دنیا بھر میں کورونا کے وار ابھی جاری ہیں کہ اس دوران اسرائیل میں " فلورونا" کا پہلا کیس بھی سامنے آیا ہے۔


دنیا بھر میں کورونا کے مسلسل وار جاری ہیں ، اسی کے درمیان پہلی بار ایک ساتھ انسانی جسم کو متاثر کرنے والے کورونا اور فلو وائرس کا دہرا کیس سامنے آیا ہے۔
فلورونا کیا ہے؟
فلورونا کوویڈ-19 اور انفلوئنزا پر مشتمل ڈبل انفیکشن ہے، کورونا اور انفلوئنزا کے دوہرے انفیکشن کو ’فلورونا‘ کہا جا رہا ہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلورونا کورونا وائرس کی کوئی نئی قسم نہیں ہے۔بیک وقت کورونا اور فلو میں مبتلا ہونے والے کی قوت مدافعت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق بیک وقت دو بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان ہر وقت موجود رہتا ہے۔ کورونا اور انفلوئنزا سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ فوری طور ویکسینشن کرائی جائے۔
دنیا کا پہلا فلورونا کیس کہاں پایا گیا؟
حال ہی میں اسرائیل کے مقامی اسپتال میں ایک حاملہ خاتون کو داخل کیا گیا جس کے ٹیسٹ سے انکشاف ہوا کہ وہ فلورونا نامی بیماری میں مبتلا ہے۔
کیا فلورونا خطرناک ہو سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق کورونا اور فلو دونوں کے دوہرے حملے سے سنگین بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔دونوں وائرس ایک ساتھ مل کر جسم پر خطرناک اثرڈالتے ہیں اور بہت سی سنگین بیماریوں کا باعث بھی بن سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ فلورونا ہونا خطرناک ہو سکتا ہے۔
فلورونا کی وجہ سے مریض کو نمونیا، سانس لینے میں دشواری، اعضاء کا خراب ہونا، ہارٹ اٹیک، دل یا دماغ میں سوجن، فالج وغیرہ جیسی سنگین بیماریاں ہو سکتی ہیں۔
فلورونا کیسے پھیلتا ہے؟
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایک ہی وقت میں فلو اور کورونا دونوں بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔ کورونا اور فلو دونوں وائرس ان لوگوں میں پھیلتے ہیں جو قریبی رابطے میں آتے ہیں ۔ یہ دونوں وائرس سانس یا ایروسول کے ذریعے پھیلتے ہیں جو بات کرنے، چھینکنے یا کھانسنے سے خارج ہوتے ہیں۔ سانس لینے پر یہ بوندیں منہ یا ناک کے ذریعے جسم کے اندر پہنچ سکتی ہیں۔
فلورونا کی علامات کیا ہیں ؟
فلو (زکام) کی علامات عام طور پر تین سے چار دن میں ظاہر ہوتی ہیں جبکہ کورونا کی علامات ظاہر ہونے میں 2 سے 14 دن لگتے ہیں۔ فلو اور کورونا دونوں کی عام علامات تقریباً ایک جیسی ہیں کیونکہ دونوں میں کھانسی، نزلہ، بخار اور ناک بہنا جیسی علامات ہیں۔ یعنی کھانسی، زکام، بخار فلورونا کی ابتدائی عام علامات میں سے ہیں۔
علاوہ ازیں فلورونا کی سنگین علامات میں نمونیا، سانس لینے میں زیادہ دشواری، دل کے پٹھوں میں سوجن، فالج، ہارٹ اٹیک کا خطرہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان دونوں وائرس میں فرق مریض کے نمونے کی جانچ کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے۔
فلو کی جانچ کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کیا جاتا ہے جہاں وائرس کے آر این اے کی جانچ کی جاتی ہے۔ فلو اور کورونا کی جانچ کے لیے الگ الگ پی سی آر ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

میٹا کااپنے اکاؤنٹس سینٹر کو بہتر بنانے کیلئے تمام ایپس میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ
- 9 hours ago

ایرانی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سے رابطہ،عراقچی کی وفد کے ہمراہ اسلام آباد آمد متوقع
- 12 hours ago

ایران ایٹمی ہتھیا ر نہیں بنا سکتا ،بہتر ہو گا کہ ڈیل کرلے، امریکی وزیر جنگ
- 9 hours ago

اسحاق ڈار کا روسی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،دوطرفہ تعلقات ،عالمی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال
- 9 hours ago

عباس عراقچی کا اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سے رابطہ، خطے کی صورتحال اور جنگ بندی کے امور پر تبادلہ خیال
- 13 hours ago

ایران امریکہ مذکرات: عباس عراقچی نے دورہ پاکستان کا اعلان کر دیا
- 8 hours ago

سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ جاری،آج بھی ہزروں روپے سستا
- 9 hours ago

بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ آبدوز کے داخلی راستے پر پھنس گئے،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- 13 hours ago

چین کی اپنے شہریوں کو فوری ایران سے نکلنے کی ہدایت کر دی
- 14 hours ago

موسمی رحجان ’’ال نینو‘‘کی واپسی متوقع، عالمی درجہ حرارت میں خطرناک اضافے کا خدشہ
- 11 hours ago

فلم ’حق‘ کیلئےاداکارہ یمی گوتم نے 4 ماہ تک قرآن سیکھا، ڈائریکٹرکا انکشاف
- 12 hours ago

پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد سکھ برادری اور سکھ فارجسٹس کا پاکستان سے غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ
- 13 hours ago

.jpg&w=3840&q=75)

.jpg&w=3840&q=75)







.jpg&w=3840&q=75)
