شیخ حسینہ پر انسانیت سوز جرائم کا مقدمہ: زخمی مظاہرین کا پہلا گواہ عدالت میں پیش
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، 77 سالہ حسینہ واجد پر انسانیت کے خلاف جرائم جیسے سنگین الزامات عائد ہیں


بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف جاری مقدمے میں پہلے گواہ نے عدالت کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا۔ یہ گواہ ان مظاہرین میں شامل تھا جنہیں گزشتہ سال حکومت مخالف احتجاج کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان ہی مظاہروں کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، 77 سالہ حسینہ واجد پر انسانیت کے خلاف جرائم جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔ انہوں نے بھارت میں قیام کے دوران عدالتی طلبی کے باوجود وطن واپس آ کر مقدمے کا سامنا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
شیخ حسینہ پر الزام ہے کہ انہوں نے طلبہ کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک کو طاقت کے زور پر کچلنے کے لیے خونریز کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق، جولائی سے اگست 2024 کے درمیان ان مظاہروں میں تقریباً 400 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
پہلے گواہ، کھوکن چندر برمن، ان 11 افراد میں شامل ہیں جنہیں استغاثہ عدالت میں پیش کرے گا۔ 23 سالہ برمن، جو اب ماسک سے چہرہ چھپاتے ہیں، 5 اگست 2024 کو مظاہرے کے اختتام پر گولی کا نشانہ بنے تھے—اسی دن جب شیخ حسینہ مبینہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ڈھاکہ سے فرار ہوئیں۔
عدالت میں اپنے بیان میں برمن نے کہا، "میں انصاف چاہتا ہوں—اپنی اذیتوں کے لیے، اور ان ساتھیوں کے لیے جنہوں نے جانیں قربان کیں۔"
وہ اپنی بائیں آنکھ کھو چکے ہیں، جبکہ چہرے کے دیگر حصے شدید زخمی ہوئے تھے۔
عدالت میں ان کی حالت کی عکاسی کرتی ایک خون آلود ویڈیو بھی دکھائی گئی، جبکہ مقدمے کے ابتدائی بیانات سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کیے گئے۔
استغاثہ نے شیخ حسینہ پر پانچ سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں قتل عام روکنے میں ناکامی بھی شامل ہے۔ ان الزامات کو بنگلہ دیشی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا گیا ہے۔
چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے اتوار کو عدالت میں کہا: "جولائی اور اگست 2024 کے دوران ہونے والے تمام جرائم کی ذمہ داری شیخ حسینہ پر عائد ہوتی ہے۔"
شیخ حسینہ کے ساتھ دو دیگر ملزمان بھی مقدمے کی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کامل مفرور ہیں، جبکہ سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس چوہدری عبداللہ المامون گرفتار ہو چکے ہیں اور وہ اپنا جرم تسلیم کر چکے ہیں۔
اٹارنی جنرل محمد اسد الزمان نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت ایک منصفانہ ٹرائل چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا: "لوگ مارے گئے، معذور ہوئے۔ ہم ان جرائم پر سخت ترین سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔"
شیخ حسینہ کی طرف سے مقرر کردہ سرکاری وکیل عامر حسین نے عدالت کو بتایا کہ چندر برمن کو مظاہروں کے آخری اور پرتشدد دن کے دوران گولی لگی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی پولیس اہلکار بھی مظاہرین سے جھڑپوں میں مارے گئے تھے، اور یہ واضح نہیں کہ برمن کو گولی کس نے ماری۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا شیخ حسینہ سے کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہے، کیونکہ وہ عدالت کی عملداری کو تسلیم کرنے سے انکار کر چکی ہیں۔

ہانیہ عامر نے ایک اور سنگِ میل اپنے نام کر لیا، فوربس ایشیا کی ’30 انڈر 30‘ فہرست میں نام شامل
- a day ago

خواجہ آصف کے لیسکو کیخلاف ٹوئٹ کے معاملے پر ایکسین، ایس ڈی او سمیت 5افراد معطل
- 20 hours ago

200 یونٹ سےکم بجلی استعمال کرنیوالے حقدار صارفین کو سبسڈی ملتی رہےگی، اویس لغاری
- 21 hours ago

ٓآئندہ وفاقی بجٹ میں 1126 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کرنے کا تخمینہ
- 37 minutes ago

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری اور باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق
- 18 minutes ago

بھارتی S-400 دفاعی نظام کی تباہی، سربیا کے صدر نے پاکستان کے مؤقف کی تصدیق کردی
- a day ago

واشنگٹن :پیکجنگ پلانٹ میں کیمیکل ٹینک پھٹنے سے 11 افراد ہلاک،متعدد زخمی
- 19 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
جنگ بندی کے باوجو د امریکہ حملے کر کے مذاکرات کے عمل کو پیچیدہ بناہ رہا ہے، ایران
- an hour ago

آئندہ مالی سال وفاقی بجٹ کا حجم ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ رہے گا،ذرائع
- a day ago

کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا اچانک ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 30 minutes ago

قومی حقوق کے تحفظ کی ضمانت کے بغیر امریکا سے معاہدہ نہیں کریں گے،باقر قالیبافف
- 21 hours ago

وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کی میڈیکل رپورٹ جاری کردی،صدارتی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے فِٹ قرار
- a day ago




.jpg&w=3840&q=75)





