پیانگ یانگ:شمالی کوریا نے عالمگیر وبا کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کی تصدیق کردی ہے جس کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔

خبرایجنسی کے مطابق شمالی کوریا دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہیں جو غیر ویکسین شدہ ہیں اور کورونا کے نئے ویرینٹ کی تصدیق سے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ شمالی کوریا نے کورونا وبا کے آغازسے اب تک ملک میں کورونا کیسز کی موجودگی سے انکار کیا ہے تاہم اب کورونا کے کیسز سامنے آنے کے بعد پورے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے ۔
حکام نے پیانگ یانگ میں متعدد افراد میں اومی کرون وائرس کی نئی قسم بی اے 2 سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ۔ کورین سنٹرل نیوز ایجنسی (KCNA) نے تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد کی وضاحت کیے بغیر آج اطلاع دی ۔
اس ضمن میں ریاستی نشریاتی ادارے نے کہا ہے ملک میں سب سے بڑا ہنگامی نوعیت کا واقعہ پیش آیا ہے، ہمارے ایمرجنسی قرنطینہ کے محاذ میں جس کو فروری 2020 سے محفوظ رکھا گیا ، بڑا خلل آیا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پیانگ یانگ میں وبا کو "زیادہ سے زیادہ" کنٹرول کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کورونا وبا کو پھیلنے سے متعلق ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کوپھیلنے سے روکنے کے لئے فوری اورموثر اقدامات کئے جائیں گے۔
یاد رہے کہ شمالی کوریا نے جنوری 2020 میں اپنی ذمینی سرحدوں کو سیل کر دیا تھا ، اور وہ دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے COVID-19 کے پھیلنے کی اطلاع نہیں دی تھی ۔ تاہم چین کے ساتھ طویل سرحد ہونے کے باعث سرکاری طور پربتائے جانیوالے اعدادوشمار پر شکوک کا اظہار کیا گیا تھا ۔
خیال رہے کہ 26جولائی 2020 کو شمالی کوریا میں کورونا وائرس کا پہلا مشتبہ کیس بھی سامنے آیا تھا۔
ویکسین سے انکار
رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کے پاس کورونا سے بچاؤ کی ویکسین نہیں ہے کیونکہ کم جونگ ان کی حکومت نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے25 ملین آبادی کیلئے کورونا ویکسین کی فراہمی کی پیشکش کو بارہا مسترد کیا ہے ۔ حکومت کا اس وباء کا عوامی طور پر اعتراف شاید صورت حال کی سنگینی کی علامت ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس بات کی علامت ہو کہ رہنما کم جونگ اُن بیرونی مدد کے لیے تیار ہونگے ۔
سیول کی ایوا یونیورسٹی کے پروفیسر لیف ایرک ایزلی کا اس صورتحال کے حوالے سے کہنا ہے کہ پیانگ یانگ میں ممکنہ طور پر سخت لاک ڈاؤن ہوگا اگرچہ چین کی صفر کوویڈ حکمت عملی کی ناکامی سے پتہ چلتا ہے کہ صرف لاک ڈاؤن ہی اومیکرون کی اس مختلف قسم کے خلاف کام نہیں کرے گا ۔ شمالی کوریا کو اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے اور بین الاقوامی طور پر تنہا رہنے کے باعث ملک غیر یقینی کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ کم حکومت کو یہ مشورہ دیا جائے گا کہ وہ فوری طور پر ویکسین اور علاج کے لیے امداد حاصل کرے ۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ شمالی کوریا کا تباہ حال صحت کا نظام ایک بڑے وائرس پھیلنے سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کرے گا۔
دوسری جانب جنوبی کوریا میں ویکسینیشن کی شرح بہترین ہےاور حال ہی میں جنوبی کوریا میں پابندیاں نرم کردی گئیں ہیں جبکہ مارچ میں اومیکرون کی بڑھتے کیسز میں بھی تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔
شمالی کوریا کا ہمسایہ ملک چین جو اب بھی صفرCOVID پالیسی کو برقرار رکھے ہوئے ہے، دارالحکومت شنگھائی سمیت بڑے چینی شہروں میں کئی ہفتوں سے سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے ۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- 10 گھنٹے قبل
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 10 گھنٹے قبل
آئل ٹینکر پر حملہ، دو پاکستانیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
- 2 دن قبل
حج 2027کے لیے درخواست اور پاسپورٹ سے متعلق نئی ہدایات جاری کر دی گئیں
- 2 دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ایک اور اضافہ
- 2 دن قبل
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- 16 گھنٹے قبل

فیملی ڈرامہ ’’فرینڈز آف سیونٹیز‘‘ نے دھوم مچا دی
- 2 دن قبل

ورلڈکپ 2027، 10 ٹیموں کی براہِ راست انٹری
- 2 دن قبل
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- 16 گھنٹے قبل

پنجابی فلم ’’عشق بدمعاش‘‘ کا ٹریلر جاری
- 2 دن قبل
وزیراعظم کی کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے 3 سالہ آڈٹ کرانے کی ہدایت
- ایک دن قبل

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- 15 گھنٹے قبل

