موسمیاتی تبدیلی کی وجہ ہیٹ ویو آئی تو گنے میں سکروس کم ہوگئی اور پھرمافیا نے پھر جو کام کیا اس سے قیمت بڑھی ،رانا تنویر حسین


اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی رانا تنویر نے کہا ہے کہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ رواں سال پاکستان کو 1.5 ارب ڈالر کی گندم درآمد کرنا پڑے گی۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سکیورٹی کا اجلاس سید حسن طارق کی زیر صدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر رانا تنویر شریک ہوئے، قائمہ کمیٹی اجلاس میں چینی کی امپورٹ ایکسپورٹ اور قیمت کا معاملہ زیر بحث آیا۔
دوران اجلاس وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ رانا تنویر نے کہا کہ چینی پچھلے سال 7.6 ملین ٹن تھی اور 6.3 ملین ٹن ضرورت تھی، 13 لاکھ ٹن چینی سرپلس تھی جس کی وجہ سے انڈسٹری تباہ ہو رہی تھی، رواں سال ہمارا چینی کی پیداوار کا تخمینہ 7.2 ملین ٹن تھا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ ہیٹ ویو آئی تو گنے میں سکروس کم ہوگئی اور پھرمافیا نے پھر جو کام کیا اس سے قیمت بڑھی ہے، اب ہم 150 ملین ڈالر کی چینی منگوا رہے ہیں، آج چینی 170 روپے فی کلو مل رہی ہے، 210 لاکھ ٹن چینی اس وقت ہمارے پاس ہے، اس بار پھر گنے کی بمپر کراپ تھی مگر اب سیلاب کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہے۔
اجلاس کے دوران ممبر کمیٹی رانا حیات نے کہا کہ پیچھے جو ہو گیا سو ہو گیا آگے تو کسان کو کچھ تحفظ دے دیں۔
حکام وزارت غذائی تحفظ نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے گندم کی قمیت بڑھی تھی اب روک لی۔ رانا حیات نے کہا کہ آپ نے گندم کی قمیت روک لی چینی کی قیمت کیوں نہیں کنٹرول ہورہی؟ اب چینی درآمد کر کے کرشنگ سیزن میں کسان کا نقصان کریں گے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ گزشتہ سال گنے کی پیداوار ہدف سے ایک ملین ٹن کم رہی، ہم نے سرپلس چینی برآمد کی اجازت دی جس سے 45کروڑ ڈالر زرمبادلہ آیا، اب چینی ہم 15کروڑ ڈالر کی درآمد کر رہے ہیں، قیمت میں اضافے کی وجہ مافیا تھا، اس دفعہ گنے کی بمپر کراپ کی توقع ہے، سپورٹ پرائس نہ ہونے سے گندم کی پیدوار کم رہی ہے، اس سال گندم کی پیداوار مزید کم رہنے کی توقع ہے۔
دوران اجلاس رکن کمیٹی عبدالقادر نے کہا کہ ہم جنوبی پنجاب میں گندم کی کاشت چھوڑ رہے ہیں، سیلاب نے کسان کو رگڑ دیا ہے، اس پر رانا تنویر نے کہا کہ جو حالات ہیں لگتا ہے اس سال گندم کم لگے گی، ایسے میں اگلے سال 1.5 ارب ڈالر کی گندم درآمد کرنا پڑے گی، گندم پر امدادی قیمت دینے سے متعلق آئی ایم ایف سے بات کررہے ہیں۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بحرینی ہم منصب سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
- 17 hours ago

آپریشن غضب اللحق : پاک فوج کی افغان طالبان کیخلاف کارروائیاںجاری، اہم پوسٹیں اور مراکز تباہ
- 21 hours ago

وزیر اعظم شہباز شریف کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط،سپریم لیڈر کی شہادت پر تعزیت کا اظہار
- 17 hours ago

افغانستان اس وقت دہشت گرد گروہوں اور پراکسیز کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے،عاصم افتخار
- 21 hours ago

مجتبیٰ خامنہ ای پر بھروسہ نہیں،ایران مذاکرات سے پہلے کچھ بنیادی شرائط کو قبول کرنا ہوگا،ٹرمپ
- 16 hours ago

اسحاق اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ،مشرق وسطیٰ اور خطے کی صورتحال پر گفتگو
- 15 hours ago

وزیراعظم دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں،کشیدگی کا سفارتی حل نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،وزیر قانون
- 20 hours ago

پی ٹی اے کے زیر اہتمام ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا باقاعدہ آغاز
- 20 hours ago

پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع،ملک میں توانائی بحران کا خدشہ ختم ہونے کا امکان
- 19 hours ago

ہم کسی صورت جنگ نہیں چاہتے ہیں،لیکن اگر جنگ کرنا پڑی تو پیچھے نہیں ہٹیں گے،کم جونگ ان
- 18 hours ago

پاکستان سپر لیگ 11 کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا،ٹورنامنٹ کب سے شروع ہو گا؟
- 17 hours ago

عاشورہ سے محبت کرنے والے ایرانی آپ کی کھوکھلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے،ٹرمپ کےبیان پر ایران کاردعمل
- 14 hours ago















