جی این این سوشل

کھیل

سابق پاکستانی کرکٹر راشد لطیف کا سیاست میں آنے کا اعلان

کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے عملی طور پرسیاست میں آنے کا اعلان کر دیا ۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سابق پاکستانی کرکٹر راشد لطیف کا سیاست میں آنے کا اعلان
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

نجی ٹی وی سے گفتگو میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان  و وکٹ کیپر راشد لطیف نے عملی طور پر سیاست میں آنےکا اعلان کردیا۔

اپنی گفتگو میں رازد لطیف کا کہنا تھا کہ ملکی حالات کو بغور دیکھ رہا ہوں اور ابھی کام کرنے کی سکت رکھتا ہوں، ممکن ہے آئندہ 2 سے 3 سال میں آپ مجھے سیاست میں دیکھیں۔

اپنی سیاسی جماعت بنانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ میں اپنی سیاسی جماعت بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا البتہ میرے سیاسی نظریات اور وابستگی سے سب واقف ہیں،میں پرانی جگہ اور لوگ چھوڑنے والا نہیں بلکہ منشور کے ساتھ چلنے والوں میں سے ہوں۔

واضح رہے کہ راشد لطیف نے 1992ء سے 2005ء تک 37 ٹیسٹ اور 166 ون ڈے انٹرنیشنل میں قومی ٹیم کی نمائندگی کی، انہوں نے حال ہی میں کشمیر پریمئیر لیگ کے ساتھ بطور ڈائریکٹر کرکٹ وابستگی اختیار کی تھی۔

پاکستان

کوئی ڈیل نہیں ہوئی اگر اسلام آباد بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا:عمران خان

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے کسی ڈیل کے تحت آزادی مارچ ختم کرنے کی خبروں کی ترید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے انتخابات کا اعلان نہیں ہوا تو پوری تیاری کے ساتھ دوبارہ نکلیں گے۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

کوئی ڈیل نہیں ہوئی  اگر اسلام آباد بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا:عمران خان

پشاور میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہا جارہا تھا کہ ہم انتشار کرنے کے لیے جا رہے ہیں، کیا کوئی اپنے بچوں و عورتوں کو لے انتشار کرنے جاتا ہے۔

انہوں کا کہنا تھا کہ اگر مجھے اپنی قوم کا خیال نہ ہوتا اور میں وہاں بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا، نفرتیں بڑھنی تھیں لیکن پولیس بھی ہماری ہے اس لیے ہم نے اپنے ملک کی خاطر فیصلہ کیا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی نہ سمجھے کہ میری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل ہوئی ہے، حکومت کو 6 روز دے رہا ہوں اگر انتخابات کا اعلان نہ ہوا تو بھرپور تیاری کے ساتھ جائیں گے کیونکہ اس بار ہماری تیاری نہیں تھی۔ 
انہوں نے کہا کہ مردان میں سب سے پہلے شہید کارکن کے گھر گیا، دوسرے کارکن فیصل عباس لاہور میں شہید ہوئے ہیں ان کے گھر پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنما گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں کے لیے ایک ایک کروڑ روپے پارٹی کی طرف سے اکٹھا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک حقیقی آزادی کے جذبے سے نکلے تھے، انہوں نے فیصلہ کیا کہ بیرونی ملک کی سازش سے کرپٹ ترین مافیا کی حکومت کو مسلط کیا۔ اس لئے ہم ان کے خاندان کو جتنا خراج تحسین پیش کریں اتنا کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پُرامن احتجاج میں جو ہمارے ساتھ ہوا اور پُرامن احتجاج اس لئے تھا کہ پہلے سازش بنتی ہے، اس میں ہر قسم کا ایکٹر شامل ہو کر 22 کروڑ لوگوں کی منتخب حکومت کو گراتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی توہین یہ ہے کہ 30 سال جو لوگ اس ملک کو پیسے چوری کرکے اور پیسے باہر بھیج کر کھا رہے تھے، ہر قسم کے جرم کررہے تھے، ان لوگوں کو ملک پر مسلط کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے آپ سازش کرتے ہیں اس کے بعد چوروں کو بٹھا دیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں کوئی سوچ نہیں سکتا کہ ضمانت کے اوپر انسان کو کوئی عہدہ دیا جائے۔ جبکہ یہاں پر اس کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنادیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 60 فیصد کابینہ ضمانتوں پر ہو۔ اگر اس کے خلاف کوئی قوم پُرامن احتجاج نہیں کرسکتی تو پھر اس قوم کو زندہ ہی نہیں رہنا چاہیے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا کی ہر جمہوریت میں آپ کو پُرامن احتجاج کا حق ہوتا ہے، احتجاج کا حق بھی نہ دیا جائے۔ رات کو گھروں پر حملے کیے گیے، پنجاب پولیس نے عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں دیکھا۔ جس طرح وہ گھروں میں گھسے، ہم عدالت کے پاس گئے اس کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا کہ پولیس کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا اور رکاوٹیں ہٹا دیں۔

چیئرمین تحریک انصاف نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے بعد ہم سمجھے کہ رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی اور پولیس کی کارروائی نہیں ہوگی اس کے بعد جو ہوا ہم اس کی توقع نہیں کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فیصل عباس کو تو پولیس کی جانب سے نیچے پھینکا گیا۔ اسی طرح جو کچھ بہنوں، بیٹیوں، وکیلوں سے کیا گیا۔ لاہور میں پولیس نے بس میں جو وکلا جارہے تھے انہیں جس طرح نکال نکال کر مارا۔ پوری قوم کے سامنے یہ ظلم ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح پنجاب پولیس کو استعمال کیا گیا، پنجاب پولیس میں بہت اچھے اچھے افسران موجود ہیں لیکن موجودہ حکومت نے چن چن کر ایسے افسران کو تعنیات کیا اور پھر ان سے ظلم کروایا۔ اسلام آباد کے آئی جی کو سیف سٹی پروجیکٹ میں سزا ہونے والی تھی، شہباز شریف اس کو واپس لے کر آئے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ سابق وفاقی وزیر عمر ایوب پولیس کے ساتھ بات کرنے گئے تھے، پولیس نے انہیں اتنی بے دردی سے مارا ہے، میں اب تک یہ سوچ رہا ہوں کہ کون سی پولیس اپنی عوام، شہریوں، بچوں، عورتوں، بیٹیوں کو اس طرح ملک دشمن کرکے مارتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہنچنے میں 20 گھنٹے لگے، جس طرح عوام نکلے ہیں، ساری رات عوام سڑکوں پر کھڑی رہی۔ لوگوں نے بچوں کو اٹھایا ہوا تھا۔ لہٰذا یہ پروپیگنڈا کہ ہم انتشار پھیلانے جارہے تھے، تو میں سوال پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی اپنے بہن، بچوں، بچیوں کو انتشار پھیلانے کے لیے آتا ہے، کیا لوگوں نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا کہ کس طرح لوگ نکل رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے مزید کہا کہ جب ڈی چوک پر بار بار شیلنگ کی گئی، سوشل میڈیا پر فوٹیجز موجود ہیں کہ کونسے دہشت گرد تھے جن پر شیلنگ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح لاہور کے لبرٹی چوک پر آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جس طرح کا تشدد کراچی میں کیا گیا، کونسی ملک کی پولیس سے اس طرح کے کام کرواتے ہیں؟

عمران خان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ، شہباز شریف، حمزہ شریف، یزید کے مانے والے لوگ ہیں۔ اگر اس ملک کا انصاف کا نظام ان کو سزائیں دیتے جب انہوں نے سب کے سامنے، ٹی وی کے سامنے لوگوں کو گولیاں ماریں، اس وقت 60 لوگوں کو گالیاں لگی تھیں جس میں 14 لوگ مارے گئے تھے۔ اگر تب سزا مل جاتی تو شاید اب یہ اس طرح کا ظلم نہ کرتے جو ساری قوم نے دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ مایوس ہوئے اور پوچھا کہ کیوں ڈی چوک پر جا کر بیٹھ گئے، میں یقین دلاتا ہوں کہ 126 دن دھرنے میں بیٹھا، میرے لیے مشکل نہیں تھا کہ جب تک یہ حکومت گھنٹے ٹیکتی میں وہاں پر بیٹھتا۔ جب تک میں وہاں پہنچا تو مجھے علم ہوگیا کہ حالات کس طرف جارہے ہیں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم غور سے سنے اگر مجھے ملک کی قوم کی فکر نہ ہوتی اور میرے بھی باہر پیسے اور جائیدادیں ہوتیں، میرے بیٹوںکے پاس بھی بڑی بڑی جائیدادیں ہوتیں تو شاید مجھے بھی اپنے ملک کی فکر نہ ہوتی۔ اس رات کو خون خرابہ ہونے لگا تھا ہمارے لوگ تیار ہوگئے تھے کیونکہ انہوں نے پولیس کی جانب سے دہشت گردی دیکھی۔ ہمارے لوگ انتہائی غصے میں تھے جنہوں نے یہ تماشے دیکھے۔

ان کا کہنا تھا جنہوں نے عمر ایوب کا حال دیکھا ہے اور لوگ جس طرح مار کھا کر وہاں پہنچے تھے۔ اگر اس دن میں وہاں بیٹھ جاتا تو گارنٹی دیتا ہوں کہ خون خرابہ ہوجاتا۔ پولیس کے خلاف نفرتیں بڑھ چکی تھیں اس میں مزید اضافہ ہوتا۔ پولیس بھی اپنی ہے عام پولیس کا قصور نہیں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجرم اور گلو بٹ بٹھائے ہوئے تھے، اگر وہاں پر خون خرابہ ہوجاتا ملک میں انتشار بڑھنا تھا، ملک کے معاشی حالات آپ کے سامنے ہیں، یہ میرے ملک کا نقصان تھا۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ ہماری کمزوری تھی اور نہ ہی کوئی ڈیل ہوئی ہے میں باتیں سن رہا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہوئی ہے۔ میری کسی سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اداروں اور عوام کے بیج میں فاصلے بڑھیں گے۔ یہ ہمارے ملک کا نقصان ہے اور دشمنوں کا فائدہ ہے۔ یہ صرف ایک چیز تھی جس نے مجھے وہاں بیٹھنے سے روکا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں یہ واضح کردوں کہ اگر کسی کو خوش فہمی ہے کہ ہم اب ان سے آرام سے مذاکرات کریں گے، یا اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں گے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ میں اس کو جہاد سمجھتا ہوں، جب تک زندہ ہوں اس کے سامنے کھڑا رہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ذاتی طو رپر کسی چیز کی فکر ہے نا پروا۔ مجھے صرف اپنے ملک کی فکر ہے لہٰذا یہ واضح کردوں کہ 6 دن دے رہے ہیں اس کے اندر اگر انہوں نے واضح طور پر اسمبلیاں تحلیل کرکے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو میں پھر سے نکلوں گا۔ اب ہم پوری تیاری کے ساتھ نکلیں گے کیونکہ جس طرح پولیس کا حملہ ہوا اس کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہم ان سے سری نگر ہائی وے کی اجازت مانگ رہے تھے ہمیں اجازت نہیں مل ہی تھی۔ ہم نے آزادی مارچ میں لوگوں کو کسی جگہ تو بتانا تھا، ڈی چوک کے بارے میں بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی رفتار کم کردی تھی، میڈیا پر دباؤ ڈالا ہوا تھا، کسی کو پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔ ایک تو ہم دیر سے پہنچے کیونکہ انہوں نے برہان میں تین جگہ پر رکاوٹیں لگادی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے شہری نکل آئے تھے، ساری فیمیلز بار نکل گئی تھیں، ان کے اوپُر انہوں نے تشدد کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث جتنے لوگ زخمی ہوئے، جو ہسپتالوں میں گئے، آنسو گیس کے باوجود لوگ واپس آتے گئے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں ان سے سارے سوالات کیے ہیں کہ کیا ایک جمہوریت میں ہمارے پاس احتجاج کرنے کا حق ہے یا نہیں۔ یہ ایک شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہ لوگ جو اسمبلیوں میں کروا رہے ہیں یہ غیر آئینی ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ووٹ کا حق چھین لیں صرف اس لیے کہ آپ کو ڈر ہے کہ آپ انتخابات ہار نہ جائیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا بےنظیر بھٹو کو زبردست خراج عقیدت

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بےنظیر بھٹوکو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

پر شائع ہوا

Raja Sheroz Azhar

کی طرف سے

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا بےنظیر بھٹو کو زبردست خراج عقیدت

ہارورڈ یونیورسٹی میں 32 ہزار شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا کہ تاریخ میں کوئی بے نظیر بھٹو کا دو چیزوں میں مقابلہ نہیں کرسکتا، ایک یہ کہ وہ کسی اسلامی ملک میں منتخب ہونے والی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں اور دوسرا یہ کہ اپنے دور حکومت میں ماں بننے والی پہلی خاتون وزیر اعظم  تھیں۔

جیسنڈا  آرڈرن نے کہا کہ تقریباً 30 برس بعد بحیثیت وزیراعظم مجھے بھی اپنے دور اقتدار میں ماں بننے کا اعزاز حاصل ہوا، میری بیٹی کی پیدائش 21 جون 2018 کو ہوئی جو  بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کا بھی دن ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کےحق سےمحروم نہیں کریں گے : وزیرقانون

اسلام آباد: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ تاثر مسترد کر دیا ہے کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کر رہی ہے۔

پر شائع ہوا

Asma Rafi

کی طرف سے

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کےحق سےمحروم نہیں کریں گے : وزیرقانون

تفصیلات کے مطابق آج اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما کامران مرتضیٰ کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے  وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ  نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ہم انہیں ووٹ کے حق سے محروم نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ قانون سازی کا واحد مقصد الیکشن کمیشن کو ایسی حکمت عملی تشکیل دینے کے قابل بنانا ہے جس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا شفاف انداز میں ووٹ کا حق یقینی بنا سکے۔

وزیر قانون کاکہنا تھا  کہ الیکٹرانک ووٹنگ کے لیے وقت درکار ہے اور الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ فوری انتخابات ای ووٹنگ یا ای وی ایم سے ممکن نہیں جبکہ  ہم نے ای وی ایم کے لیے بھی کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی پالیسی کے مطابق طریقہ کاراستعمال کرے، الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ مشین پر الیکشن چاہتے ہیں تو درجہ بدرجہ کریں، الیکشن کمیشن جب جس انتخابات میں چاہے ای وی ایم استعمال کرسکتا ہے۔

انہوں نے  کہا کہ نیب قوانین ایک آمرنے متعارف کرائے تھے اور نیب قوانین سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیے گئے، نیب نے سیاست کو مقدم رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا،  عدالت نے لکھا کہ نیب کو پولیٹیکل انجینرنگ کیلیے استعمال کیاجارہا ہے۔

وزیر قانون نے مزید کہا کہ نیب قوانین کی آڑ میں سرکاری ملازمین کو ہراساں کیا گیا اور نیب کیس میں گرفتاری صرف چیئرمین نیب کا اختیار تھا۔ چیئرمین نیب کی دوبارہ تعیناتی کی شق ختم کر دی گئی ہے اور موجودہ چیئرمین نیب کے عہدے میں توسیع کا آرڈیننس 2 جون کو ختم ہو رہا ہے،  بل پر دستخط ہوتے ہی چیئرمین نیب کا عہدہ خالی ہو جائے گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll