جی این این سوشل

تجارت

کاروباری ہفتے کا پہلا دن، ڈالر کی قیمت میں کمی

انٹر بینک میں ڈالر 278 روپے 60 پیسے کا ہو گیا،کرنسی ڈیلرز

پر شائع ہوا

کی طرف سے

کاروباری ہفتے کا پہلا دن، ڈالر کی قیمت میں کمی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تبادلہ مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی تسلسل برقرار ہے۔

کرنسی ڈیلرز کے مطابق حالیہ ہفتے کی طرح کاروباری ہفتے کے پہلے روز بھی انٹر بینک میں دوران کاروبار ڈالر کی قدر میں مزید کمی ہو گئی۔

ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں دوران کاروبار ڈالر کی قدر میں 14 پیسے کمی ہو گئی۔ اس کمی کے بعد انٹربینک میں ڈالر 278روپے 60 پیسے میں ٹریڈ ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ انٹر بینک میں کاروباری ہفتے کے آخری دن ڈالر 278 روپے 74 پیسے پر بند ہوا تھا۔

پاکستان

ہمارا نظام انصاف انتہائی فرسودہ ہے، وفاقی وزیر قانون

جب سے ہماری حکومت آئی ہے ہم ان مسائل کے حل کی کوشش میں لگے ہیں، اعظم نذیر تارڑ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ہمارا نظام انصاف انتہائی فرسودہ ہے، وفاقی وزیر قانون

فاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ہمارا نظام انصاف انتہائی فرسودہ ہے خصوصا فوج داری مقدمات کو تو کوئی پرسان حال ہی نہیں ہے۔ جب سے ہماری حکومت آئی ہے ہم ان مسائل کے حل کی کوشش میں لگے ہیں۔فرسودہ نظام انصاف کو تبدیل کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے راولپنڈی میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے کردار ادا کریں گے، فرسودہ نظام انصاف میں تبدیلی کے لیے بار کونسل سے بھی تجاویز لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جنگی بنیادوں پر فوجداری قوانین پر کام کیا، فرسودہ نظام انصاف میں بہت سی اصلاحات ہونا ہیں اور سب کی ذمہ داری ہے کہ فرسودہ نظام انصاف کو تبدیل کریں۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اٹک کچہری میں وکلا کا قتل ہمارے لیے ٹیسٹ کیس اور حکومت کیلئے چیلنج ہے،انصاف ہوگا بھی اور ہوتا ہوا نظر آئے گا، ہم کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کریں گے چاہے وہ ملزم ہے،وکلا کے قتل میں ملوث ملزم گرفتار ہوچکا ہے۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ عدلیہ سے گزارش کروں گا انصاف تول کر کریں، عدلیہ وکلا کو گلے سے لگا کر رکھے، وکلا دہشتگرد نہیں ہیں،فساد پیدا کرنے والے نہیں ہیں، وکلا پر دہشتگردی کے پرچے درج کرانا عدلیہ کے شایان شان نہیں، جب تک میں ہوں،وکلا پر اب دہشتگردی کا مقدمہ نہیں ہوا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پاکستان میں سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات آج ہوگی

کراچی میں آج دن 13 گھنٹے 41 منٹ کا ہوگا جب کہ رات 10 گھنٹے 19 منٹ کی ہوگی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاکستان میں سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات آج  ہوگی

 آج پاکستان میں سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات ہوگی۔ 21 جون کا دن شمالی نصف کرے میں 2024 کا سب سے طویل ترین دن ہے۔

کراچی میں آج دن 13 گھنٹے 41 منٹ کا ہوگا جب کہ رات 10 گھنٹے 19 منٹ کی ہوگی ۔ یکم جولائی کے بعد دن کا دورانیہ بتدریج کم ہونا شروع ہو جاتاہے اور 22 ستمبر کو دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہوجاتا ہے۔

چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق 22 دسمبر کو سال کا مختصر ترین دن اور رات طویل ترین ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں آج دن کا دورانیہ 14 گھنٹے 32 منٹ طویل ہوگا۔ رات 9 گھنٹے 28 منٹ کی ہوگی۔

یہ دن ’سمر سولِسٹِس‘ نامی ایک فلکیاتی وقوعہ ہے جو سال کے طویل ترین دن اور ناردرن ہیمسفیئر (جنوبی نصف کرے) میں موسمِ گرما کے آغاز کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ وقوعہ عموماً 21 جون کو ہی پیش آتا ہے لیکن مختلف ٹائم زون ہونے کی وجہ سے یہ 20 یا 22 جون کو بھی رونما ہوسکتا ہے۔

اس دن خطِ استواء سے اوپر شمالی ہیمسفیئر میں رہنے والی دنیا کی 90 فی صد آبادی سال کا سب سے طویل مدت کا دن اور قلیل مدت کی رات گزارتی ہے۔

’سمر سولسٹِس‘ کے وقوعہ میں سورج آسمان میں اپنے بلند ترین مقام پر ہوتا ہے۔ ایسا سال میں صرف ایک بار ہوتا ہے جس کی وجہ دنیا کے محور کا سورج کے گرد اپنے مدار کی مناسبت سے 23.5 ڈگری کے ذاویے پر جھکا ہوا ہونا ہے۔ اس ہی جھکاؤ کی وجہ سے دنیا کے موسموں میں تبدیلی آتی ہے۔

21 جون سے پہلے اور بعد میں کئی دنوں تک الاسکا، کینیڈا، گرین لینڈ اور اسکینڈینیویا سمیت آرٹک خطے میں رہنے والے لوگ مِڈ نائٹ سن یعنی مسلسل دن کی روشنی میں رہتے ہیں۔

دوسری جانب سدرن ہیمسفیئر(جنوبی نصف کرے) میں 21 جون سال کا سب سے چھوٹا دن ہوتا ہے اور دنیا کی 10 فی صد آبادی جو ارجنٹینا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں رہنے والوں کے یہ موسمِ سرما کی ابتداء ہوتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار

رقم قرضوں کی واپسی کے علاوہ نصیر آباد میں ٹیکنیکل سینٹر کے قیام اور فراہمی آب کے لیے خرچ کیا جائے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار

بلوچستان ہائیکورٹ نے گندم خریداری کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس سردار شوکت رخشانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا جبکہ فیصلے میں 5 ارب کی لاگت سے گندم خریداری کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کابینہ کے فیصلے کو متعدد وجوہات کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا،ا یک وجہ یہ بھی تھی کہ محکمہ خوراک کے پاس مزید 500 بوری گندم رکھنے کی صلاحیت نہیں، محکمہ خوراک کے ڈی جی کے مطابق محکمے کے پاس پہلے ہی 8 لاکھ 15 ہزار بوری گندم پڑا ہوا ہے، صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے مزید خریداری سے گندم خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

فیصلے کے مطابق سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب گوداموں میں گندم رکھنے کی صلاحیت نہیں تو مزید پانچ لاکھ بوری گندم کیوں خریدی جارہی ہے؟ جب اوپن مارکیٹ میں قیمتیں کم ہیں تو حکومت بلوچستان کیوں بڑے پیمانے پر گندم خرید رہی ہے؟

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کی علم میں یہ بھی ہے کہ ماضی میں گندم کی خریداری کے حوالے سے بڑے اسکینڈلز ہوئے، ان ہی وجوہات کی بنیاد پر کابینہ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، وزیر اعلیٰ کے تجویز کے مطابق 5ارب روپے کی رقم قرضوں کی واپسی کے علاوہ نصیر آباد میں ٹیکنیکل سینٹر کے قیام اور فراہمی آب کے لیے خرچ کیا جائے، بلوچستان کی کمزور مالی حالت کے پیش نظر حکومت غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ غیرضروری اخراجات کی کمی کے لیے حکومت نقصان کا باعث بننے والے محکموں کے خاتمے کے لیے سفارشات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے۔ گندم خریداری کےفیصلےکےخلاف شہری نے دائر کی تھی، وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی میں عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll