جی این این سوشل

تجارت

بینکوں کی جانب سے پرسنل لون میں سالانہ بنیادوں پر 2.2 فیصد اضافہ،اسٹیٹ بینک

اپریل میں بینکوں کی جانب سے پرسنل لون کی مد میں 250 ارب روپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے،رپورٹ

پر شائع ہوا

کی طرف سے

بینکوں کی جانب سے پرسنل لون  میں سالانہ بنیادوں پر 2.2 فیصد اضافہ،اسٹیٹ بینک
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

بینکوں کی جانب سے پرسنل لون کے اجراء میں اپریل کے دوران سالانہ بنیادوں پر 2.2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کےمطابق اپریل میں بینکوں کی جانب سے پرسنل لون کی مد میں 250 ارب روپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے جو گزشتہ سال اپریل کے مقابلہ میں 2.2 فیصد زیادہ ہے۔

گزشتہ سال اپریل میں بینکوں کی جانب سے پرسنل لون کی مد میں 245 ار ب روپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے تھے۔ مارچ کے مقابلہ میں اپریل میں پرسنل لون کے اجراء میں ماہانہ بنیادوں پر 0.4 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

مارچ میں پرسنل لون کی مد میں بینکوں کی جانب سے 251 ارب روپے کے قرضہ جات جاری ہوئے جو اپریل میں کم ہو کر 250 ارب روپے ہو گئے

 

پاکستان

کم عمری میں بچے محنت مزدوری کیوں کرتے ہیں ؟

چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے دنیا بھر میں قانون سازی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر سے نجات کے لیے قانون پاس کیا گیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کم عمری میں بچے  محنت مزدوری کیوں کرتے ہیں ؟

ہر سال 12 جون کو عالمی سطح پر چائلڈ لیبر ڈے منایا جاتا ہے۔ رواں سال بھی عالمی سطح پر چائلڈ لیبر ڈے  25 سال گرہ منائی گئی، جس کے لیے تھیم ’’ لیٹس ایکٹ آن آور کمٹمنٹ، اینڈ چائلڈ لیبر‘‘ کا انتخاب کیا گیا۔ تاریخ میں پہلی بار 2002 میں چائلڈ لیبر کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزییشن (آئی ایل او) کی سفارشات پر12 جون کو بطور چائلڈ لیبر ڈے مختص کیا گیا۔ 
یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک بچہ چائلڈ لیبر کا شکار ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 160 ملین سے زائد بچے چائلڈ لیبر سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ تعداد برا عظم افریقہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف افریقہ میں 72 ملین سے زائد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ دوسرے نمبر پر ایشائی ممالک کے 62 ملین بچے، امریکہ کے 11 ملین، یورپ اور مرکزی ایشیا کے 6 ملین، جبکہ متحدہ عرب امارات کے 1 ملین بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ 
ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ چائلڈ لیبرکیا ہے؟ 
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او) کے مطابق ایسا تفویض شدہ کام جو بچوں کو ان کی معصومیت، تخلیقی صلاحیتوں اور وقار سے محروم کر دے اور بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشونما پر براہ راست برااثر ڈالے، چائلڈ لیبر کے ضمرے میں آتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسا کوئی بھی کام جس میں بچے کو کمانے کی عمر سے قبل مشغول کیا جائے، مگر اس کام کا بچے  کی صحت و تعلیم پر کوئی مضر اثر نہ ہو، چائلڈ لیبر کے ضمرے میں نہیں آتا۔ 
بد قسمتی سے دنیا بھر میں چائلڈ لیبرکی لعنت اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ مختلف وجوہات کی بناء پر بچوں کو مجبورا اپنے کھیلنے کودنے کی عمر میں چائلڈ لیبر کا شکار ہوتے ہیں۔
یوں تو دنیا بھر مں چائلڈ لیبر کی وجوہات مختلف ہیں، مگرعالمی طور پرچائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں چائلڈ لیبر کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ غریب لوگ اپنی آمدن کے ذرائع بڑھانے کے لیے اپنے گھر کے چھوٹے بچوں کو بھی کام میں جت دیتے ہیں، جس کے نتیجہ میں چھوٹے بچوں کا معصوم ذہن صحیح نشونما نہیں کر پاتا اور وہ معاشرے کے گرداب میں پھنس جاتے ہیں۔ 
کچھ جگہوں پر لوگوں نے چائلڈ لیبر کو بطور رواج سمجھ لیا ہے، جہاں بچے اپنے مالکان کا کام کرتے ہیں اور بدلے  میں مالکان سماجی خدمت سمجھتے ہوئے بچوں کو ان کی خدمت کے عوض چند اونے پونے دام پکڑا دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ بچوں سے کام لینا بجٹ کے لحاظ سے بہت موزوں رہتا ہے کیوں کہ بچوں کو کسی بالغ کی نسبت زیادہ معاوضہ ادا نہیں کرنا پڑتا۔ معاشرے میں موجود طبقاتی نظام اور جنس پرستی بھی چائلڈ لیبر کی ایک بڑی وجہ ہے۔
چائلڈ لیبر کے شکار بچے مختلف قسم کے کاموں میں مشغول کیے جاتے ہیں۔ جن میں زراعت، کان کنی، بھٹہ مزدوری، گھر کی نوکر چاکری، ہوٹلوں اور دکانوں پر کام کاج اور صنعتوں میں کام سر فہرست ہیں۔ مزید برآں، جنگی مہم جوئیوں کے دوران، بچوں کو جنگی حکمت عملی کے طور پر بطور جا سوس اور مددگار استعمال کیا جاتا ہے۔
چائلڈ لیبر بچوں پر بہت سنگین  اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایسے بچے جو چائلڈ لیبر کا شکار ہوتے ہیں، وہ ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں۔ ایسے بچے نہ تو اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھ پاتے اور نہ ہی ان کا کام ان کے ایک بہتر مستقبل کا ضامن ہوتا ہے۔
چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے دنیا بھر میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن، یونیسیف سمیت متعدد ادارے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی اقوام متحدہ کا رکن ملک ہونے کے ناطے اقوام متحدہ کے چارٹر اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ساتھ کام کرتا ہے۔ پاکستان میں یونیسیف کے مشنز بھی چائلڈ لیبر کے تدارک کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں سپارک( سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چلڈرن) کام کر رہا ہے۔ 
چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے دنیا بھر میں قانون سازی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر سے نجات کے لیے قانون پاس کیا گیا ہے۔ بچوں کی ملازمت کا ایکٹ 1991 پاکستان کا وہ تازہ ترین قانون ہے جسے خاص طور پر چائلڈ لیبر کے خاتمے کے تناظر میں نافذ کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو ذہنی و جسمانی خطرات والے شعبوں میں کام کرنے پر پابندی ہے۔

ملکی ترقی اور معاشرتی بہبود کے حصول میں بچوں کی مزدوری( چائلڈ لیبر) کا خاتمہ ایک اہم معاملہ ہے۔ چائلڈ لیبر نے غربت اور تعلیم کی کمی جیسے مسائل کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتی اقدامات پر مشتمل نہیں ہو سکتا، بلکہ معاشرتی اور سماجی سطح پر تبدیلی اور اقدامات بھی ضروری ہیں۔  
معاشرہ مجموعی طور پر چائلڈ لیبر کے خاتمے میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ معاملہ ہمارے معاشرتی اقداراور سماجی اعتقادات کے ساتھ بھی وابستہ ہے۔  
چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ہر بچہ اس کا حق حاصل کر سکے۔ تعلیمی اداروں کی فراہمی اور ترقی سماج کے اہم مقاصد میں سے ایک ہونی چاہئے۔ اسن کے ساتھ ہی سماج کو چائلڈ لیبر کے نقصانات کی آگاہی دینا ضروری ہے۔ اس سے لوگوں کی سمجھ میں اضافہ ہوگا کہ چائلڈ لیبر کا خاتمہ کرنا ملک و قوم کے مستقبل کے لیے کیسے سود مند ہوسکتا ہے۔ حکومت کو ایسی موثر قانون سازی کرنی چاہئے جو چائلڈ لیبر کے خاتمے کی ضامن ہو۔  
سماج کو چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاشرے کے تعاون کے ساتھ امدادی ادارے بچوں کو مزدوری سے نکالنے میں معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ اس وقت چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے سماجی تبدیلی اور مربوط اقدامات کی انتہائی اشد ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ معاشرہ بحیثیت مجموعی چائلڈ لیبر کو ناقابل قبول قرار دے۔ 
بچوں کی مزدوری کا خاتمہ ایک سماجی فرض ہے جس پر ہمیں مل کر عمل کرنا ہوگا۔ اگر ہم سماج کے مختلف اقسام میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اپنا حصہ ادا کریں تو ہم ایک بہتر معاشرتی و معاشی مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔

 

 

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عدت نکاح کیس ،عدالت کااپیلوں پر ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ کا سیشن کورٹ کو 10 روز میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عدت نکاح کیس ،عدالت کااپیلوں پر ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدت میں نکاح کیس کی اپیل کا ایک ماہ میں فیصلہ کرنے اور سیشن کورٹ کو 10 روز میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عدت میں نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سیشن کورٹ کو بشریٰ بی بی سزا معطلی کی درخواست پر 10 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

دوران سماعت وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں کہا کہ میں نے اپنے کیریئر میں کبھی نہیں دیکھا جج نے اس طرح اچانک کیس ٹرانسفر کیا ہو، سیشن جج نے کیس سنا تھا اب ایڈیشنل سیشن جج کو ٹرانسفر کر دیا گیا، ایڈیشنل سیشن جج کو کیوں کیس ٹرانسفر کیا گیا؟

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پہلی ہماری استدعا ہے سیشن جج شاہ رخ ارجمند کو محفوظ فیصلہ سنانے کی ہدایت کی جائے، ہائیکورٹ یا پھر خود اپیل سن کر فیصلہ کرے اور تیسری صورت یہ ہے کہ اپیل سیشن جج ویسٹ کو ٹرانسفر کی جائے، عدالت سیشن کورٹ کے لیے اپیل کا فیصلہ کرنے کے لیے وقت مقرر کرے، سیشن جج ایسٹ سن رہے تھے اب پھر سیشن جج ویسٹ کو کیس ٹرانسفر کر دیا جائے، دو دن میں ٹرائل ہوا اب اپیلیں بھی اسی طرح سنی جانی چاہئیں۔

خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے دلائل میں کہا کہ خاور مانیکا نے جج پر اعتراض کیا عدالت نے درخواست مسترد کر دی، خاور مانیکا نے دوبارہ اعتراض کیا تو سیشن جج نے معاملہ ہائیکورٹ کو بھیج دیا، ہائیکورٹ نے ایڈمنسٹریٹر سائیڈ پر یہ اپیلیں ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ کو بھیج دیں، اس عدالت کے ایڈمنسٹریٹر آرڈر کو بلواسطہ یا بلا واسطہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

خاور مانیکا کے وکیل نے اپیل ایڈیشنل سیشن جج سے سیشن جج کو ٹرانسفر کرنے کی مخالفت کر دی۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے عدت کیس کی اپیل کا ایک ماہ میں فیصلہ کرنے اور سیشن کورٹ کو 10 روز میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے حکم دیا کہ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا دونوں درخواستوں پر عدالت کے مقرر کردہ وقت کے اندر فیصلہ کریں۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی نے سیشن جج کو محفوظ فیصلہ سنانے کی ہدایت دینے کی استدعا جبکہ دوسری صورت میں اپیل خود ہائیکورٹ کو سننے کی استدعا کر رکھی تھی، بشریٰ بی بی نے سیشن کورٹ میں زیر التوا سزا معطلی درخواست سن کر فیصلہ کرنے کی استدعا کر رکھی تھی۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امور کے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب

تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل سلیم سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین منتخب ہو گئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امور کے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب

سینیٹر فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امورکے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب ہو گئے ۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امورکے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب ہونے پر کمیٹی ارکان نے شکریہ ادا کیا۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ بحری مسائل کی نشاندہی ہی نہیں، بلکہ مسائل کا حل میری ترجیح ہوگیا، سب کو ساتھ لیکر چلیں گے۔

سینیٹر فیصل سلیم سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین منتخب ہو گئے، جبکہ تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل سلیم بھی بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll