روسی صدر کا امریکی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، یوکرین جنگ سمیت دیگر امور پر گفتگو
پیوٹن نے امریکی تجویز پر فوج کو یوکرینی توانائی انفرااسٹرکچر پر حملوں سے روک دیا


روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے۔ روس اور امریکی صدور کے درمیان ڈھائی گھنٹے طویل بات ہوئی جس میں یوکرین جنگ سمیت دیگر امور پر گفتگو کی گئی۔
ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان گفتگو کی گئی کہ امریکا اور روس کے درمیان بہتر تعلقات کے بہت فوائد ہیں، یوکرین اور روس جانی و مالی نقصان اٹھا رہے ہیں، جنگ پر استعمال رقم ان کے عوام کی ضروریات پر خرچ ہونی چاہیے تھی، یہ جنگ کبھی شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی، مخلصانہ اور نیک نیتی پر مبنی امن کوششوں کے ذریعے اسے بہت پہلے ختم کر دینا چاہیے تھا۔
دونوں صدر نے اتفاق کیا کہ مشرق وسطیٰ ایسا خطہ ہے جہاں مستقبل میں ممکنہ تعاون کے ذریعے تنازعات کو روکا جا سکتا ہے، اسلحہ کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت ہے، اِس مسئلے کو وسیع تر سطح پر حل کرنے کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور ایران کو کبھی بھی اسرائیل کی تباہی کی پوزیشن میں نہیں ہونا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق روس نے یوکرینی توانائی انفرااسٹرکچر پر 30 روز کیلئے حملے نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور دونوں نے بُحیرہِ اسود میں جنگ بندی، مستقل امن کے لیے تکنیکی مذاکرات پر اتفاق کیا۔ مذاکرات فوری طور پر مشرق وسطیٰ میں شروع ہوں گے۔
روسی صدارتی محل کریملن کے مطابق صدر پیوٹن نے روسی فوج کو 30 دن تک یوکرین کے توانائی کے انفرااسٹرکچر پر حملے سے گریز کا حکم دیا۔ کریملن ترجمان کا کہنا ہے کہ روسی صدر نے امریکی صدر کی یوکرین میں توانائی انفرااسٹرکچر پر حملوں کی تجویز پر مثبت ردعمل دیا اور فوری طور پر فوج کو حکم جاری کیا۔
ترجمان کے مطابق روس اور یوکرین 175 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کریں گے۔ دوسری جانب برطانوی میڈیا کے مطابق جنگ ختم کرنے میں مزید پیش رفت کیلئے روسی مطالبات کی طویل فہرست برقرار ہے۔
یوکرینی صدر زیلنکسی کا کہنا ہے کہ پیوٹن کی شرائط ظاہرکرتی ہیں کہ روس جنگ بندی کیلئے تیار نہیں، روسی صدر کا مقصد یوکرین کو کمزور کرنا ہے۔جنگ بندی کی امریکی تجویز پر ٹرمپ سے بات کریں گے، امریکی صدر سے گفتگو کا مقصد یہ جاننا ہوگا کہ روس نے امریکا کو کیا پیشکش کی۔
زیلنسکی نے کہا کہ یہ جاننا بھی چاہتے ہیں کہ امریکا نے روس کو کیا پیشکش کی، جنگ بندی کی امریکی تجویز کی حمایت کرتے ہیں لیکن امریکا سے مزید تفصیلات درکار ہیں۔

راولا کوٹ پولیس کی کامیاب کارروائی، بھارتی ایجنسی ’را‘ کیلئے کام کرنے والا خفیہ ایجنٹ گرفتار
- 17 hours ago

امریکا اور ایران مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع ہے، فی الحال حتمی تاریخ کا فیصلہ نہیں ہوا ،دفتر خارجہ
- 17 hours ago

پاکستان ترکیہ کے مشترکہ کمانڈو اور سپیشل فورسز مشق’ جناح‘XIII کامیابی سے مکمل
- 15 hours ago

فیلڈ مارشل کی باقر قالیباف سے ملاقات، مذاکرات اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 14 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا ایک دفعہ پھر مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
- 17 hours ago

لبنانی صدرجوزف عون نے نیتن یاہو سے براہِ راست مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا
- 11 hours ago

امریکا ایران مذاکرات کا مشن ،وزیرِ اعظم دوحہ پہنچ گئے،امیرِ قطر شیخ تمیم بن آلثانی سے ملاقات ہوگی
- 17 hours ago

تونسہ میں 334 افراد میں ایڈز کی تشخیص، 12 سال سے کم عمر 331 بچےبھی شامل، خواجہ عمران نذیر
- 11 hours ago

مذاکرات صرف پاکستان میں ہی ہوں گے، کسی اور جگہ نہیں،ایران کا واضح پیغام
- 14 hours ago

اگر ایران نے معاہدہ نہیں کیا تو امریکی افواج دوبارہ جنگی کارروائیاں کرنے کیلئے تیار ہیں،پیٹ ہیگسیتھ
- 11 hours ago

وزیرِ اعظم کی امیرِ قطر سے ملاقات ،دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پرتفصیلی تبادلۂ خیال
- 15 hours ago

شہریوں کیلئے اچھی خبر،مریم نواز نے مزید 10 اضلاع میں الیکٹرک بسز کی منظوری دے دی
- 16 hours ago




.jpg&w=3840&q=75)

