ویب ڈیسک : شہرۂ آفاق خطاط،مصور اور شاعر صادقین کی آج 35 ویں برسی منائی جا رہی ہے ۔ صادقین نے پوری دنیا میں اپنی مصوری اور خطاطی کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔


صادقین 30 جون 1920 کو ہندوستان کے شہر امروہہ (اترپردیش) میں پیدا ہوئے۔ان اصل نام سید صادقین حسین نقوی تھا ۔ ان کا تعلق سادات خاندان سے تھا جو فنِ خطاطی کے حوالے سے مشہورتھا ، صادقین حسین کے داد بھی فنِ خطاطی کے ماہر تھے ۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم آبائی شہر امروہہ ہی میں حاصل کی ، بعد ازاں آگرہ یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعد آپ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی ۔
پاکستان آنے کے بعد سید صادقین نے بہت ہی کم عرصے میں اپنی منفرد مصوری اور خطاطی کےجھنڈے گاڑ دیئے۔صادقین کی شہرت کا آغاز میورلز سے ہوا جو انہوں نے کراچی ایئر پورٹ،سروسز کلب ، , سینٹرل ایکسائز لینڈ اینڈ کسٹمز کلب اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی لائبریری میں بنائیں۔
1956 میں 25 برس کی عمر میں ان کے فن پاروں کی نمائش اس وقت کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے گھر پر منعقد کی گئی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی مصوری اور خطاطی کا یہ سلسلہ دنیا بھر میں پھیل گیا ۔ 1961 میں شہرہ آفاق فن پارہ "وقت کا خزانہ " تخلیق کیا جس میں 46 عظیم مفکرین ،فلسفیوں اور سائنسدانوں کی منظر کشی کی ۔صادقین نے مرزا غالب کی شاعری کو اپنے فن خطاطی اور مصوری کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔
صادقین فاؤنڈیشن کے مطابق انہوں نے خطاطی اور مصوری کے 15ہزار سے زائد نمونے تخلیق کیے۔ان کی خطاطی کے نمونے فیصل مسجد اسلام آباد ،فریئرہال کراچی،صادقین آرٹ گیلری اور دنیا کے ممتاز عجائب گھروں میں رکھے گئے ہیں ۔ مصوری اور خطاطی کے علاوہ انہوں نے شاعری بھی کی اور تقریبا 3 ہزار رباعیات تحریر کیں اور بہت کم شاعر ایسے ہیں جنہوں نے اتنی زیادہ تعداد میں رباعیات لکھی ہوں ۔ ان کی رباعیات بھی اسی قدر کمال کی ہیں جس قدر ان کی مصوری کے شاہکار کمال کا درجہ رکھتے ہیں ۔
ان کی رباعیات کا مجموعہ رباعیات صادقین خطاط اور رباعیات صادقین نقاش کے نام سے موجود ہے۔
صادقین 10فروری 1987کو57 برس کی عمر کراچی میں انتقال کرگئےتھے ۔ کراچی کے فریئر ہال کی 80 فٹ لمبی اور 35 فٹ چوڑی چھت پر پینٹنگ ان کا آخری فن پارہ تھا ۔صادقین کا فن انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 6 hours ago

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 2 hours ago

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 2 hours ago

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 9 hours ago

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 2 hours ago

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 8 hours ago

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 8 hours ago

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 8 hours ago

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 2 hours ago

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 7 hours ago

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 6 hours ago

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 9 hours ago














