Advertisement
تفریح

تیونس: پارلیمنٹ میں خاتون رکن عبیر موسیٰ پر مرد ارکان کاتشدد

تونیزیا : تیونس کی حکومت نے فری کانسٹیٹی ٹیویشنل پارٹی کی خاتون سربراہ عبیر موسی ٰ پر ایوان کے اندار تشدد کی مذمت کی ہے ، حکومت نے ایک بیان میں کاہ ہے کہ ایوان کے اندر کوئی بھی کسی بھی وجہ سے جسمانی یا لفظی تشدد کی راہ اپنائے گا تو ہم اس کی مذمت کریں گے ، اس روش سے باز رہنا چاہیے ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Jul 3rd 2021, 1:09 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

 

 

رکن پارلیمان سیف الدین مخلوف نے ان کے چہرے پر تھپڑ مارے ،گالیاں اور دھمکیاں دے کر ان کی توہیں کی جبکہ اس کے بعد علی الصباح ایک اور رکن پارلیمان الصبحی صمارہ نے ان پر ایسا ہی تشدد کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں :عید 20 جولائی کو ہوگی ، چھ چھٹیاں ملیں گے

 

 

تھپڑکھانے کے بعد عبیر موسیٰ درد کی شدت سے رونے لگی اور انہوں نے ایوان کے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ ایمبولینس منگوا لیں انہوں نے خود پر حملہ کرنے والے ساتھی ارکان پارلیمان کو مجرم قرار دے دیا ۔

یہ بھی پڑھیں : موٹر وے پر سفر کرنے والوں کیلئے نہایت بری خبر

عبیر موسیٰ نے ایوان میں دوسری مرتبہ تشدد کا نشانہ بننے سے قبل سے ایک انٹرویو قائد ایوان راشد الغنوشی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ایسے لوگ بھرتی کیے ہوئے ہیں جنہیں میرے ایوان میں داخلے کا راستہ بند کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے انہوں نے راشد الغنوشی کو فساد کی جڑ قرار دیا ۔

یہ بھی پڑھیں :عازمین حج کیلئے خوشخبری

 

 

واضح رہے کہ عبیر موسیٰ ایک میں اپنے ساتھ ارکان کے ہاتھوں دو مرتبہ تشدد کا نشانہ بنی ہیں ۔ 

 

Advertisement
Advertisement