جی این این سوشل

ٹیکنالوجی

حکومت نے کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی کی سفارش کردی

کراچی:اسٹیٹ بینک اور حکومت پاکستان نے کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی کی سفارش کردی ہے ۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

حکومت نے کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی کی سفارش کردی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے اور اس حوالے سے سندھ ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش کی گئی کہ کرپٹو کرنسی غیر قانونی ہے اور اس کرنسی میں کاروبار کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔

عدالت نے قانونی پہلوئوں کا جائزہ لینے کیلئے رپورٹ وزارت خزانہ اور وزارت قانون کو بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ دونوں وزارتیں 3 ماہ میں حتمی فیصلہ کریں اورپابندی لگانے کی صورت میں پابندی کی آئینی حیثیت سے بھی عدالت کو آگاہ کیا جائے ۔

جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیئے کہ کرنسی میں کاروبار کی اجازت کی صورت میں لیگل فریم ورک تیار کیا جائے، کرپٹو کرنسی کا موجودہ اسٹیٹس قانون نافذ کرنے والے ادارے خود طے کریں اور متعلقہ ادارے قانون کے مطابق کارروائی کریں ۔

پاکستان

عمران خان نے اپنے دوست کے ذریعے آصف زرداری کی منت کروائی ، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ نمبر بدل گیا ہے، اس لیے لانگ مارچ ناکام ہونے پر عمران خان سپریم کورٹ کو آواز دے رہا ہے۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

عمران خان نے اپنے دوست کے ذریعے آصف زرداری کی منت کروائی ، مریم نواز

یوم تکبیر کے موقع پر بہاولپور میں جلسے سے خطاب  کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پہلے منتیں کرکے اداوں کو سیاست میں گھسیٹتا ہے پھر انہی اداروں کو گالیاں نکالتا ہے، ادارے اس کی سیاست سے دور رہیں،سپریم کورٹ کو غیر جانبدار رہنا  ہوگا، کیا عدالتوں کا یہ کام رہ گیا ہے کہ اس کی مدد کو آئیں۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دوست کے ذریعے آصف زرداری کی منت کروائی، لانگ مارچ سے پہلے نواز شریف کی منتیں شروع کردی تھیں، انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق پنجاب کے کسی شہر میں پی ٹی آئی کا 200 سے زیادہ بندہ باہر نہیں نکلا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے عالمی دباؤ نظر انداز کر کے 5 بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 6 دھماکے کیے، نواز شریف نے اربوں ڈالر کی امداد ٹھکرا کر دنیا کو ایبسولوٹلی ناٹ کہا اور ایٹمی دھماکے کیے۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لیے کئی ملکوں نے دھمکیاں دیں، یوم تکبیر کا مطلب ہے دشمن پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا، قوم کو یوم تکبیر کی مبارک باد دیتی ہوں۔ 
 
اپنی تقریر کا شعر سے آغاز کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ  میں چلی آتی ہوں اتنی دور سے، کچھ تو نسبت ہے بہاولپور سے۔

رہنما ن لیگ ن کے کہا کہ نواز شریف نے ملک کو روشنیاں دیں، نواز شریف نے لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے دور کیے، نواز شریف نے دہشت گردی سے نجات دلائی۔

مریم نواز نے کہا کہ  پاکستان کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھنے کے سوا عمران خان نے قوم کو کچھ نہیں دیا، سوائے مہنگائی کے عمران خان نے پاکستان کو کچھ نہیں دیا، پاکستان کو کسی دشمن سے نہیں، فساد اور فتنے سے خطرہ ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ تیاری نہ ہونے کی بات کرنے والے کی آگ لگانے، پولیس والوں پر گولیاں چلانے کی تیاری پوری تھی، شہید ہونے والے پی ٹی آئی کے دو کارکنوں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرتی ہوں۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ عمران اپنے بچوں سے کہیں، تاج برطانیہ کا طوق گلے سے اتار کر برٹش پاسپورٹ پھاڑ کر آئیں، اور لانگ مارچ کی قیادت کریں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف چند مہینوں میں پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے، انقلابی پولیس کے اور ڈنڈوں کے ڈر سے دبک کر گھروں میں نہیں بیٹھ جاتے۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ عمران خان کے خلاف سازش ہوئی تھی تو سازشیوں کی منت کیوں کی تھی؟ عمران خان نے جنوبی پنجاب والوں سے جھوٹا وعدہ کیا، حکومت میں آتے ہی جنوبی پنجاب کو بھول گیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس اور چیئرمین جوڈیشل کمیشن کو خط

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان، چیئرمین جوڈیشل کمیشن اور ارکان کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سپریم کورٹ کا جج تعینات نہ کیے جانے پر اظہار تشویش کیا ہے۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس اور چیئرمین جوڈیشل کمیشن کو خط

خط میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ چیف جسٹسز اور سینئر ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی طویل روایت رہی ہے، سینئرز کو نظر انداز کرکے جونیئر جج کی روایت جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس گلزار نے متعارف کروائی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان لوگوں کو جوڑ کر رکھتا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جب بھی آئین کی خلاف ورزی کی گئی اس کا نقصان ہوا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھاتے ہیں، حلف کا اہم تقاضا ہے کہ آئینی بنیادی حقوق کا تحفظ ہو، انہیں روندا نہ جا سکے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کرتے وقت دیکھا جائے کہ وہ غیر آئینی اقدام کی مزاحمت، کالعدم قرار دینےکی صلاحیت رکھتا ہے، عدلیہ پر عوام کا اعتماد یقینی بنانا ایک لازم امر ہے، عوامی اعتماد کے بغیر عدالتی فیصلے اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن کی ٹی وی پر غلطیوں کا اعتراف دیر آید درست آید کہا جا سکتا ہے، کیا جسٹس نسیم حسن کا اعتراف سابق وزیراعظم کی زندگی واپس لا سکتا ہے؟ جسے ان کے احکامات پر موت دے دی گئی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ کسے جج بنانا ہے کسے نہیں، تاثر یہ ہے کہ ایسا بیرونی عوامل کے باعث کیا جاتا ہے، عدلیہ میں تقرریوں کے بارے میں اس تاثر کو دور کیا جانا چاہیے، اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے، فرد واحد کی جانب سے ایک نام دینا، تقرری کے لیے ووٹنگ پر مجبور کرنا، ایک ووٹ سےجج بن جانا آئین کے مطابق نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کا یہ تاثر کہ عدلیہ آزاد نہیں، اپنا احترام اور اخلاقی جواز کھو دیتی ہے، آئین ججز تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کا کہتا ہے، جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے حوالے سے ایسی کوئی پابندی نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں کمیشن کے پہلے اجلاس کا تجربہ بہت اچھا تھا، اجلاس ماضی کے اجلاسوں سے بہتر تھا کہ اختلاف کا بیج بونے کی روایت سے فاصلہ کیا گیا، توقع ہے آئندہ اجلاس میں بھی ججز تقرری کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کو دور کریں گے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام نے ججز کو منتخب کرنے کی آئینی ذمے داری ہمیں سونپی ہے، عدلیہ کو ججز تقرر کی ذمے داری آئین کے تحت ادا کرنا ہو گی، پاکستان کے عوام کو اس سے کم کچھ بھی قابل قبول نہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

جرم

بہاولنگر: پتی چوری کے الزام پردکانداروں کیجانب سےخواتین کی سرعام تذلیل

بہاولنگر کے علاقے ہارون آباد کے بازار میں دکانداروں نے خواتین پر مبینہ چوری کا الزام لگا کر  ان کی سرعام تذلیل کی اور خود ہی عدالت لگاتے ہوئے انصاف و قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

بہاولنگر: پتی چوری کے الزام پردکانداروں کیجانب سےخواتین کی سرعام تذلیل

رپورٹ کے مطابق ہارون آباد کے بازار میں دو خواتین کی جانب سے مبینہ طور پر چائےکی پتی کا پیکٹ چوری کرنے پر دکانداروں نے اپنی عدالت لگالی۔

دکاندار خواتین کو ان ہی کے دوپٹے سے باندھ کر بازار میں ننگے سرگھسیٹتے رہے اور انہیں ہراساں کرتے رہے۔

واقعےکی اطلاع پر پولیسں موقع پر تو پہنچی لیکن لیڈیز پولیسں کی عدم موجودگی میں خواتین کو پیدل تھانے لے جایا گیا۔

پولیسں کا کہنا ہےکہ خواتین پر چائے کی پتی کا پیکٹ چوری کرنےکا الزام ہے، معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائےگی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll