جی این این سوشل

تفریح

عامر لیاقت کی تیسری بیوی دانیہ شاہ کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی

عامر لیاقت سے خلع کا دعویٰ کرنے والی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کی ایک اور ویڈیو منظرِ عام پر آگئی ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عامر لیاقت کی تیسری بیوی دانیہ شاہ کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان کے مشہور ٹی وی میزبان عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ سیدہ دانیہ شاہ نے اپنے انسٹاگرام پر ایک اور ویڈیو شئیر کی ہے جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دانیہ خود کو عامر لیاقت کے چنگل سے آزاد کرانے پر مطمئن دکھائی دے رہی ہے اور ویڈیو کے بیک گراؤنڈ میں شعر پر لپسنگ کررہی ہیں۔

نئی ویڈیو کے سامنے آنے پر سوشل میڈیا صارفین کے جانب سے ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ ایک صارف نے لکھا ہے کہ ‘ پروفائل’ سے عامر لیاقت کے ساتھ تصویر تو ہٹا دو۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Syeda Dania Official (@syedadaniaofficial)

واضح رہے کہ دانیہ شاہ نے عامر لیاقت سے طلاق لینے کے لئے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے ، ان کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ عامر لیاقت نشہ کرتا، مجھے مارتا ،کھانا بھی وقت پر نہیں دیتا تھا اور ایک کمرے میں بند کرکے رکھا تھا، عامر لیاقت نشے کا عادی ہے اور مجھے گالیاں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔

علاوہ ازیں دانیہ کی والدہ کا اپنے ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ عامر لیاقت افواہیں پھیلانا بند کریں، عامر لیاقت نے تصویر شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ دانیہ کے دوسرے لڑکے کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات ہیں تو یہ غلط ہے، یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے اس کو بھی عامر نے دھمکیاں اور گالیاں دیں ہیں اور یہ دانیہ کا بھائی ہے اس سے 2 سال چھوٹا ہے، ہمیں پیسوں کی ضرورت نہیں بس عزت چاہیے اور اگر عامر لیاقت عزت والا ہوتا تو اس کا ہر ظلم برداشت کرتے، اور یہ کیس بھی نہ کرتے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت نے بھی دانیہ کے خلاف آخری حد تک کورٹ میں کارروائی جاری رکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان

شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی عبوری ضمانت منظور

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور دھمکیوں کے مقدمے میں شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی ایک ہزار روپے کے مچلکوں پر 9 جون تک عبوری ضمانت منظور کر لی۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی  عبوری ضمانت منظور

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایمان مزاری کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی۔

پٹیشنر کی جانب سے زینب جنجوعہ اور دانیال حسن ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ سب لوگوں کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا ہے؟

اس پر زینب جنجوعہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ایمان مزاری کے خلاف تھانہ رمنا میں گزشتہ روز مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

عدالت نے سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کیا کہ پٹیشنر کے مطابق بدنیتی کے تحت ایف آئی آر درج کرائی گئی جس کا مقصد تضحیک کرنا ہے۔

عدالت نے عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے ریاست اور مدعی مقدمہ کو 9 جون کیلئے نوٹس جاری کر دیا۔

عدالت نےکہا کہ پٹیشنر عدالتی پالیسی کے مطابق کیش شورٹی ضمانت جمع کرانے میں آزاد ہے۔ عدالت نے ایمان مزاری کو ہر تاریخ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت بھی کی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

روس سے رابطہ کیا ہے، انہیں تیل کے معاہدے کا علم نہیں: مصدق ملک

وزیرمملکت توانائی سینیٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ عمران خان روس سے تیل کی تجارت کا معاہدہ دکھائیں، ہم نے روس سے رابطہ کیا مگر انہیں بھی ایسے معاہدہ کا علم نہیں۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

روس سے رابطہ کیا ہے، انہیں تیل کے معاہدے کا علم نہیں: مصدق ملک

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے سیاسی فوائد کیلئے ملک کی خارجہ پالیسی کے ساتھ کھلواڑ کیا،عمران خان وہ معاہدہ دکھائیں جس کے ذریعے وہ روس سے سستا تیل لینا چاہتے تھے،پاکستان کی جانب سے تجارت کی خواہش ظاہر کرنے کے باوجود روس کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔

مصدق ملک نے کہا کہ عمران خان نے ملک کو دیوالیہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے،سابق حکومت 720ارب روپے کی سبسڈی دے کر چلی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ روس سے معاہدہ کیا تھا تو 30فیصد سستا تیل پی ایس او کے ٹینڈر میں کیوں نہیں آیا،عمران خان نے اپنی غلط بیانیوں سے ملک میں بد گمانی کی فضا پیدا کی۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہوں کی مد میں 320ارب جبکہ پٹرول پر دی گئی سبسڈی720ارب روپے ہے،پٹرول پر جون تک 120ارب کی سبسڈی دی گئی ،یہ 120ارب روپے قومی خزانے میں کہیں موجود نہیں تھے۔

مصدق ملک نے کہا کہ وزیراعظم کو جب یقین ہوا کہ غریب پر بوجھ نہیں پڑے گا تو قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے کہ بھارت میں ڈیزل کی قیمت 234روپے 3پیسے پاکستانی روپے ہے،پاکستان میں ڈیزل کی قیمت 174روپے 15پیسے ہے،آئی ایم ایف کیساتھ حالیہ مذاکرات کا مقصد تمام شرائط کو حتمی شکل دینا تھا۔

مصدق ملک نے کہا کہ ایل این جی ٹرمینلز کیلئے نجی کمپنیوں کو آگے لانا چاہتے ہیں،ایل این جی کی خواہشمند کمپنیوں کو بڈنگ کے ذریعے آنا ہو گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

کوئی ڈیل نہیں ہوئی اگر اسلام آباد بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا:عمران خان

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے کسی ڈیل کے تحت آزادی مارچ ختم کرنے کی خبروں کی ترید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے انتخابات کا اعلان نہیں ہوا تو پوری تیاری کے ساتھ دوبارہ نکلیں گے۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

کوئی ڈیل نہیں ہوئی  اگر اسلام آباد بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا:عمران خان

پشاور میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہا جارہا تھا کہ ہم انتشار کرنے کے لیے جا رہے ہیں، کیا کوئی اپنے بچوں و عورتوں کو لے انتشار کرنے جاتا ہے۔

انہوں کا کہنا تھا کہ اگر مجھے اپنی قوم کا خیال نہ ہوتا اور میں وہاں بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا، نفرتیں بڑھنی تھیں لیکن پولیس بھی ہماری ہے اس لیے ہم نے اپنے ملک کی خاطر فیصلہ کیا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی نہ سمجھے کہ میری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل ہوئی ہے، حکومت کو 6 روز دے رہا ہوں اگر انتخابات کا اعلان نہ ہوا تو بھرپور تیاری کے ساتھ جائیں گے کیونکہ اس بار ہماری تیاری نہیں تھی۔ 
انہوں نے کہا کہ مردان میں سب سے پہلے شہید کارکن کے گھر گیا، دوسرے کارکن فیصل عباس لاہور میں شہید ہوئے ہیں ان کے گھر پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنما گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں کے لیے ایک ایک کروڑ روپے پارٹی کی طرف سے اکٹھا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک حقیقی آزادی کے جذبے سے نکلے تھے، انہوں نے فیصلہ کیا کہ بیرونی ملک کی سازش سے کرپٹ ترین مافیا کی حکومت کو مسلط کیا۔ اس لئے ہم ان کے خاندان کو جتنا خراج تحسین پیش کریں اتنا کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پُرامن احتجاج میں جو ہمارے ساتھ ہوا اور پُرامن احتجاج اس لئے تھا کہ پہلے سازش بنتی ہے، اس میں ہر قسم کا ایکٹر شامل ہو کر 22 کروڑ لوگوں کی منتخب حکومت کو گراتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی توہین یہ ہے کہ 30 سال جو لوگ اس ملک کو پیسے چوری کرکے اور پیسے باہر بھیج کر کھا رہے تھے، ہر قسم کے جرم کررہے تھے، ان لوگوں کو ملک پر مسلط کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے آپ سازش کرتے ہیں اس کے بعد چوروں کو بٹھا دیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں کوئی سوچ نہیں سکتا کہ ضمانت کے اوپر انسان کو کوئی عہدہ دیا جائے۔ جبکہ یہاں پر اس کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنادیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 60 فیصد کابینہ ضمانتوں پر ہو۔ اگر اس کے خلاف کوئی قوم پُرامن احتجاج نہیں کرسکتی تو پھر اس قوم کو زندہ ہی نہیں رہنا چاہیے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا کی ہر جمہوریت میں آپ کو پُرامن احتجاج کا حق ہوتا ہے، احتجاج کا حق بھی نہ دیا جائے۔ رات کو گھروں پر حملے کیے گیے، پنجاب پولیس نے عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں دیکھا۔ جس طرح وہ گھروں میں گھسے، ہم عدالت کے پاس گئے اس کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا کہ پولیس کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا اور رکاوٹیں ہٹا دیں۔

چیئرمین تحریک انصاف نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے بعد ہم سمجھے کہ رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی اور پولیس کی کارروائی نہیں ہوگی اس کے بعد جو ہوا ہم اس کی توقع نہیں کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فیصل عباس کو تو پولیس کی جانب سے نیچے پھینکا گیا۔ اسی طرح جو کچھ بہنوں، بیٹیوں، وکیلوں سے کیا گیا۔ لاہور میں پولیس نے بس میں جو وکلا جارہے تھے انہیں جس طرح نکال نکال کر مارا۔ پوری قوم کے سامنے یہ ظلم ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح پنجاب پولیس کو استعمال کیا گیا، پنجاب پولیس میں بہت اچھے اچھے افسران موجود ہیں لیکن موجودہ حکومت نے چن چن کر ایسے افسران کو تعنیات کیا اور پھر ان سے ظلم کروایا۔ اسلام آباد کے آئی جی کو سیف سٹی پروجیکٹ میں سزا ہونے والی تھی، شہباز شریف اس کو واپس لے کر آئے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ سابق وفاقی وزیر عمر ایوب پولیس کے ساتھ بات کرنے گئے تھے، پولیس نے انہیں اتنی بے دردی سے مارا ہے، میں اب تک یہ سوچ رہا ہوں کہ کون سی پولیس اپنی عوام، شہریوں، بچوں، عورتوں، بیٹیوں کو اس طرح ملک دشمن کرکے مارتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہنچنے میں 20 گھنٹے لگے، جس طرح عوام نکلے ہیں، ساری رات عوام سڑکوں پر کھڑی رہی۔ لوگوں نے بچوں کو اٹھایا ہوا تھا۔ لہٰذا یہ پروپیگنڈا کہ ہم انتشار پھیلانے جارہے تھے، تو میں سوال پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی اپنے بہن، بچوں، بچیوں کو انتشار پھیلانے کے لیے آتا ہے، کیا لوگوں نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا کہ کس طرح لوگ نکل رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے مزید کہا کہ جب ڈی چوک پر بار بار شیلنگ کی گئی، سوشل میڈیا پر فوٹیجز موجود ہیں کہ کونسے دہشت گرد تھے جن پر شیلنگ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح لاہور کے لبرٹی چوک پر آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جس طرح کا تشدد کراچی میں کیا گیا، کونسی ملک کی پولیس سے اس طرح کے کام کرواتے ہیں؟

عمران خان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ، شہباز شریف، حمزہ شریف، یزید کے مانے والے لوگ ہیں۔ اگر اس ملک کا انصاف کا نظام ان کو سزائیں دیتے جب انہوں نے سب کے سامنے، ٹی وی کے سامنے لوگوں کو گولیاں ماریں، اس وقت 60 لوگوں کو گالیاں لگی تھیں جس میں 14 لوگ مارے گئے تھے۔ اگر تب سزا مل جاتی تو شاید اب یہ اس طرح کا ظلم نہ کرتے جو ساری قوم نے دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ مایوس ہوئے اور پوچھا کہ کیوں ڈی چوک پر جا کر بیٹھ گئے، میں یقین دلاتا ہوں کہ 126 دن دھرنے میں بیٹھا، میرے لیے مشکل نہیں تھا کہ جب تک یہ حکومت گھنٹے ٹیکتی میں وہاں پر بیٹھتا۔ جب تک میں وہاں پہنچا تو مجھے علم ہوگیا کہ حالات کس طرف جارہے ہیں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم غور سے سنے اگر مجھے ملک کی قوم کی فکر نہ ہوتی اور میرے بھی باہر پیسے اور جائیدادیں ہوتیں، میرے بیٹوںکے پاس بھی بڑی بڑی جائیدادیں ہوتیں تو شاید مجھے بھی اپنے ملک کی فکر نہ ہوتی۔ اس رات کو خون خرابہ ہونے لگا تھا ہمارے لوگ تیار ہوگئے تھے کیونکہ انہوں نے پولیس کی جانب سے دہشت گردی دیکھی۔ ہمارے لوگ انتہائی غصے میں تھے جنہوں نے یہ تماشے دیکھے۔

ان کا کہنا تھا جنہوں نے عمر ایوب کا حال دیکھا ہے اور لوگ جس طرح مار کھا کر وہاں پہنچے تھے۔ اگر اس دن میں وہاں بیٹھ جاتا تو گارنٹی دیتا ہوں کہ خون خرابہ ہوجاتا۔ پولیس کے خلاف نفرتیں بڑھ چکی تھیں اس میں مزید اضافہ ہوتا۔ پولیس بھی اپنی ہے عام پولیس کا قصور نہیں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجرم اور گلو بٹ بٹھائے ہوئے تھے، اگر وہاں پر خون خرابہ ہوجاتا ملک میں انتشار بڑھنا تھا، ملک کے معاشی حالات آپ کے سامنے ہیں، یہ میرے ملک کا نقصان تھا۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ ہماری کمزوری تھی اور نہ ہی کوئی ڈیل ہوئی ہے میں باتیں سن رہا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہوئی ہے۔ میری کسی سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اداروں اور عوام کے بیج میں فاصلے بڑھیں گے۔ یہ ہمارے ملک کا نقصان ہے اور دشمنوں کا فائدہ ہے۔ یہ صرف ایک چیز تھی جس نے مجھے وہاں بیٹھنے سے روکا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں یہ واضح کردوں کہ اگر کسی کو خوش فہمی ہے کہ ہم اب ان سے آرام سے مذاکرات کریں گے، یا اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں گے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ میں اس کو جہاد سمجھتا ہوں، جب تک زندہ ہوں اس کے سامنے کھڑا رہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ذاتی طو رپر کسی چیز کی فکر ہے نا پروا۔ مجھے صرف اپنے ملک کی فکر ہے لہٰذا یہ واضح کردوں کہ 6 دن دے رہے ہیں اس کے اندر اگر انہوں نے واضح طور پر اسمبلیاں تحلیل کرکے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو میں پھر سے نکلوں گا۔ اب ہم پوری تیاری کے ساتھ نکلیں گے کیونکہ جس طرح پولیس کا حملہ ہوا اس کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہم ان سے سری نگر ہائی وے کی اجازت مانگ رہے تھے ہمیں اجازت نہیں مل ہی تھی۔ ہم نے آزادی مارچ میں لوگوں کو کسی جگہ تو بتانا تھا، ڈی چوک کے بارے میں بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی رفتار کم کردی تھی، میڈیا پر دباؤ ڈالا ہوا تھا، کسی کو پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔ ایک تو ہم دیر سے پہنچے کیونکہ انہوں نے برہان میں تین جگہ پر رکاوٹیں لگادی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے شہری نکل آئے تھے، ساری فیمیلز بار نکل گئی تھیں، ان کے اوپُر انہوں نے تشدد کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث جتنے لوگ زخمی ہوئے، جو ہسپتالوں میں گئے، آنسو گیس کے باوجود لوگ واپس آتے گئے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں ان سے سارے سوالات کیے ہیں کہ کیا ایک جمہوریت میں ہمارے پاس احتجاج کرنے کا حق ہے یا نہیں۔ یہ ایک شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہ لوگ جو اسمبلیوں میں کروا رہے ہیں یہ غیر آئینی ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ووٹ کا حق چھین لیں صرف اس لیے کہ آپ کو ڈر ہے کہ آپ انتخابات ہار نہ جائیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll