Advertisement
ٹیکنالوجی

طلبا میں چیٹ جی پی ٹی کا بڑھتا استعمال ایچ ای سی کے لیے دردسر بن گیا

جامعات کی سطح پر طلباء و طالبات میں اس کااستعمال اس قدر عام ہوگیا ہے کہ مختلف ضابطوں اورشعبوں میں پڑھنے والے طلباء وطالبات اس ماڈل سے تھیسز رائٹنگ کروارہے ہیں اور اپنے اسائنمنٹس بنوارہے ہیں۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Apr 7th 2023, 4:06 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
طلبا میں چیٹ جی پی ٹی کا بڑھتا استعمال ایچ ای سی کے لیے دردسر بن گیا

 کراچی: انسانی طرز پر رد عمل دینے والے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے نئے پروگرام ”جی پی ٹی ماڈل“نے سائنسی و غیرسائنسی شعبوں میں تہلکہ مچادیا ہے اور اس کے بعض منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ تعلیمی کمیشن آف پاکستان نے سرجوڑلیے ہیں۔

اس ماڈل میں سوالات کے جوابات دینے،موضوعات پر تبصرہ کرنے اور آرٹیکل، خلاصوں اور ترجمے میں مہارت رکھنے سمیت ماہرانہ طرزکے وہ عوامل بھی شامل ہیں جو معروف سرچ انجن گوگل  پیش کرنے سے قاصر ہے۔

اسی بنیاد پراس ماڈل نے ایک جانب آئی ٹی سمیت دیگرپیشوں سے وابستہ ماہرین کوحیرت میں ڈال دیا ہے جبکہ دوسری جانب طلبا اور بالخصوص جامعات کی سطح پر  جی پی ٹی ماڈل متعارف ہونے سے طلبا کی چاندی ہوگئی ہے۔

جامعات کی سطح پر طلباء و طالبات میں اس کااستعمال اس قدر عام ہوگیا ہے کہ مختلف ضابطوں اورشعبوں میں پڑھنے والے طلباء وطالبات اس ماڈل سے تھیسز رائٹنگ کروارہے ہیں اور اپنے اسائنمنٹس بنوارہے ہیں۔

Advertisement