Advertisement
علاقائی

طالبہ سے مبینہ زیادتی سے متعلق وائرل خبرکی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

جے آئی ٹی میں تین پولیس اور تین حساس اداروں کے نمائندے شامل ہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Oct 18th 2024, 3:34 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
طالبہ سے مبینہ زیادتی سے متعلق وائرل خبرکی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

طالبہ سے مبینہ زیادتی سے متعلق وائرل خبرکی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے معاملے کے تحقیقات کےلیے جے آئی ٹی تشکیل دی۔ جے آئی ٹی ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد نوید کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے۔ چھ رکنی ٹیم میں تین پولیس افسر اور تین حساس اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تھانہ ڈیفنس اے میں درج مقدمے کی تفتیش کرے گی۔

تحقیقات میں سوشل میڈیا پر ریاست مخالف اکسانے کی ترغیب دینے والوں کی نشاندہی کی جائےگی اور سوشل میڈیا پر لڑکی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کا بھی سراغ لگایا جائے گا۔ ایس ایس پی محمد نوید نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج طلب کرلیا۔

کالج پرنسپل کی درخواست پر درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ شک ہے اس معاملے میں دو طلبا کا کردار ہوسکتا ہے، ان طلبا کو ویڈیوز بنانے سے روکنے کے لیے وائس پرنسپل نے تنبیہ کی تھی، سوشل میڈیا پر اس پروپیگنڈے کے بعد ایک بےقابو اور پرتشدد ہجوم نے ہمارے کیمپس پر حملہ کیا۔

علاوہ ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ نے نجی کالج کیس کی خبر وائرل کرنے کے کیس میں ایک ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کا حکم جاری کردیا جب کہ  کالج واقعات کی تحقیقات کے کیس میں آج آئی جی اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو لاہور ہائیکورٹ میں طلب کیا گیا ہے۔

Advertisement