نیدر لینڈ : ناروے میں برطانوی کورونا ویکسین ایسٹرا زینیکا کے استعمال کے نتیجے میں خون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات کے بعدنیدر لینڈ نے بھی ویکیسن کا استعمال عارضی طور پر روک دیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق نیدرلینڈ کی حکومت کی جانب سے ویکسین روکنے کا یہ اقدام احتیاطی تناظر میں 29 مارچ تک رہے گا ۔ ڈچ حکومت نے بیان میں کہا ہے کہ ممکنہ مضر اثرات کے ڈنمارک اور ناروے سے موصول ہونیوالی اطلاعات کے بعد احتیاط سے کام لے رہی ہے۔ یہ فیصلہ ناروے میں ویکسین کے استعمال کرنے والے افراد میں خون جمنے کی رپورٹس پر کیا گیا۔ اس سے قبل ڈنمارک، آئس لینڈ اور اٹلی، بلغاریہ اور تھائی لینڈ بھی ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک چکے ہیں۔
ڈچ حکام نے آسٹرا زینیکا کی 12 ملین خوراکوں کا پہلے سے آرڈر کر رکھا ہے اور ابھی 3 لاکھ سے زائد خوراکیں شیڈول ہیں ۔ آسٹرازینیکا ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں بلڈ کلاٹس یا خون جمنے کی اولین رپورٹس آسٹریا میں سامنے آئی تھیں، جس سے تشویش کی لہر پیدا ہوئی اور کچھ یورپی ممالک نے اس کا استعمال تحقیقات کے اختتام تک روک دیا گیا۔
شمالی اٹلی میں بھی ویکسین کا استعمال احتیاطی تدبیر کے طور پر 14 مارچ کو روک دیا گیا تھا اور وہاں اس کی خوراک لینے والے ایک ٹیچر کی موت کی وجہ کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا گیا۔
13 مارچ کو آئرلینڈ نے بھی ناروے میں ایک فرد کی ہلاکت اور 3 افراد کے ہسپتال پہنچنے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ویکسینیشن روکنے کا اعلان کیا۔ ناروے کی میڈیسینز ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 50 سال سے کم عمر 4 افراد کو یہ ویکسین استعمال کرائی گئی اور ان میں بلڈ پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہوگئی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ ویکسین استعمال کرنے والے 50 سال سے کم عمر افراد کی طبیعت اگر ویکسی نیشن کے 3 دن بعد خراب ہو اور جلد پر بڑے یا چھوٹے نیلے نشان نظر آئیں تو ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں یا طبی امداد کے لیے رجوع کریں۔
دوسری جانب برطانیہ ویکیسن کو محفوظ اور مؤثر قرار دے چکا ہے اور ایسٹرازینیکا کے ایک ترجمان نے کہا کہ کلینیکل ٹرائلز اور محفوظ ہونے کے ڈیٹا میں اس طرح کے اثر کا کوئی عندیہ سامنے نہیں آیا تھا۔ آسٹرازینیکا ویکسین استعمال کرنے والے آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت کئی ممالک نے کسی بھی قسم کے ری ایکشن کی تردید کرتے ہوئے ویکسین کے نتائج کو بہترین قرار دیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس ویکسین کااستعمال روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے یورپی میڈیسن ایجنسی نے کہا ہے کہ ایسٹرا زینیکا ویکسین کے فائدے اس کے ممکنہ نقصان سے زیادہ ہیں۔ ویکسین لگنے کے بعد خون جمنے کے کیسز کی تحقیقات جاری ہیں، یورپی ممالک ویکسین کا استعمال جاری رکھ سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ خون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات 30 لاکھ میں سے 22 افراد میں سامنے آئے تھے۔
’عمران خان کو صحت مند قرار'، عطا تارڑ نے پمز اسپتال میں معائنے اور واپسی اڈیالہ جیل منتقلی کی تصدیق کردی
- 3 دن قبل
چارٹر طیارہ حادثے کا شکار، دو پائلٹ سمیت 8 افراد ہلاک
- 3 دن قبل

لاہور: پاسپورٹ آفس سے چار ملزمان گرفتار
- 3 دن قبل
ملک میں سونے کی قیمتوں پھر بڑا اضافہ ریکارڈ
- 2 دن قبل
پنجاب: اسکولوں کے اوقات کار تبدیل، نیا شیڈول جاری
- 2 دن قبل

سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 3 دن قبل

پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئر لائنز کو اربوں ڈالر کا نقصان
- 2 دن قبل
وزیراعظم اور ملائیشین ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، دوطرفہ تعاون پر گفتگو
- 2 دن قبل
ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے قتل کا معمہ حل، والد اوربھائی نےقتل کیا
- 2 دن قبل

عمران خان کی اسپتال منتقلی، پی ٹی آئی نے حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی
- 2 دن قبل
عمران خان سخت سکیورٹی میں اڈیالا جیل سے شفا اسپتال روانہ
- 4 دن قبل
ملک بھرمیں اچانک تعطیل کا اعلان، کس دن چھٹی ہو گی؟
- 3 دن قبل







