غالب نے اردو میں جو نئی اصناف متعارف کروائیں اور جو خطوط لکھے وہ اپنی مثال آپ ہیں


لاہور: اردواور فارسی زبان کے نامور شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کی 157ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔
مرزا غالب کا اصل نام اسد اللہ خان بیگ جبکہ تخلص غالب تھاوہ 27دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے، بچپن میں ہی والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا جس کے بعد ان کی پرورش ان کے چچا نصر اللہ بیگ نے کی۔
مرزا غالب نے کم عمری میں ہی شاعری کا آغاز کیا وہ زیادہ تر فارسی میں شعر کہا کرتے تھے ان کی اردو غزلیں محبت اور خوبصورتی کا حسین امتزاج تھا انہیں جدید اردو کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔
1855 میں استادابراہیم ذوق کی وفات کے بعد مرزا غالب بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دربار میں استاد مقرر ہوئے۔ دربار سے نجم الدولہ، دبیرُ الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے۔
اسے اپنا فارسی کلام بہت پسند تھا، لیکن جو مقبولیت اور شہرتِ دوام اسے حاصل ہوئی، وہ اردو شاعری کی بدولت ہوئی۔ اسے برصغیر کا عظیم شاعر تسلیم کیا گیا۔ آج ہر خاص و عام اسے مرزا غالب کے نام سے جانتا ہے۔

غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی سے وابستگی بھی بڑی شدت سے نظر آتی تھی۔ غالب کی تحریروں نے اردو شاعری کے دامن کو وسعت دی۔
غالب نے اردو میں جو نئی اصناف متعارف کروائیں اور جو خطوط لکھے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے۔مرزا غالب تا عمر اولاد جیسی نعمت سے محروم رہے۔
آخری عمر میں غالب شدید بیمار رہنے لگے اور پھر 15 فروری 1869ء کو خالق حقیقی سے جاملے، جب تک اردو زندہ ہے ان کا نام بھی جاویداں رہے گااور جب تک اردو شاعری زندہ ہے، غالب کا نام ہی غالب رہے گا۔
پاکستان میں 1969ء میں غالب کی زندگی پر دستاویزی فلم بھی بنائی گئی جبکہ پاکستان میں غالب پر ڈرامہ بھی بنایا گیا جس میں قوی خان نے غالب کا کردارا دا کیا۔

جے ڈی وینس ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعد واپس امریکا روانہ
- 2 گھنٹے قبل

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھیں گے،اسحاق ڈار
- 2 گھنٹے قبل

ہر نسل کے دلوں پر راج کرنے والی معروف بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے انتقال کر گئیں
- 2 گھنٹے قبل

ایران کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے،ابھی تک حتمی معاہدے پر نہیں پہنچے،جے ڈی وینس
- 3 گھنٹے قبل

پاکستانی کسان اور موسمیاتی تبدیلی:سیلاب اور بے موسمی بارشوں کے اثرات
- 21 گھنٹے قبل

بات چیت میں متعدد نکات پر اتفاق رائے پر پہنچ گئے،ہم نےسفارتکاری کا راستہ بند نہیں،ایران
- 2 گھنٹے قبل

جے ڈی وینس کی وفد کے ہمراہ وزیر اعظم سےملاقات،دو طرفہ تعلقات اورعلاقائی امور پر تبادلہ خیال
- ایک دن قبل

"خون پانی سے گاڑھا ہوتا ہے" کہنے والی آشا بھوسلے دنیا سے رخصت ہو گئیں، بھارتی موسیقی کا سنہری باب بند
- 44 منٹ قبل

وزیر اعظم شہباز شریف کا جون میں دورہ روس کا امکان، پیوٹن سے ملاقات متوقع
- ایک دن قبل

مذاکرات کے دور میں مخالف فریق ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا،باقر قالیباف
- 31 منٹ قبل

وزیر اعظم سے ایرانی وفد کی ملاقات،عالمی و علاقائی امن کی صورتحال اور مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال
- ایک دن قبل

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات جاری
- 20 گھنٹے قبل













