جی این این سوشل

ٹیکنالوجی

واٹس ایپ صارفین کیلئے خوشخبری ، نیا فیچر متعارف کرادیا

اب لفظوں کی ضرورت نہیں ، وٹس ایپ  صارفین جذبات کا اظہار کرسکیں گے ایموجیز کے ذریعے ،صارفین کی سہولت کےلئےوٹس ایپ  نے نیا فیچرمتعارف کرادیا ۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

Whats app
Whats app

رپورٹ کے مطابق وٹس اپ نے سب سے پہلے یہ ایموجیز آئی او ایس یعنی ایپل صارفین کے لئے بیٹا ورژن میں متعارف کرائے تھے تاہم اب اسے بیٹا ورژن میں اینڈ رائڈ صارفین کے لئے بھی فراہم کردیا گیا ہے اورجلد ہی اسے تمام  صارفین کے لئے پیش کردیا جائے گا،صارفین کو سیٹنگز میں جاکر  نوٹیفکیشن  بٹن میں جانا ہوگا جہاں جا کر اس فیچر کو ان ایبل یا ڈس ایبل  کیا جاسکتا ہے.

خیال رہے اس سے قبل وٹس ایپ نے صارفین کی پروفائل تصویر کی پرائیوسی سے متعلق تبدیلیاں  لانے کا اعلان کیا تھا ۔فی الحال واٹس ایپ کی پروفائل تصویر کے لئے تین آپشنز رکھے گئے ہیں جن میں ایوری ون یعنی سب کو تصویر دیکھنے کی اجازت ہے۔اب صارفین کے پاس آپشن ہوگا کہ وہ منتخب لوگوں کو تصویر دیکھنے کی اجازت دے سکیں گے۔

شہروز اظہر 2018 سے ویب جرنلسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز سے ماس کمیونیکیشن میں بی ایس کیا ہے۔ مسٹر اظہر اس سے قبل معروف چینلز کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور اب جی این این کے ساتھ بطور سینئر کنٹینٹ رائٹر وابستہ ہیں۔

دنیا

بھارت اور چین کی کشیدگی کم نہ ہوئی ، اروناچل پردیش کے محاذ پر فوجی تیاریاں

چین نے 30 دسمبر کو انڈیا کی ریاست اروناچل پردیش کے 15 اضلاع، پہاڑوں اور دریاؤں کے نام بدل کر چینی نام دیے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ نام چین کے اقتدار اعلیٰ اور تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے بدلے گئے ہیں اور اب یہی نام چین کے قومی نقشے اور نصابی کتابوں میں استعمال ہوں گے۔

پر شائع ہوا

Shehroz Azhar

کی طرف سے

بھارت اور چین کی کشیدگی کم نہ ہوئی ، اروناچل پردیش کے محاذ پر  فوجی تیاریاں

انڈیا کی مغربی سرحد پر واقع لداخ میں چین اور انڈیا کے ہزاروں فوجی گذشتہ ڈیڑھ برس سے پورے جنگی ساز و سامان کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد بھی کشیدگی ختم کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

جبکہ کشیدگی کے اس ماحول میں اب شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے محاذ پر بھی دونوں افواج غیر معمولی جنگی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

چین نے 30 دسمبر کو انڈیا کی ریاست اروناچل پردیش کے 15 اضلاع، پہاڑوں اور دریاؤں کے نام بدل کر چینی نام دیے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ نام چین کے اقتدار اعلیٰ اور تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے بدلے گئے ہیں اور اب یہی نام چین کے قومی نقشے اور نصابی کتابوں میں استعمال ہوں گے۔

مختلف مقامات کو چینی نام دینے کا یہ اعلان چین نے نئے بارڈر لینڈ قانون کے نفاذ سے دو روز پہلے کیا۔
اس نئے قانون کے تحت چین کی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ان خطوں کو چین کے اقتدار اعلیٰ میں لانے کے اقدامات کرے جن پر چین کا دعویٰ ہے۔ مگر انڈیا نے اروناچل پردیش کے علاقوں کو چینی نام دینے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ ’نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدل جاتی۔‘

اروناچل پردیش انڈیا کے شمال مشرق میں ملک کی آخری ریاست ہے۔ اس ریاست کا ایک ہزار کلومیٹر کا علاقہ چین کی سرحد سے ملتا ہے۔
اس ریاست کے بیشتر خطے پر چین اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ مگر ان دعوؤں اور جوابی دعوؤں کے باوجود یہ خطہ ماضی میں مجموعی طور پر پُرامن رہا ہے۔
لیکن ڈیڑھ برس قبل وادی گلوان میں انڈین اور چینی افواج کے درمیان خونریز ٹکراؤ کے بعد صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔
چند ہفتے قبل انڈیا کے ایک ٹی وی چینل نے خبر دی کہ چینی افواج نے اروناچل کی سرحد کے اندر فوجی مقاصد کی غرض سے ایک بڑا گاؤں تعمیر کر لیا ہے۔

گذشتہ مہینے امریکہ کے محکمۂ دفاع نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ چین کی فوج نے ارونا چل پردیش کے اندر بعض مقامات پر نئے فوجی ٹھکانے اور دیہات تعمیر کیے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی افواج سرحد کے قریب بڑے پیمانے پر فوجی نوعیت کی تعمیرات میں مصروف ہیں۔   

حکمراں جماعت بی جے پی کے سرحدی خطے میچوکا کے رکن پارلیمان تپیر گاؤ ایک عرصے سے حکومت کو چینی فوجی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 1962 کی جنگ کے بعد سے چین اروناچل پردیش کے خطے پر قبضہ کرتا گیا۔ میں نے کئی بار اس کے بارے میں آواز اٹھائی لیکن کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اب اس نے ایک نیا سرحدی قانون پاس کیا ہے۔ اس کے تحت وہ جس زمین پر قابض ہے اور جس پر اس کا دعویٰ ہے وہ اس کی ملکیت ہو گی۔
پاسی گھاٹ کے رکن اسمبلی نینانگ ایرنگ کا کہنا ہے کہ چین سے تعلقات بہت اچھے ہوا کرتے تھے لیکن سنہ 2017 میں ڈوکلام اور جون 2020 میں لداخ میں فوجی ٹکراؤ کے بعد چین کا رویہ بدل گیا ہے۔ اب اس میں جارحیت آ گئی ہے۔ چینی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول پر بڑی تیاریاں کی ہیں۔ انڈیا نے بھی اس کے جواب میں توپیں، بھاری بندوقیں اور دوسرے ہتھیار سرحد پر پہنچا دیے ہیں۔  

اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں گذشتہ کئی ماہ سے فوجی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ لیکن دور دراز کا علاقہ ہونے کے سبب وہاں سے مفصل خبریں باہر نہیں آ پاتیں۔   

چین کے سرحدی علاقے بہت دور دراز علاقوں میں واقع ہیں۔ یہاں آبادی بہت کم ہے۔ یہ پورا راستہ اونچے اونچے پہاڑوں اور گھنے جنگلوں سے گھرا ہوا ہے۔ دور دور تک آبادی کے کہیں آثار نظر نہیں آتے۔
راستے میں ہاؤ لیانگ نام کا ایک قصبہ ملا جو سرحد کے نزدیک ہے جہاں انڈین فوج کی بہت بڑی چھاؤنی ہے۔ شام میں ہم والنگ قصبے پہنچے۔ یہاں ہمیں رات میں قیام کرنا تھا۔ اب ہم چین کی سرحد کے قریب تھے۔ یہ پورا خطہ فوجی علاقے کی حدود کے اندر ہے۔   

سنہ 1962 کی جنگ میں چینی فوجیوں نے یہاں ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس خطے کا دفاع کرتے ہوئے ہزاروں انڈین فوجی مارے گئے تھے۔ ان کی یاد میں یہاں ایک وار میوزیم بنا ہوا ہے۔
کاہو دیہات یہاں سے کچھ ہی دوری پر ہے۔ یہ انڈیا، چین کی سرحد پر آخری سویلین آبادی ہے۔ یہاں سے کچھ ہی دور چین کی حدود میں واقع آبادی دکھائی دیتی ہے۔ ساتھ میں اونچے اونچے پہاڑ ہیں، جس پر سے ایل اے سی گزرتی ہے۔ اس پورے خطے پر فوج کی حکمرانی ہے۔
کاہو میں مشکل سے آٹھ، دس گھر ہوں گے۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ چین کے گاؤں ٹاٹو کا بہت سا علاقہ پہلے انڈیا کا تھا۔   

ایک مقامی باشندے نے خبرگام کو بتایا کہ گاؤں کے آگے‏ جو میدان دکھائی دے رہا ہے وہ انڈیا کا تھا۔ ’زمین پر قبضہ کرنے کے لیے چین پہلے گاؤں والوں کو بھیجتا ہے۔ وہ گھر اور کھیت بناتے ہیں، بعد میں چینی فوجی وہ جگہ لے لیتے ہیں۔ یوں ایک سے ڈیڑھ کلو میٹر انھوں نے لے لیا۔یوں پورا خطہ فوج کی نگرانی میں ہے۔ جو کچھ لوگ یہاں ہیں وہ یہاں کی بدلتی ہوئی صورتحال کے بارے بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہاں ہر جانب بڑے پیمانے پر فوجی سرگرمیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

لیکن  اب چین کے دعوے کے جواب میں انڈین حکومت کاہو دیہات کو ایک سیاحتی مقام میں بدل رہی ہے۔ یہاں اب ہر گھر میں سیاحوں کے ٹھہرنے کے لیے سٹے ہوم تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ خود حکومت ایک سیاحتی لاج بنا رہی ہے۔
اس لاج کے نزدیک ایک نیا فوبی پُل تعمیر کیا گیا ہے۔ اس مقام سے آگے سویلینز کو جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ آگے صرف انڈیا اور چین کی فوج پی ایل اے تعینات ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ چین نے ایل اے سی کے نزدیک بڑے پیمانے پر بیرکس، ٹاور اور فوجی اڈے تعمیر کیے ہیں۔
کاہو اور پڑوسی گاؤں کیبیتھو کے سفر کے دوران ہم نے دیکھا کہ ہر جگہ سڑک چوڑی کی جا رہی ہے۔ بھاری فوجی ساز و سامان، ٹرک، مشینری اور فوجیوں کی نقل و حرکت کے لیے پہاڑوں کو کاٹ کر نئی سڑک تعمیر کی جا رہی ہے۔ اور پہلے سے موجود سڑکوں کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔
پرانے پلوں کی جگہ درجنوں نئے پل تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ والنگ کے ایک رہائشی لکھیم سو بیلائی نے بتایا کہ چین کی طرف کافی نیا انفراسٹرکچر بنایا گیا ہے۔ اب اس طرف بھی پرانے پلوں کی جگہ نئے پل بنائے جا رہے ہیں، نئی سڑکیں بنائی جا رہی ہیں اور یہ بہت تیزی سے بنائی جا رہی ہیں۔

ہمارے ذرائع نے کیبیتھو میں ہمیں بتایا کہ انڈین فوج گذشتہ تین مہینے سے بڑے پیمانے پر اونچے اونچے پہاڑوں پر میزائل، ایم ٹرپل سیون، ہاوٹزر توپیں اور ایل-70 طیارہ شکن بھاری بندوقیں نصب کر رہی ہے۔ انجاؤ، دیبانگ ویلی، شی یومی، اپر سوبن سیری اور تاوان اضلاع میں ہوائی پٹیوں کو بڑا کیا گیا ہے۔ نئے ہیلی کاپٹرز، ڈرونز، ملٹی بیرل گنز اور راکٹ لانچرز محاذوں کے نزدیک نصب کیے جا رہے ہیں۔
چین نے اکتوبر میں ایک نئے سرحدی قانون نیو بارڈر لینڈ لا کی منظوری دی ہے۔ اس کا نفاذ یکم جنوری سے عمل میں آ گیا ہے۔ چین نے نفاذ سے محض دو روز قبل اروناچل پردیش کے پندرہ رہائشی خطوں، پاڑوں اور دریاؤں کو چینی نام دے کر انھیں تاریخی طور پر اپنا بتایا ہے۔ انڈیا نے اسے مسترد کر دیا ہے لیکن اس کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

میں نے انڈین فوج کے قومی ترجمان سے ای میل کے ذریعے اروناچل پردیش میں غیر معمولی فوجی تیاریوں کے بارے میں پوچھا۔ لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ سرحدوں پر جس طرح کی غیر یقینی صورتحال ہے اس میں کسی بھی امکان کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔
انڈین فوج نے اروناچل پردیش میں آپریشن الرٹ جاری کر رکھا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

کورونابے قابو ، نئی دہلی میں ہفتہ وار کرفیو برقرار

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کورونا کیسز میں کمی کے باوجود ہفتہ وار کرفیو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پر شائع ہوا

Shehroz Azhar

کی طرف سے

کورونابے قابو ، نئی دہلی میں ہفتہ وار کرفیو برقرار

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے کووڈ کیسز میں کمی کے بعد ہفتہ وار کرفیو اٹھانے کی سفارش کی گئی تھی جسے نئی دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے قبول نہیں کیا اور شہر میں ہفتہ وار کرفیو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ شہر میں کورونا وائرس کی صورتحال ایک مرتبہ بہتر طریقے سے قابو ہونے پر ہفتہ وار کرفیو اٹھانے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا جب کہ گورنر آفس نے مارکیٹیں کھولنے کے حوالے سے بھی حکومت کی سفارش کو ویٹو کردیا ہے۔

تاہم لیفٹیننٹ گورنر نے حکومت کی جانب سے نجی دفاتر میں 50 فیصد حاضری کی سفارش کو منظور کرلیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی میں جمعرات کے روز کورونا کے 12300 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جو گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیسز کی شرح میں 10.72 فیصد کمی تھی تاہم اس دوران 43 اموات بھی ہوئیں جو گزشتہ سال جون میں ہونے والی 44 ہلاکتوں کے بعد سب سے زیادہ نمبر ہے۔

بھارتی میڈیا کا بتانا ہےکہ نئی دہلی میں کورونا کیسز میں کمی آئی ہے اور گزشتہ چند روز میں کیسز 30 ہزار سے کم ہوکر 13 ہزار تک آچکے ہیں جب کہ گزشتہ ایک ہفتے میں کیسز 23 ہزار سے کم ہوکر 16 ہزار تک آچکے ہیں تاہم نئی دہلی میں اب بھی کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 70 ہزار ہے اور مثبت کیسز کی شرح 20 فیصد ہے۔

دوسری جانب بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 لاکھ 47 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے اور 700 اموات ہوئیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

جرم

کرہ ارض کا ٹھنڈا ہونا زمین کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق

سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ کرہ ارض کی اندرونی پرتیں ہماری توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے ٹھنڈی ہو رہی ہیں اور یہ دریافت ہمارے سیارے کے مستقبل پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

پر شائع ہوا

Shehroz Azhar

کی طرف سے

کرہ ارض کا ٹھنڈا ہونا زمین کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق

زمین تاریخی لحاظ سے بتدریج سرد ہوتی رہی ہے۔ تقریباً ساڑھے چار ارب سال پہلے جب یہ سیارہ جوان تھا تو اس وقت اس کی سطح ایک انتہائی گرم میگما لاوا کا ایک گہرا سمندر تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹھنڈا ہو کر ایسی سطح میں تبدیل ہو گیا جس پر آج ہم چلتے ہیں۔

ٹھنڈے ہونے کے دوران زمین کو ایسے کئی مراحل سے گزرنا پڑا جو آج ہماری زمین کو متحرک رکھتے ہیں جیسے کہ آتش فشاں اور پلیٹ ٹیکٹونکس

لیکن یہ اب بھی ایک معمہ ہے کہ زمین کا مرکز کتنی تیزی سے ٹھنڈا ہو رہا ہے اور یہ کب ختم ہو سکتا ہے۔

یہ سوال کلیدی ہے کیوں کہ اس سے ہم اپنے سیارے کے مستقبل کے بارے میں جان سکتے ہیں اور یہ کیسے اور کب ایک قسم کی موت کا سامنا کر سکتا ہے جو اسے مریخ جیسے غیر فعال سیاروں کی طرح بنا دے گی۔

اس سوال کا جواب دینے کا ایک طریقہ ان معدنیات کا کھوج لگانا ہے جو زمین کے مرکز اور اس کے مینٹل پرتوں کے درمیان حد بندی کرتی ہیں۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں چٹان پگھلے ہوئے کرے سے ملتی ہیں جو ان اہم حصوں میں سے ایک ہے جہاں سرد ہونے کے عمل کی شرح کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

درحقیقت اس پرت کی جانچ کرنا مشکل ہے کیوں کہ یہ ہمارے پیروں کے نیچے بہت گہرائی میں ہے اور اس کا تجزیہ کرنا مشکل ہے۔

اس کی بجائے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں لیبارٹری میں دیکھا کہ اس حد بندی کو قائم رکھنے والے مواد کس طرح حرارت پیدا کر سکتے ہیں۔ اور ان مواد کا استعمال یہ سمجھنے کے لیے کیا گیا کہ ہمارے سیارے کے اندر کیا ہو رہا ہے۔

انہوں نے معدنی مادے برجمینائٹ کا مشاہدہ کیا جو اس پرت کے زیادہ تر حصے پر مشتمل تھا اور وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ یہ حقیقت میں ان کی سوچ سے کہیں زیادہ ایصالیت رکھتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر حرارت بھی زیادہ تیزی سے کور  سے باہر نکل رہی ہے۔

اس مطالعہ پر کام کرنے والے زیورخ کے پروفیسر موتوہیکو موراکامی کا کہنا ہے یہ پیمائشی نظام ہمیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ برجمینائٹ کی حرارتی ایصالیت یا تھرمل کنڈکٹوٹی ہمارے اندازے سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔

اگر زمین زیادہ تیزی سے ٹھنڈی ہو رہی ہے تو اس عمل کے مختلف اثرات بھی تبدیل ہوں گے مثال کے طور پر پلیٹ ٹیکٹونکس کا عمل جب ہوتا ہے تو حرارت سے زمینی پرتیں گھومتی ہیں یہ توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے سست ہو سکتا ہے۔

مزید یہ کہ یہ عمل مستقبل میں اور بھی زیادہ تیز ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے برجمینائٹ ٹھنڈا ہوتا ہے یہ پوسٹ پیرووسکائٹ میں بدل جاتا ہے اور جیسے جیسے زیادہ منتقل کرنے والے مواد غالب آئیں گے، اس کی رفتار مزید بڑھ سکتی ہے۔

موراکامی کا کہنا ہے کہ ہماری تحقیق کے نتائج ہمیں زمین کے متحرک ارتقا پر ایک نیا نقطہ نظر فراہم سکتے ہیں ان نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری زمین دوسرے چٹانی سیاروں عطارد اور مریخ کی طرح توقع سے کہیں زیادہ سرد اور غیر فعال ہو رہی ہے۔

لیکن اس حوالے سے پوری کہانی ایک معمہ بنی ہوئی ہے سائنسدان امید کرتے ہیں کہ وہ زمین کے اندرونی حصے کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کریں گے اور وقت کے بارے میں مزید تفصیلی مشاہدات کو بہتر طریقے سے اجاگر کریں گے۔

اس تحقیق کو ریڈی ایٹیو تھرمل کنڈکٹویٹی آف سنگل کرسٹل برجمینائٹ ایٹ دا کور مینٹل باؤنڈری ود امپلیکیشنز فار تھرمل ایولیوشن آف دا ارتھ کے عنوان سے مقالے میں بیان کیا گیا ہے جو حال ہی میں جرنل ارتھ اینڈ پلانیٹری سائنس لیٹرز میں شائع ہوا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll