ہم 55 فیصد ٹیرف حاصل کر رہے ہیں، جبکہ چین کو 10 فیصد مل رہا ہے، صدر ٹرمپ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔
واشنگٹن اور بیجنگ کے مذاکرات کاروں نے لندن میں دو روزہ طویل بات چیت کے بعد ایک فریم ورک پر اتفاق کیا، جس کا مقصد نازک تجارتی جنگ بندی کو دوبارہ فعال بنانا اور چین کی نایاب ارضی معدنیات اور دیگر اہم صنعتی پرزہ جات کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر تحریر کیا، ’ہمارا معاہدہ چین کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے، صرف صدر شی اور میرے درمیان حتمی منظوری باقی ہے۔ چین کی جانب سے مکمل میگنیٹس (مقناطیس) اور تمام ضروری نایاب ارضی معدنیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح ہم چین کو وہ سب کچھ فراہم کریں گے جس پر اتفاق ہوا ہے، جن میں چینی طلبہ کا ہماری جامعات میں تعلیم حاصل کرنا بھی شامل ہے (جو ہمیشہ میرے لیے قابل قبول رہا ہے!) ہم 55 فیصد ٹیرف حاصل کر رہے ہیں، جبکہ چین کو 10 فیصد مل رہا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر شی اور میں امریکا اور چین کے درمیان تجارت کھولنے کے لیے قریبی تعاون کریں گے۔ یہ دونوں ممالک کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
معاہدے کے نفاذ سے متعلق دیگر تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔ جبکہ چینی وزارت تجارت نے بھی فی الحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
امریکی و چینی حکام نے لندن میں پیر کو ایک ہنگامی ملاقات کا آغاز کیا تھا، جس سے قبل ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے درمیان ایک ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا۔ اس رابطے نے جنیوا میں پچھلے ماہ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے بعد پیدا ہونے والے جمود کو توڑا۔
اس سے قبل، جنیوا معاہدہ چین کی جانب سے اہم معدنیات کی برآمدات پر جاری پابندیوں کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا تھا، جس پر امریکا نے ردعمل میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن سافٹ ویئر اور دیگر مصنوعات کی چین کو برآمد پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے مطابق لندن میں طے پانے والے معاہدے کے تحت چین کی نایاب ارضی معدنیات اور میگنیٹس کی برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی جائیں گی، جبکہ امریکا کی جانب سے بھی حالیہ برآمدی پابندیوں میں توازن قائم کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
چینی نائب وزیر تجارت لی چینگ گینگ نے بھی تصدیق کی کہ ایک فریم ورک طے پا گیا ہے جسے اب دونوں ممالک کے صدور کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ٹرمپ کی یکطرفہ ٹیرف پالیسیوں نے عالمی منڈیوں میں افراتفری پھیلائی، بندرگاہوں پر رکاوٹیں پیدا ہوئیں، اور کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ عالمی بینک نے منگل کو 2025 کے لیے اپنی عالمی ترقی کی پیش گوئی 0.4 فیصد کم کر کے 2.3 فیصد کر دی ہے، جس کی وجہ تجارتی پالیسیوں میں غیر یقینی صورت حال اور زیادہ ٹیرف بتائی گئی ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان حالیہ معاہدہ جنیوا معاہدے کو ناکام ہونے سے بچا سکتا ہے، تاہم یہ بنیادی اختلافات کو ختم نہیں کرتا جو کہ چین کے ریاستی سرپرستی پر مبنی برآمدی اقتصادی ماڈل اور ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں سے متعلق ہیں۔

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزارں روپے کا مزید اضافہ
- a day ago

عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردی
- a day ago
پرائیویٹ حج اسکیم کی بکنگ کے حوالے سے وزارت کا نیا بیان سامنے آگیا
- 8 hours ago
ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے قتل کا معمہ حل، والد اوربھائی نےقتل کیا
- 3 days ago
ملک میں سونے کی قیمتوں پھر بڑا اضافہ ریکارڈ
- 3 days ago

بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈی جے کراچی میں سروں سے بھری شام سجانےکو تیار
- a day ago
دوسری شادی کیوں کی؟ سینئر اداکار نےوجہ بتادی
- 8 hours ago

سونے کی فی تولہ قیمت میں معمولی کمی
- 7 hours ago
شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نیا انکشاف
- a day ago

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات
- a day ago

پنجاب کے مختلف شہروں میں تھیٹرز کے خلاف بڑا ایکشن، 8 اداکاراؤں پر پابندی
- a day ago
وزیراعظم اور ملائیشین ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، دوطرفہ تعاون پر گفتگو
- 3 days ago

