اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ "ہر وہ شہری جو ٹیکس ادا کرتا ہے، ہمارے لیے اہمیت رکھتا ہے


چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس گزاروں کو تنگ کرنے یا نگرانی و اصلاحات کے نام پر شہریوں کو ہراساں کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اختیارات کا غلط استعمال کرنے والے ایف بی آر افسران کو نظام میں کسی قسم کی رعایت نہیں ملے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ "ہر وہ شہری جو ٹیکس ادا کرتا ہے، ہمارے لیے اہمیت رکھتا ہے۔" ان کے مطابق، گزشتہ برسوں میں ادارے میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جن کا مقصد جوابدہی کو بہتر بنانا، بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنا اور ایمانداری کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ عوام اور ٹیکس حکام کے درمیان عدم اعتماد بڑھ رہا ہے، اور اس تاثر کو ختم کرنا ایف بی آر کی ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ:
"ہمارا مقصد زیادہ یا کم ٹیکس اکٹھا کرنا نہیں بلکہ شفاف اور منصفانہ نظام قائم کرنا ہے۔"
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ وہ افسران جن کی ساکھ مشکوک ہے، انہیں اہم ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی ترقی بھی روک دی گئی ہے۔ شہریوں کو آسان رسائی دینے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومتی کارکردگی پر بلال اظہر کیانی کا اظہار اطمینان:
اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے معیشت سے متعلق اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتی اقدامات کے باعث مہنگائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، پچھلے مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح 12 فیصد کے تخمینے کے برعکس صرف 4.5 فیصد رہی، جب کہ جون 2025 میں یہ شرح گھٹ کر 3.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی ریٹ بھی کم ہو کر 11 فیصد پر آ گیا ہے، جو مالیاتی استحکام کا مظہر ہے۔
بلال کیانی نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ تین سالہ پروگرام طے کیا جس سے معیشت میں بہتری آئی۔
"کئی لوگوں کو خدشہ تھا کہ معیشت سنبھل نہیں سکے گی، لیکن ہم نے بغیر کسی منی بجٹ کے اپنے اہداف حاصل کر لیے۔"
انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پرائمری سرپلس کا ہدف کامیابی سے حاصل کیا گیا، اور ایف بی آر کے ریونیو میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بھی حاصل کیا گیا اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں استحکام آیا۔
فلاحی اقدامات اور عوامی ریلیف:
وزیر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حاصل کردہ اہداف کو اب برقرار رکھنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اہم ترجیحات میں برآمدات میں اضافہ، معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ شامل ہیں۔
فلاحی اقدامات کے حوالے سے بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ایک کروڑ خاندانوں کو مالی معاونت دی جا رہی ہے۔
مالی سال 2024-25 کے لیے پروگرام کا بجٹ 460 ارب سے بڑھا کر 592 ارب کیا گیا، جو اب رواں مالی سال میں مزید بڑھا کر 716 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشنز میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکسز میں نرمی اور بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

امریکا کا یوکرین کو جدید فضائی دفاعی نظام دینے کا فیصلہ
- 4 گھنٹے قبل

پاکستان کی ٹرائی نیشن سیریز میں مسلسل دوسری فتح، یو اے ای کو 31 رنز سے شکست
- 11 منٹ قبل

لاہور: بھارتی دہشت گرد عثمان عرف عبدالرحمٰن کو 20 سال قید کی سزا
- 4 گھنٹے قبل

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کر دی
- 5 گھنٹے قبل

پشاور اور ملحقہ علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال، پی ڈی ایم اے کا ریسکیو آپریشن جاری
- 2 گھنٹے قبل

مریم نواز کا سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لیے انتظامیہ کو بروقت اقدامات کی ہدایت
- 3 گھنٹے قبل
سیلاب متاثرہ خواتین اور بچوں کو ریلیف کیمپوں میں سنگین مسائل کا سامنا
- 9 منٹ قبل

وزیراعظم شہباز شریف چین کے 6 روزہ دورے پر پہنچ گئے، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کریں گے
- 5 گھنٹے قبل

پاکستان فٹبال فیڈریشن کا نیا آفیشل بینک اکاؤنٹ: فیفا کی فنڈنگ جلد ملنے کا امکان
- 7 گھنٹے قبل

صدر پاکستان کی جانب سے (این ایف سی) کی تشکیل میں تبدیلی کی منظوری
- 7 گھنٹے قبل

ملتان میں دریائے چناب کے سیلاب نے مویشیوں اور فصلوں کو تباہ کر دیا
- 5 گھنٹے قبل

تین ملکی سیریز: پاکستان کا متحدہ عرب امارات کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
- 4 گھنٹے قبل