جی این این سوشل

پاکستان

لاہور: ایکسپوسنٹرویکسی نیشن مرکز کو بند کر دیاگیا

لاہور: سیکرٹری ہیلتھ کیئر عمران سکندر کا کہنا ہے کہ گھرگھرویکسی نیشن کے آغازکے بعدایکسپوسنٹرویکسی نیشن مرکزکوبندکردیاگیاہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

لاہور: ایکسپوسنٹرویکسی نیشن مرکز کو بند کر دیاگیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کےمطابق  ایکسپوسنٹرویکسی نیشن مرکز کو بند کر دیاگیا ہے۔ سیکرٹری ہیلتھ کیئر عمران سکندر کا کہنا ہے کہ گھرگھرویکسی نیشن کے آغازکے بعدایکسپوسنٹرویکسی نیشن مرکزکوبندکردیاگیاہے۔گھرگھرویکسی نیشن کی سہولت کے ساتھ ایکسپوسنٹرویکسی نیشن مرکزکے کھولے رکھنے کاجوازنہیں بنتا۔

عمران سکندر کا کہنا ہے کہ  ریچ ایوری ڈورویکسی نیشن مہم کے پہلے مرحلے کے دوران ایک کروڑچالیس لاکھ سے زائدکو ویکسین لگائی گئی  ، پنجاب میں ریچ ایوری ڈورویکسی نیشن مہم کے دوسرے مرحلے کاجلدآغازکردیاجائے گا،  عوام کی سہولت کی خاطرمحکمہ صحت کی ٹیمیں گھرگھرجاکرکوروناویکسین لگارہی ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق  ملک میں کورونا وائرس کی  چوتھی  لہر کے دوران  ملک میں  مزید 9 افراد  انتقال  کرگئے جبکہ تقریبا ایک سال بعد 176 کیسز رپورٹ ہوئے ۔ 

ملک میں کورونا سے  اموات کی تعداد 28ہزار 718 ہوگئی ہے اور مجموعی کیسز 12 لاکھ 84ہزار 365تک جاپہنچے ہیں۔  

این سی اوسی  کے مطابق پاکستان میں کوروناکے923مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ۔جبکہ چوبیس گھنٹے کے دوران  29 ہزار 530افراد کے ٹیسٹ کئےگئے گئے ۔

پاکستان

عمران خان کی وکلاء سے ملاقاتوں میں رکاوٹوں کے خلاف کیس ، تحریری حکم نامہ جاری

انی پی ٹی آئی کی وکلاء سے مشاورت کے حق میں رکاوٹوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، حکم نامہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عمران خان کی  وکلاء سے ملاقاتوں میں رکاوٹوں کے خلاف کیس ، تحریری حکم نامہ جاری

عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء سے ملاقاتوں میں رکاوٹوں کے خلاف کیس میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو وارننگ جاری کردی گئی۔

عدالت نے حکم نامہ میں قرار دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی وکلاء سے مشاورت کے حق میں رکاوٹوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، دوبارہ ایسا واقعہ رپورٹ ہوا تو عدالت فوری توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرے گی۔

حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ دوبارہ ایسے واقعے کی صورت میں آج کے آرڈر کو ہی توہینِ عدالت کا باقاعدہ نوٹس قرار دیا جائے گا، سپرنٹنڈنٹ جیل نے بانی پی ٹی آئی کی جیل ملاقاتوں کی فہرست جمع کرائی، عدالت کو بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی وکلاء سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں، عدالت کو بتایا گیا کہ وکلاء کو جیل پہنچنے کیلئے میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔۔

تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے درمیان شیشے کی رکاوٹ اور گفتگو سُننے کیلئے پولیس اہلکار کھڑے کرنے سے متعلق بتایا گیا، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی وکلاء سے ملاقات میں رکاوٹوں پر حیرت کا اظہار کیا، عدالت جیل حکام کے ایس او پیز پر عم لدرآمد کے موقف سے اتفاق کرتی ہے، وکلاء اور دیگر ملاقات کرنے والوں کی ملاقاتوں کو تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے ملاقاتوں کی فہرست دیکھنے کیلئے وقت مانگا، کیس کی سماعت 13 ستمبر تک ملتوی کی جاتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے

حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے، حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی۔

حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ کے ہوشربا اعدادو شمار سامنے آ گئے، مہنگائی کے اس دور میں بجلی کی تقسیم کار آزاد کمپنیاں (آئی پی پیز) کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ نے عوام کا خون نچوڑ لیا۔

حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی، مجموعی طور پر آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں۔

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑتے ہیں اور حکومت ایسا ہی کرتی آرہی ہے۔ گزشتہ سال آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں، یعنی بجلی خریدے بغیر 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی گئی۔ آئی پی پیز کو کی گئی کل ادائیگیوں میں 38 فیصد پیداواری لاگت آئی اور 62 فیصد کپیسٹی پیمنٹ کا انکشاف ہوا۔

افسر شاہی کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ 85 فیصد آئی پی پیز کی پیداوار 50 فیصد سے کم مگر ادائیگیاں 100 فیصد کی گئیں، صرف زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پاور پلانٹس کو ایک سال میں 46 ارب 40 کروڑ روپے کیپسٹی پیمنٹ ادا کی گئی۔حکومت کو جانب سے جنہیں بھر پور انداز میں نوازا گیا ان زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پلانٹس میں حبکو، کیپکو، ایچ سی پی سی شامل ہیں۔

4 فیصد پلانٹ فیکٹر رکھنے والے ایک پلانٹ کو 7 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی، 8 فیصد پیداوار والے نندی پور پلانٹ کو 15 ارب روپے جبکہ گنجائش سے 25 فیصد کم بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 568 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔اسی طرح 25 سے 83 فیصد تک بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 1314 ارب روپے، چائنا پاور حب جنریشن کمپنی کو 9 ماہ میں 103 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کی گئی۔

چینی کمپنی نے 5 ماہ سے کوئی بجلی پیدا نہیں کی جبکہ 4 ماہ پیداوار 18 فیصد تک رہی، ہوانینگ شانڈنگ روئی انرجی کو 9 ماہ میں 95 ارب روپے ،پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کو83 ارب روپے، پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ کمپنی کو26 ارب اور واپڈا ہائیڈل کو 76 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کی گئی، بند نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو 10 ارب روپے سے نوازا گیا۔

وزارت توانائی نے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے معاہدوں پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حبکو کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹ کی مدت مارچ 2027 کو ختم ہو جائے گی، حبکو کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔حکام کے مطابق حبکو پلانٹ فرنس آئل پر چلتا ہے، پلانٹ کو کوئلے پر چلانے کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کیپکو نے 2022 میں اپنی 25 سال کی مدت مکمل کی، کیپکو کے ساتھ بجلی کی خرید و فروخت کے معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

9 مئی کے سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا تو فاشزم مزید پھیلے گی ، ترجمان پاک فوج

خوارج اور ڈیجیٹل دہشت گردی دونوں کا ٹارگٹ فوج ہے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

9 مئی کے سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا تو فاشزم مزید پھیلے گی ، ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ 9 مئی پر کہا گیا کہ حملے ہو رہے تھے تو فوج کہا تھی، روکا کیوں نہیں، 9 مئی کے سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا تو فاشزم مزید پھیلے کی، امن و امان کی صورتحال قابو کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے فوج کی نہیں،۔خوارج اور ڈیجیٹل دہشت گردی دونوں کا ٹارگٹ فوج ہے، ڈیجیٹل دہشت گردی کو قانوں اور مانیٹرنگ سے روکنا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری  نے نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا  کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد بعض اہم امور پر افواج کا مؤقف واضح کرنا ہے، جیسا کہ علم میں ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں مسلح افواج کے خلاف منظم پروپیگنڈا، جھوٹ، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور ان سے منسوب من گھڑت خبروں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اس لیے ان معاملات پر بات کرنا ضروری ہے۔ 

انہوں  نے کہا کہ عزم استحکام آپریشن کاؤنٹر ٹیررازم کے حوالے سے ہمہ گیر اور منظم مہم ہے، یہ ملٹری آپریشن نہیں ،  22جون کو عزم استحکام آپریشن پر ایک اجلاس ہوا، اجلاس میں متعلقہ وزرا، وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز موجود تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 22جون کو اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری ہوتا ہے، ایپکس کمیٹی نے 2021کے نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان میں پیشرفت کاجائزہ لیا، ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سول اور ملٹری افسران بھی شریک تھے، اعلامیہ کے مطابق ایپکس کمیٹی میں ماضی میں کیے گئے آپریشنز کا موازنہ کیا گیا، اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی اتفاق رائے سے کاؤنٹر ٹیررازم  مہم شروع کی جائے، ایک بیانیہ بنایا گیا کہ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں، یہ قومی بقا کا ایشو ہے جس کو مذاق بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ  اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ دہشت گردی کے خلاف مہم کو عزم استحکام کے نام سے منظم کیا جائے گا، اعلامیہ میں لکھا گیا کہ ایک قومی دھارے کے تحت اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا، یہ قومی وحدت کا معاملہ ہے اس کو بھی سیاست کی نذر کیا جاتا ہے،  کیوں ایک مافیا، سیاسی مافیا اور غیرقانونی مافیا کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اس کو ہم نے ہونے نہیں دینا، یہ سیاسی مافیا چاہتا ہے کہ عزم استحکام کو متنازع بنایا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستان میں کوئی نوگو ایریا نہیں ، عزم استحکام سے متعلق 24 جون کو وزیرِ اعظم آفس سے ایک بیان جاری کیا گیا، عزم استحکام فوجی آپریشن نہیں، اس کو متنازع کیوں بنایا جا رہا ہے؟ ایک مضبوط لابی ہے جو چاہتی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے اغراض ومقاصد پورے نہ ہوں۔

 ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کا ایک مقصد دہشتگردوں اور کرمنل مافیا کے رابطے کو بریک کرنا ہے ، کاؤنٹر ٹیررازم کی مد میں اس سال سکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر اب تک 22 ہزار 409 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، اس دوران 398 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے روزانہ 112 سے زائد آپریشن افواج پاکستان، پولیس، انٹیلیجنس ایجنسی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انجام دے رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس کے دوران انتہائی مطلوب 31 دہشتگردوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، رواں سال 137 افسر اور جوانوں نے ان آپریشن میں جام شہادت نوش کیا، پوری قوم ان بہادروں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے قیمتی جانیں ملک کے  امن و سلامتی پر قربان کی ہیں۔

 لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہاکہ ہم ہر گھنٹے میں 4سے 5انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کررہے ہیں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سب سے زیادہ دہشتگردی ہے، خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کے 537فیلڈ آپریٹر ہیں ، 2014سے سنتے آرہے ہیں کہ مدارس کو ریگولرائزڈ کرنا ہے، 50فیصد سے زیادہ مدارس کا پتہ ہی نہیں کہ کون چلا رہا ہے، 16 ہزار مدارس رجسٹرڈ ہیں، اب بھی 50 فیصد مدارس رجسٹرڈ نہیں، کیا یہ فوج نے کرنا ہے؟ ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے اینٹی ٹیررایسٹ کورٹ بنائے گئے، نیکٹا کے مطابق کے پی میں اے ٹی سی کورٹس 13 اور بلوچستان میں 9 ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll