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کے زریعے اہلیان چترال نے ثابت کردیا کہ ان کے ہاں نایاب اور قیمتی جانوروں سے متعلق شعور وآگاہی پائی جاتی ہے اور ان جانوروں کے تحفظ کے لئے کام کرتے ہیں۔

ادھر چترال سے تعلق رکھنے والے مقامی جوانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ برفانی چیتے کو مکمل علاج کے بعد دوبارہ اس کے قدرتی مسکن یعنی چترال کے گاں رباط میں چھوڑ دیا جائے اور اسے کسی چڑیا گھر کے پنجرے کی نذر نہ کیا جائے۔

پاکستان

نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری کاافتتاع کرنا باعث فخر ہے،وزیراعظم

نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری پاکستان چین دوستی کامنہ بولتا ثبوت ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری کاافتتاع کرنا باعث فخر ہے،وزیراعظم

کراچی: وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری پاکستان اور چین دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری کاافتتاع کرنا باعث فخر ہے۔

نیوکلیئرکے تھری منصوبے نے نوازشریف دور میں حتمی شکل اختیار کی تھی، امید ہے سی پیک کے جو منصوبے ماضی میں تعطل کاشکار ہوئے دوبارہ بحال ہونگے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ دیامر، بھاشا اور داسو ڈیم کی تکمیل میں 5سال لگ سکتے ہیں،پاکستان میں 60 ہزارمیگاواٹ ہائیڈل پاور کی پیداواری صلاحیت ہے،اللہ تعالی نے پاکستان کو بہت سے وسائل سے نوازا ہے۔

 امید ہے دوست ملک چین فی میگاواٹ کی قیمت کم کرے گا، توانائی کی ضرورت پوری کرنے میں پن بجلی کردار اداکر سکتی ہے، داسو ڈیم منصوبے پر کام جاری ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

جنگی جنون یا خوف میں مبتلا؟ بھارت نے دفاعی بجٹ میں 13 فیصد اضافہ کر دیا

حکومت فوجی آلات و اسلحہ سازی میں خود انحصاری کو فروغ دینا چاہتی ہے،بھارتی وزیر خزانہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جنگی جنون یا خوف میں مبتلا؟  بھارت نے دفاعی بجٹ میں 13 فیصد اضافہ کر دیا

نئی دہلی: مودی سرکار نے پاکستان اور چین کیساتھ سرحد پر تنازعات اور جھڑپوں سے نمٹنے کیلئے سالانہ دفاعی بجٹ میں 13 فیصد اضافہ کردیا۔

بھارت کی وزیر خزانہ نرملا سیتھارمن نے 550 ارب ڈالر کے بجٹ کا اعلان کیا جس میں 73 ارب ڈالر دفاع کی مد میں رکھے گئے ہیں، اسلحے کی درآمدات کیلئے بھارت زیادہ تر انحصار اپنے دیرینہ پارٹنر روس پر کرتا ہے جبکہ دیگر اسلحہ امریکا، فرانس اور اسرائیل سے خریداجاتا ہے۔

بھارتی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت فوجی آلات و اسلحہ سازی میں خود انحصاری کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت دنیا میں اپنی فوج پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پشاور سانحہ، ایک ایک شہید کا بدلہ لیں گے:آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری

پشاور سانحہ کے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پشاور سانحہ، ایک ایک شہید کا بدلہ لیں گے:آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری

پشاور: آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم پشاور سانحہ کے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے،ایک ایک شہید کا بدلہ لیں گے۔
 
آئی جی خیبرپختونخوا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے،میرے بچوں کو احتجاج پر اکسانا ہماری تکالیف میں اضافہ کررہاہے، 3دن میں صرف  3گھنٹے سویا ہوں، پشاور دھماکے کے بعدافسران سمیت ہم سب  غمزدہ ہیں۔

ہم نے وردی پہنی ہے لیکن ہم بھی انسان ہیں،میں کوتاہی کا ذمہ دار اہلکاروں کو نہیں بلکہ خود کو سمجھتا ہوں، یہ جنگ خون کی جنگ ہے، محافظ ہی تحفظ کی بات کریں تو کیسے چلے گا؟

ہم دہشتگردوں کے نیٹ روک کے قریب ہیں، حملہ آور پولیس یونیفارم میں تھا چہرے پر ہیلمٹ اور ماسک پہن رکھا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll