حبیب جالب اپنی انقلابی سوچ کے تحت آخر دم تک سماج کے محکوم عوام کو اعلی طبقات کے استحصال سے نجات دلانے کا کام کرتے رہے


24مارچ 1928 کو ہندوستان کے ضلع ہوشیار پور میں ایک کسان گھرانے میں آنکھیں کھولنے والے حبیب جالب نے نئی دلی کے اینگلو عربک ہائی اسکول سے میٹرک کیا، ابتدا میں وہ روایتی انداز میں غزلیں کہا کرتے تھے۔
تقسیم ہند کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا۔ جس کے بعد غریبوں کے حالات زندگی اور معاشرتی نا انصافیاں ان کی شاعری کا موضوع بن گئے۔ بعد ازاں وہ لاہور منتقل ہوگئے اور تمام زندگی وہیں گزاری۔
حبیب جالب کی سوچ ایک عام آدمی کی عکاس تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ سماج کے ہر اس پہلو سے لڑے جس میں آمریت کا رنگ جھلکتا تھا۔ وہ اپنی انقلابی سوچ کے تحت آخر دم تک سماج کے محکوم عوام کو اعلی طبقات کے استحصال سے نجات دلانے کا کام کرتے رہے۔
انہوں نے جو دیکھا اورجو محسوس کیا، نتائج کی پرواہ کئے بغیر اس کومن و عن اشعار میں ڈھال کر ہر دور کے جابر اور آمر حکمران کے سامنے کلمہ حق بیان کیا۔ یہی وجہ تھی کہ جہاں انہوں نے ایوب خان ، یحییٰ خان اور ضیاالحق کے دور آمریت میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں وہیں جمہوری ادوار میں بھی ان پر مختلف پابندیاں لگائی جاتی رہیں۔
حبیب جالب نے ظلم ، زیادتی ، ناانصافی اور عدم مساوات کے حوالے سے جو بھی کہا وہ زبان زدِعام ہو گیا، ان کا ہر شعر مظلوم کے دل کی آواز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آمرانہ ادوار میں کی جانے والی جدوجہد ہو یا سیاسی قائدین کے انتخابی خطاب، کوئی بھی تقریر یا مقالہ ان کی شاعری کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔
حبیب جالب 1993 کو آج ہی کے روز انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے لیکن ان کی شاعری سے پیدا ہونے والا جوش، ولولہ اور پیدا کردہ ولولہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں موجزن ہے۔
وزیرِ دفاع کی پاکستان تحریک انصاف کو میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنے کی دعوت
- 15 گھنٹے قبل

نئے تعینات ہونے والے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب سالک جلال کا اصلاحاتی مشن، جیلوں کے اچانک دوروں کا آغاز
- 13 گھنٹے قبل

ایرانی صدر کی علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کی تعریف
- ایک دن قبل
ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل، بعد ازاں دہلی واپس روانہ
- 5 گھنٹے قبل
پاکستانی قیادت کی امن کوششوں سے عالمی جنگ بندی ممکن ہوئی، طاہر اشرفی
- 6 گھنٹے قبل
امیرِ قطر کی پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو مبارکباد
- 10 گھنٹے قبل

تعبیر فاؤنڈیشن اور کِٹاس کالج کے درمیان مستحق اور ذہین طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف کی فراہمی کا معاہدہ
- ایک دن قبل

ایرانی صدرمسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
- 2 دن قبل
پی آئی بی ایف کی جانب سے پاکستان۔ایران تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے چھ نکاتی ایجنڈا ایرانی سفیر کو پیش
- 15 گھنٹے قبل
امریکہ نے ایرانی فٹ بال ٹیم پر لگائی گئی سفری پابندیاں نرم کر دیں
- 13 گھنٹے قبل

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر پیش
- ایک دن قبل

پرواز کارڈ کے تحت 135 ہنر مند نوجوان سعودی عرب روانہ، وزیراعلیٰ پنجاب نے پرواز کارڈ اور بلاسود قرضے تقسیم کیے
- 13 گھنٹے قبل












.webp&w=3840&q=75)
