جینیوا : خون کی پھٹکیاں بننے یا بلڈ کلاٹس کے خدشے پرکئی یورپی ممالک نے آکسفورڈ/ایسٹرازینیکا ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک دیا ہے تاہم عالمی ادارہ صحت نے ویکسی نیشن جاری رکھنے کی اپیل کردی ۔

تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ آکسفورڈ کی بنائی گئی کورونا ویکسین آسٹرازینکا کے استعمال کو نہ روکیں۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ویکسین کے استعمال سے خون میں پھٹکیاں بننے کے کوئی ثبوت نہیں ہے لہذا ویکسین کا استعمال جاری رکھنا چاہئے۔ یورپی میڈیسن ایجنسی نے کہا ہے کہ آسٹرازینیکا ویکسین کے فائدے اس کے ممکنہ نقصان سے زیادہ ہیں۔ ویکسین لگنے کے بعد خون جمنے کے کیسز کی تحقیقات جاری ہیں، یورپی ممالک ویکسین کا استعمال جاری رکھ سکتے ہیں۔
ناروے میں آسٹرا زینیکا کےاستعمال پرخون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات کے بعد آئرلینڈ نے ویکسین کا استعمال روک دیا تھا، ڈنمارک، آئس لینڈ اور اٹلی، بلغاریہ ، تھائی لینڈ بھی ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک چکے ہیں۔ اس حوالے سے آج (منگل ) کو ڈبلیو ایچ او کے ویکسین سے متعلق ماہرین بات چیت کرنے کے لئے ملاقات کر رہے ہیں۔ یورپی میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) کا اجلاس بھی اسی دن ہوگا تاہم اس کے حوالے سے فیصلہ جمعرات کو سامنے لایا جائے گا ۔
یورپ میں ویکسین لگوانے کے بعد خون کی پھٹکیاں بننے کے بہت سے واقعات پیش آرہے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عام طور پر عام لوگوں میں خون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات کی تعداد زیادہ نہیں ہیں۔ یورپی یونین اور برطانیہ میں لگ بھگ 17 ملین افراد آسٹرا زینیکا ویکسین کی ایک خوراک لے چکے ہیں ، پچھلے ہفتے تک خون کی پھٹکیاں بننے کے 40 سے بھی کم کیسز کی اطلاعات ہیں ۔
دوسری جانب برطانیہ ویکیسن کو محفوظ اور مؤثر قرار دے چکا ہے اور آسٹرازینیکا کے ایک ترجمان نے کہا کہ کلینیکل ٹرائلز اور محفوظ ہونے کے ڈیٹا میں اس طرح کے اثر کا کوئی عندیہ سامنے نہیں آیا تھا۔ آسٹرازینیکا ویکسین استعمال کرنے والے آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت کئی ممالک نے کسی بھی قسم کے ری ایکشن کی تردید کرتے ہوئے ویکسین کے نتائج کو بہترین قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ 13 مارچ کو آئرلینڈ نے بھی ناروے میں ایک فرد کی ہلاکت اور 3 افراد کے ہسپتال پہنچنے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ویکسینیشن روکنے کا اعلان کیا تھا ۔ ناروے کی میڈیسینز ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ 50 سال سے کم عمر 4 افراد کو یہ ویکسین استعمال کرائی گئی اور ان میں بلڈ پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہوگئی۔
خیال رہے کہ خون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات 30 لاکھ میں سے 22 افراد میں سامنے آئے تھے۔

دوشہریوں کی شہادت، پاکستان کا بھارتی ناظم الامورکو طلب کرکے شدید احتجاج
- 12 گھنٹے قبل

کسٹمز کی ایم-2 موٹروے پر کارروائی، 1,200 کلو چرس برآمد
- ایک دن قبل

ایشین گیمز: والی بال میں ایران کی پاکستان کو شکست، فائنل میں پہنچ گیا
- 2 دن قبل

لاہور: مبینہ اجتماعی زیادتی کی شکار لڑکی کا وطن واپسی سے انکار
- 9 گھنٹے قبل

گوگل نے نیا اے آئی ماڈل جیمنائی آرگون متعارف کرا دیا
- 2 دن قبل

بی ایس ایف کی فائرنگ، دو پاکستانی شہری جاں بحق
- ایک دن قبل

کور کمانڈرز کانفرنس: 9 مئی جیسے پرتشدد حالات کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق نمٹنے کا عزم
- ایک دن قبل
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی
- 11 گھنٹے قبل

29 ستمبر کو بھارت نے ایک اور 'فالس فلیگ آپریشن' کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
- 2 دن قبل

ہالی ووڈ اداکارجِم کیری نے تیسری شادی رچا لی
- 2 دن قبل

ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے کوریا کو شکست دیکر برانز میڈل جیت لیا
- 14 گھنٹے قبل

حکومت اپوزیشن مذاکرات: رانا ثنا اور راجا ناصرکے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
- 2 دن قبل








