Advertisement

بلڈ کلاٹ بننے کے بعد امریکا نے جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین کا استعما ل روک دیا

واشنگٹن : جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین سے بھی بلڈ کلاٹ بننے کے کیس کے بعد امریکا نے ویکسین کا استعمال روک دیا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Apr 14th 2021, 9:37 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

غیرملکی  خبر ایجنسی   کے مطابق  برطانوی کورونا ویکسین آسٹرازینیکا کے بعد امریکا کی جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین سے بھی بلڈ کلاٹ بننے کے کیس سامنے آنے لگے۔ امریکا میں جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین لگوانے کے بعد6افرادمیں بلڈکلاٹس بن گئے ہیں ۔ جس کے بعد امریکا نے جانسن اینڈ جانسن کی کورونا ویکسین کا استعمال روکنے کی ہدایت کردی ہے۔

اس سے قبل  ناروے میں برطانوی  آسٹرا زینیکا کورونا ویکسین  کےاستعمال پرخون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات کے بعد آئرلینڈ نے ویکسین کا استعمال روک دیا تھا، ڈنمارک، آئس لینڈ اور اٹلی، بلغاریہ ، تھائی لینڈ   بھی ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک چکے ہیں۔

یورپ میں ویکسین لگوانے کے بعد خون کی پھٹکیاں بننے کے بہت سے واقعات پیش آرہے ہیں۔تاہم  ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عام طور پر عام لوگوں میں خون کی پھٹکیاں بننے کے  واقعات کی تعداد زیادہ نہیں ہیں۔ یورپی یونین اور برطانیہ میں لگ بھگ 17 ملین افراد آسٹرا زینیکا ویکسین کی ایک خوراک  لے چکے ہیں ، پچھلے ہفتے تک خون کی پھٹکیاں بننے کے 40 سے بھی کم کیسز  کی اطلاعات ہیں ۔

دوسری جانب  برطانیہ ویکیسن کو محفوظ اور مؤثر قرار دے چکا ہے اور آسٹرازینیکا کے ایک ترجمان نے کہا کہ کلینیکل ٹرائلز اور محفوظ ہونے کے ڈیٹا میں اس طرح کے اثر کا کوئی عندیہ سامنے نہیں آیا تھا۔ ا

واضح رہے کہ  13 مارچ کو  آئرلینڈ نے  بھی ناروے میں ایک  فرد کی ہلاکت  اور 3 افراد کے ہسپتال پہنچنے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ویکسینیشن روکنے کا اعلان کیا تھا ۔ ناروے کی میڈیسینز ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا  تھا کہ 50 سال سے کم عمر 4 افراد کو یہ ویکسین استعمال کرائی گئی اور ان میں بلڈ پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہوگئی۔

خیال رہے کہ خون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات 30 لاکھ میں سے 22 افراد میں سامنے آئے تھے۔

Advertisement
Advertisement