اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دنیا میں عزت اس کی ہوتی ہےجوخودارہوتاہے، ہم نےایک خودارپاکستان کی طرف جانا ہے۔

ڈاکیومینٹری ڈرامہ " پانی کے پنکھ" کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جمہوریت میں 5سال بعد جو الیکشن ہوتا تھا اس وجہ سے کسی نے لانگ ٹرم پلاننگ پر دھیان نہیں دیا، چائنہ نے لانگ ٹرم پلاننگ پر دھیان دے کر ترقی حاصل کی، پاکستان کو بھی ترقی کیلئے لانگ ٹرم پلاننگ کرنی چاہیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 50سال کے بعد پاکستان میں 2بڑے ڈیم بن رہے ہیں، کوئی بھی ملک لانگ ٹرم پلانگ سے ترقی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانی کا ایک بڑا مسئلہ سامنے آنے والا ہے، ہماری کوشش ہے کہ پانی کو بچایا جائے، 90کی دہائی میں ڈیکیڈ آف ڈارکنس کا آغاز ہوا، ڈیمز بننے سے بجلی اور پانی کے مسائل میں کمی آئے گی، وقت پرڈیم بناتے تو 70ہزار میگاواٹ بجلی کی گنجائش ہوتی۔
وزیر اعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پرگزشتہ 10سال کے قرضوں کا بوجھ ہے جس کا سود دینا پڑتاہے، حکومت ملی تو پاکستان پر 25ہزار ارب روپے کے قرضے تھے، ہماری حکومت نے 11ہزار ارب روپے کے قرضے لیے۔وزیراعظم نے بتایا کہ 6ہزار ارب روپے قرضوں کےسود کی مد میں چلے گئے، روپیہ گرنے کی وجہ سے 3ہزار ارب روپے کے قرضے مزید چڑھ گئے، 2ہزار ارب روپے میں سے 800ارب روپے ٹیکس کلیکشن میں چلے گئے ، باقی پیسوں کے تحت ہم نے کورونا کے دوران احساس پروگرام شروع کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو بڑی سوچ رکھتی ہیں، ملک طویل مدتی منصوبوں سےترقی کرتےہیں،دنیا میں عزت اس کی ہوتی ہےجوخودارہوتاہے، ہم نےایک خودارپاکستان کی طرف جانا ہے۔ ماضی میں ہم نے غلط فیصلہ کرکے کسی اور کی جنگ میں شرکت کی، جب بھی آپ پریشر میں آکر کسی کی جنگ میں شرکت کریں گے تو نقصان ہی ہوگا۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک کو مضبوط کرنا ہے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے، جو پوٹینشل پاکستان میں شاید ہی دنیا میں کوئی ایسا ملک ہو جہاں اتنا پوٹینشل ہو، جب چور اور کرمنلز حکومت میں آگئے تو ملک کی تباہی شروع ہوگئی۔ ہمارے پی ٹی وی کو پورے بھارت میں دیکھا جاتا تھا۔وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں کی وجہ سے بجلی منہگی ہوئی، بجلی کے پچھلے معاہدے ایسے ہوئے کہ بجلی خرچ کریں نہ کریں، پیسے دینے پڑینگے، پچھلی حکومتوں نے ملک میں ڈیم بنانے کی بجائے الیکشن کی منصوبہ بندی کی۔

سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی، وزیراعظم نے کفایت شعاری پالیسی کی منظوری دیدی
- a day ago

وزیراعظم دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں،کشیدگی کا سفارتی حل نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،وزیر قانون
- 2 hours ago

ایک دن کی کمی کے بعد سونا ہزاروں روپےمہنگا، فی تولہ کتنے کاہو گیا؟
- 3 hours ago

پی ٹی اے کے زیر اہتمام ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا باقاعدہ آغاز
- 3 hours ago

ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں،پارلیمنٹرین کی تنخواہ میں 25 فیصد کٹوتی ، وزیر اعظم کاخطاب
- 20 hours ago

ہم کسی صورت جنگ نہیں چاہتے ہیں،لیکن اگر جنگ کرنا پڑی تو پیچھے نہیں ہٹیں گے،کم جونگ ان
- an hour ago

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پاکستان میں ادویات کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ
- 4 hours ago

افغانستان اس وقت دہشت گرد گروہوں اور پراکسیز کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے،عاصم افتخار
- 3 hours ago

آپریشن غضب اللحق : پاک فوج کی افغان طالبان کیخلاف کارروائیاںجاری، اہم پوسٹیں اور مراکز تباہ
- 3 hours ago

بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت نے آئندہ ہفتوں کیلئے مزید پٹرولیم کارگو کے انتظامات کر لیےہیں،وزیرخزانہ
- 20 hours ago

پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع،ملک میں توانائی بحران کا خدشہ ختم ہونے کا امکان
- 2 hours ago

خیالِ نو کے وفد کا خانہ فرہنگ ایران کا دورہ، شہید آیت اللہ کے سانحۂ ارتحال پر تعزیت کا اظہار
- 20 hours ago











