Advertisement
علاقائی

دکی کوئلہ کان پر حملے کے بعد مزدورآبائی علاقوں کو روانہ، کوئلے کی سپلائی معطل

دکی ضلع میں 12 ہزار کوئلے کی کانوں پرتقریبا 50 ہزار کے قریب غیر مقامی مزدور کام کرتے ہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Oct 20th 2024, 1:38 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
دکی کوئلہ کان پر حملے کے بعد مزدورآبائی علاقوں کو روانہ، کوئلے کی سپلائی معطل

دکی:کوئلے کی کان میں حالیہ ہونے والے دہشتگرد حملے کی وجہ ہزاروں غیر مقامی مزدور اپنے آبائی علاقوں کی طرف رواںہ ہو چکے ہیں جس سے کوئلے کی سپلائی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے دکی میں حالیہ ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے 40 ہزار مزدور اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہو چکے ہیں جس سے ضلع بھر میں کوئلے کی سپلائی میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔

لیبر ایسوسی ایشن حکام کے مطابق ضلع میں 12 ہزار کوئلے کی کانوں پرتقریبا 50 ہزار کے قریب غیر مقامی مزدور کام کرتے ہیں  جس سے روزانہ 150 کے قریب ٹرکوں پر کوئلہ پنجاب،سندھ اور ملک کے دوسرے علاقوں میں بھیجا جاتا تھا  لیکن حالیہ دہشت گرد حملے کی وجہ سے مزدور اپنے آبائی علاقوں کی طرف روانہ ہو چکے ہیں جس سے ضلع بھر میں کوئلے کی کانیں سنسان ہو چکی ہیں۔

لیبر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کوئلے کے ذخائر کا کل حجم  25 کروڑ ٹن سے زائد ہے جہاں تقریبا 80 ہزار کے قریب غیر مقامی مزدور کام کرتے ہیں،یہیں سے ان کی روزی روٹی جڑی ہوئی تھی مگر دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے جہاں مزدوروں کی روزی روٹی چلی گئی ہے وہی ملک میں صنعتوں کو کوئلے کی سپلائی میں  کمی واقع ہوئی ہے جس سے صنعتوں اور ملک کا  نقصان ہورہا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ہفتہ قبل دہشتگردانہ حملے میں جاں بحق ہونے والے 21 افراد کو تاحال معاوضہ نہیں ملا، خیال رہے کہ صوبائی حکومت نے جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو 15، 15 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔

Advertisement