جی این این سوشل

تفریح

مایہ ناز کلاسیکل  گلوکارہ  اقبال بانو کی سالگرہ 

ویب ڈیسک : پاکستان کی مایہ ناز کلاسیکل  گلوکارہ اقبال بانو کی آج 84 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے ۔ 

پر شائع ہوا

کی طرف سے

مایہ ناز کلاسیکل  گلوکارہ  اقبال بانو کی سالگرہ 
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان کے عظیم  فنکاروں میں  ایک بڑا نام اقبال بانو کا بھی ہے، اقبال بانو1935میں روہتک ضلع ہریانہ ،انڈیا میں پیدا ہوئیں اور سات سال کی عمر میں ہی ان کے گھر والوں کو احساس ہوا کہ بانو  بہت اچھا گا سکتی ہیں ، دہلی گھرانہ کے استاد چاند خان کو چنا  نے اقبال بانو  کو کلاسیکل کی  تعلیم  دینا شروع کر دی ۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اقبال بانو سکول بھی باقاعدگی سے جاتی رہیں۔

17 سال کی عمر میں پاکستان کے ایک جاگیردار سے ان کی شادی ہو ئی اور تقسیم ہند کے  بعد وہ پاکستان شفٹ ہو گئیں۔اقبال بانو نے ریڈیو پاکستان سے گانے کا آغاز1950 میں کیا۔

اقبال بانو پاکستان کی نامور، منجھی ہوئی  غزل گائیکہ ہیں جو نیم کلاسیکل غزل اور کلاسیکل ٹھمری اور ڈاڈرا گانے میں ماہر تصور کی جاتی ہیں۔  انہوں نے  فلموں کے لئے بھی  گیت گائے    جن میں آنکھ کا نشہ، ناگن، قاتل، سوہنی، شالیمار، دولہا بھٹی, حمیدہ، مراد، نوراں، آخری داؤ، دل میں تو، حسرت، نیا دور، شیرا، نغمہ دل اور آیاز وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

ضیاء الحق  مارشل لاء دور میں   انہوں نے  فیض احمد فیض  کی  ’دشت تنہائی“ نظم گائی تو انہیں بے حد پذیرائی ملی ۔اقبال بانو کو شاعر کا اندازِ فکر بھا گیا تھاجس کے بعد انھوں نے فیض صاحب کی متعد د نظمیں اور غزلیں گائیں جو اپنی مثال آپ ہیں ۔ انھوں نے فیض کی جتنی بھی نظمیں یا غزلیں گائیں وہ امر ہوئیں ۔ ان میں ’دونوں جہاں تری محبت میں ہار کے‘، کب ٹھہرے کا درد اے دل، ’تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے‘،سبھی کچھ ہے ترا دیا ہوا‘  ’شام ِ فراق اب نہ پوچھ‘قابل ذکر ہیں۔اقبال بانو نے دوسرے شعراءکوبھی خوب گایا جن میں غالب کی  مشہور غزل 'مدت ہوئی یار کو مہماں کیے ' بے حد مقبول ہوئی ۔

اقبال بانواردو کے علاوہ  فارسی زبان  میں گانے بھی گاتی تھیں جس کی وجہ سے وہ ایران اور افغانستان میں بہت مقبول تھیں ۔ 1979سے قبل  افغانستان میں ’جشن ِ کابل‘ کے نام سے  سالانہ  فیسٹیول میں  اقبال بانو کو ہر دفعہ بلایا جاتا تھا  اور ایک بار  ان  کی گائیکی سے متاثر ہو کر افغانی بادشاہ نے ان کو سونے کا گلدستہ بطورِ انعام دیا۔

اقبال بانو کو 7 اکتوبر 1974 کو حکومت پاکستان کی جانب سے ’تمغہ امتیاز‘ سے بھی نوازا گیا ۔ اپنی خوبصورت آواز  سے سحر طاری کردینے والی گلوکارہ اقبال بانو 74 سال کی عمر میں اپریل 2009 کو اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں ۔ اقبال بانو آج اس دنیا میں  نہیں لیکن وہ  اپنی آواز کے ذریعے تاعمر اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زند ہ رہیں گی ۔

پاکستان

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کے کیسز میں لارجر بنچ تشکیل دے دیا

احمد فرہاد کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ افراد کیسز کے لیے لارجر بنچ کی تشکیل تجویز کی تھی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کے کیسز میں لارجر بنچ تشکیل دے دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کے کیسز میں لارجر بنچ تشکیل دے دیا ۔

جسٹس محسن اختر کیانی کے سربراہی میں لارجر بنچ تشکیل دیا گیاجسٹس طارق محمور جہانگیری اور جسٹس ارباب محمد طاہر بھی لارجر بنچ کا حصہ ہوں گے،لارجر بنچ 30 جولائی سے لاپتہ افراد کے کیسز کی سماعت کرے گا۔

احمد فرہاد کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ افراد کیسز کے لیے لارجر بنچ کی تشکیل تجویز کی تھی،چیف جسٹس لاپتہ کیسز کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ میں شامل نہیں ہیں ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

کوئٹہ : تربت میں زلزلے کے جھٹکے

تفصیلات کے مطابق زلزلے کا مزکز تربت سے 24 کلومیٹر مغرب کی جانب تھا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کوئٹہ : تربت میں زلزلے کے جھٹکے

کوئٹہ : کوئٹہ تربت میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ۔ 

تفصیلات کے مطابق زلزلے کا مزکز تربت سے 24 کلومیٹر مغرب کی جانب تھا ۔ 

زلزلہ پیما کے مطابق زلزلہ کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی ہے ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیں گے ، نائب امیر جماعت اسلامی

لیاقت بلوچ نے کہا کہ سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت نے 5 سال کا روڈ میپ دیا، لیکن حکومت نے سود کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھایا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد  میں دھرنا دیں گے ، نائب امیر جماعت اسلامی

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ 26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا ہو گا۔
نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حکمران جماعتیں عوام سے جینے کا حق چھین رہی ہیں۔

سیاناسی جماعتیں پاور پالیٹکس میں لگی ہیں، جبکہ عوام کو مہنگائی کے سامنے مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام سیاست جمہوریت اور پارلیمان سے مایوس ہو گئے، بجلی،گیس اور پٹرول ٹیکسز کے انبار نے عوام کو برباد کر دیا ہے۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کسی صورت بھی دیوالیہ نہیں ہونا چاہیے، موجودہ حکومت نے دیوالیہ سے بھی آگے ملک کو پہنچا دیا ہے، آئی پی پیز سے معاہدوں سے قومی معیشت کو پھندہ ڈال دیا گیا ہے۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں فارم 47 طرز کی حکمرانی مسلط کی گئی، طلبا سڑکوں پر نکل کر اپنا حق حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستان کےعوام بھی حکومتی خاندانوں کے خلاف نکلنے کو تیار ہیں، عوام ان حکمران خاندانوں سے نجات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت نے 5 سال کا روڈ میپ دیا، لیکن حکومت نے سود کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھایا۔

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر بات کریں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll