Advertisement
Mobin
Advertisement
علاقائی

رحمان بابا، بیجو اور درانی قبرستان کی تاریخ  ،ازڈاکٹر عظیم شاہ بخاری

دوسری اینگلو افغان جنگ میں شیر علی کے فرار اور پھر انتقال کے بعد وہ جانشین بنے اور گندمک آئے جہاں 1879 میں برطانیہ کے ساتھ گندمک معاہدے پر دستخط کیے،عظیم شاہ

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 ماہ قبل پر ستمبر 26 2025، 6:41 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
رحمان بابا، بیجو اور درانی قبرستان کی تاریخ  ،ازڈاکٹر عظیم شاہ بخاری

دوسری اور آخری قسط
 
محمد یعقوب خان اور معاہدہ گندمک:
محمد یعقوب خان، اپنے بھائی ایوب خان کی طرح امیرِ افغانستان اور صوبہ ہرات کے گورنر رہ چکے ہیں۔

یعقوب خان کو ان کے والد شیرعلی نے کم عمری میں ہی ہرات کی حکمرانی سونپ دی تھی لیکن جب شیر علی نے جب اپنی بیٹے عبداللہ جان کو اپنا وارث نامزد کیا تو یعقوب اور ان کے بیچ بدمزگی پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے یعقوب کو کابل میں قید کر دیا گیا۔ 
جلد عبداللہ جان کے انتقال سے یعقوب کا راستہ صاف ہو گیا۔

دوسری اینگلو افغان جنگ میں شیر علی کے فرار اور پھر انتقال کے بعد وہ جانشین بنے اور گندمک آئے جہاں 1879 میں برطانیہ کے ساتھ گندمک معاہدے پر دستخط کیے جس کے نتیجے میں ، افغانستان کے خارجہ تعلقات کا کنٹرول برطانیہ کو منتقل ہو گیا اور کابل میں برطانوی سفیر تعینات کر دیا گیا۔ اسی سال معاہدے سے اختلاف اور کچھ دیگر وجوہات کے نتیجے میں یعقوب خان مستعفی ہوئے جس پر انہیں ہندوستان بھیج دیا گیا اور ایوب خان امیرِ افغانستان بن گئے۔

آپ کا انتقال 1923 میں ہندوستان میں ہوا۔ برطانوی ناول نگار میری ''مارگریٹ کائی'' کے مشہور ناول ''دی فار پویلینز'' میں بھی آپ کا ذکر موجود ہے۔ یہ ناول برطانوی ہند کی تاریخ پر لکھا گیا تھا۔  

جنگ میوند اور ملا لئی:

  سن 1857ء کو کابل میں شیرعلی خان (امیر افغانستان 1863 تا 1878) کے ہاں پیدا ہونے والے پرنس چارلی، غازی محمد ایوب خان، گورنر ہرات اور افغانستان کے امیر رہ چکے ہیں آپ کے رتبے کو سمجھنے کے لیئے ہمیں میوند کے میدان جنگ کا رُخ کرنا پڑے گا جہاں ملالہ میوند یا ملالئی، انگریز سامراج سے برسرِ پیکار افغان فوجوں کو ہارتے ہوئے دیکھ کر میدان میں کود پڑیں اور اپنے دوپٹے کا جھنڈا بنا کر لہراتے ہوئے پشتو میں کہا ؛

 ''ساتھیو۔۔۔۔۔ اگر تم آج میوند کے اس میدان میں شہید نہ ہوئے، تو ساری زندگی لوگ تمھیں بے غیرتی کا طعنہ دیتے رہیں گے۔۔۔۔۔''

لکھنے والے لکھتے ہیں کہ یہی وہ لمحہ تھا جب جنگ کا پانسا پلٹا اور برطانوی فوج شکست کھا کر میدان جنگ سے بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔ افغان جنگ میوند میں فاتح ٹھہرے اور ملالئی کا نام اور ان کے وہ اشعار، پختون تاریخ میں جرأت کا باب اور جنگ کے خلاف مزاحمت کی ایک نئی آواز بن گیا۔ انیس سالہ اس لڑکی کے باپ اور منگیتر نے بھی اس جنگ میں شہادت کا رتبہ پایا۔ 

پہلی اینگلو افغان جنگ کی شکست کے زخموں سے چور انگریز سامراج نے 27 جولائی 1880 کے ایک گرم دن، نئی جنگی حکمت عملیوں کے ساتھ افغان سرزمین پر حملہ کر دیا۔ انگریز سپاہ کی قیادت جنرل بروز جبکہ افغان لشکر کی قیادت غازی ایوب خان کر رہے تھے۔ یہ جنگ قندھار سے 70 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع میوند کے مقام پر لڑی گئی۔ اگرچہ جنگ میں افغان فوجیوں کا زیادہ جانی نقصان ہوا لیکن وہ یہ جنگ جیت گئے اور انگریزوں کو پیچھے دھکیل دیا۔
اس جنگ پر مشہور انگریز ادیب رڈیارڈ کپلنگ نے ''وہ دن'' کے نام سے ایک نظم لکھی؛

کوئی موسیقار نہیں ہیں جو موسیقی بجاتے ہیں
کاش وہ اپنی شکست سے پہلے ہی فوت ہوجاتا
کاش میں نے اسے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہوتا
 
غازی محمد ایوب خان، پرنس چارلی:
افغان پرنس چارلی کے نام سے مشہور غازی ایوب کو میوند کی جنگ کے بعد ایک قومی ہیرو کے طور پہ یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس جنگ میں اپنے دشمن کو طاقت اور عقل دونوں محاذوں پر ہرایا تھا۔ صوبہ ہرات کے گورنر رہنے کے علاوہ آپ اپنے بھائی محمد یعقوب خان کے بعد 1879 سے 1880 تک کے مختصرعرصے میں افغانستان کے امیربھی رہے۔
میوند کی جنگ میں فتح کے بعد ایوب خان کو جنرل رابرٹ اور امیر عبدالرحمن کی مشترکہ فوجوں نے قندھار کی جنگ میں شکست دی جو ایک ماہ بعد یکم ستمبر 1880 کو ہوئی تھی۔ 

ایوب خان کو معزول کر کے برطانوی ہندوستان میں جلاوطن کر دیا گیا۔ تاہم ایوب خان فرار ہو کرایران چلے گئے جہاں تہران میں برطانیہ کے سفیر سر مورٹیمر ڈیورنڈ کے ساتھ 1888 میں مذاکرات کے بعد وہ ہندوستان آ گئے اور لاہور میں رہائش پذیر ہوئے جہاں اپریل 1914 میں ان کا انتقال ہوا۔ انہیں اپنی موت سے قبل ان کی خواہش کے مطابق پشاور کے شیخ حبیب بابا قبرستان، وزیر باغ میں دفن کیا گیا۔ پاس ہی ان کی والدہ کی قبر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہاں ہم نے ان کی قبر پر فاتحہ پڑھی۔  

یہ تو تھے اس قبرستان میں مدفون چند مشہور ترین (اور اب گمنام ترین) حکمران اور ان کی کہانیاں۔ اس احاطے میں ایک اور شخصیت کی قبر بھی ہے جو سبز رنگ کی ہے اور باقی قبور سے بڑی ہے۔ یہ شیخ حبیب باباؒ کی قبر ہے۔ 
سرہند میں پیدا ہونے والے شیخ حبیبؒ، سسلہ نقشبندیہ بنوریہ کے بزرگ تھے جنہوں نے یہ سلسلہ صوبہ خیبرپختونخواہ میں پھیلانے میں بہت محنت کی۔
ان کی وفات بادشاہ  اورنگزیب کے دور میں  1685ء میں پشاور میں ہوئی،چونکہ پشاور ایک دور میں درانی سلطنت کا اہم شہر تھا اس لیے اس قبرستان میں افغانستان کے کیٴ شہزادے اور رہنما دفن ہیں۔ یہ افغان بھی شیخ حبیب اللہ کو بزرگ مانتے تھے لہذا ان کے آس پاس دفن ہونے کو ترجیح دی۔ اور آج یہ احاطہ شیخ حبیب باباؒ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

مسجد حافظ مراد:
اسی احاطے کے پاس اس قدیم مسجد کا دروازہ ہے جس کے اندر اب قدامت کا کوئی پہلو باقی نہیں چھوڑا گیا۔ مغرب میں اس کے قدیم گنبد اور ایک دیوار نظر آتی ہے لیکن سامنے اور اندر اب جِدت کا راج ہے۔اندر ایک خوبصورت تالاب ہے''شاہ حبیب کی قبر کے ساتھ واقع مسجد حافظ مراد نے 1725ء میں تعمیر کروائی تھی۔ یہ ایک لمبی عمارت ہے جس کے کونے میں برج موجود ہیں۔ یہ تین گنبد نما عبادت گاہ پر مشتمل ہے جس میں مشرق کی طرف برآمدہ ہے۔

ایک اور مسجد 1796 میں شیخ ایاز کی تھی جو درانی دور میں کچھ مشہور بزرگ تھے۔ یہ ایک چھوٹی اینٹوں سے بنی مسجد ہے جس کی چھت کم بلند ہے، اندرونی دیواریں پلستر اور مزید پینٹ کی گئی ہیں۔ ان پر کئی نوشتہ جات بھی ہیں۔ دربار میں دو قبریں ہیں۔''

یہاں جس دوسری مسجد کا ذکر ہے وہ مجھے آس پاس نہیں نظر آئی ہو سکتا ہے اب منہدم ہو گئی ہو۔ اسی طرح دانی صاحب نے مرکزی محرابی دروازے پر ایک گنبد کا ذکر کیا ہے جو اب موجود نہیں ساتھ ہی مسجد کے تین گنبدوں کا بھی ذکر ہے جبکہ اب دو ہی نظر آتے ہیں اور تیسرے کی جگہ ایک نئی تعمیر شدہ دیوار نظر آتی ہے۔ اُس گنبد کی موجودگی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

پہلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

https://gnnhd.tv/urdu/news/50513

تحریر و تحقیق
ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا اور تحقیق پر مشتمل ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری ہے۔

Advertisement
Moib
پیپلز پارٹی کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات،حکومتی قانون سازی پر تحفظات کا اظہار

پیپلز پارٹی کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات،حکومتی قانون سازی پر تحفظات کا اظہار

  • ایک دن قبل
فورسزکی افغان طالبان کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں،جلال آباد اورننگرہار میں سٹوریج سائٹس تباہ

فورسزکی افغان طالبان کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں،جلال آباد اورننگرہار میں سٹوریج سائٹس تباہ

  • ایک دن قبل
مودی سرکار نے اسرائیل کی حمایت کر کے بھارت کی سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا ہے،سونیا گاندھی

مودی سرکار نے اسرائیل کی حمایت کر کے بھارت کی سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا ہے،سونیا گاندھی

  • ایک دن قبل
 ہم خطے کے ممالک پر نہیں ،امریکی اڈوں پر حملہ کرتے ہیں،جو ہمارا جائز ہدف ہیں،عباس عراقچی

 ہم خطے کے ممالک پر نہیں ،امریکی اڈوں پر حملہ کرتے ہیں،جو ہمارا جائز ہدف ہیں،عباس عراقچی

  • ایک دن قبل
174 ایرانی بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے،اماراتی حکام

174 ایرانی بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے،اماراتی حکام

  • ایک دن قبل
پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس، شرکاء کا ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور

پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس، شرکاء کا ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور

  • 4 گھنٹے قبل
آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیلی وزیردفاع کی دھمکی

آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیلی وزیردفاع کی دھمکی

  • 4 گھنٹے قبل
ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے،وزیر دفاع

ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے،وزیر دفاع

  • ایک دن قبل
کئی روز کے مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

کئی روز کے مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

  • ایک دن قبل
پاکستان سپر لیگ کا گیارہویں ایڈیشن: افتتاحی تقریب اور میچ کی تفصیلات سامنے آ گئیں 

پاکستان سپر لیگ کا گیارہویں ایڈیشن: افتتاحی تقریب اور میچ کی تفصیلات سامنے آ گئیں 

  • ایک دن قبل
اسرائیلی فورسزکی جارحیت جاری ، لبنان میں زمینی کارروائی شروع کردی، 52 افراد جاں بحق

اسرائیلی فورسزکی جارحیت جاری ، لبنان میں زمینی کارروائی شروع کردی، 52 افراد جاں بحق

  • ایک دن قبل
ایران کی جوابی کارروائی جاری، فوجی اڈوںسمیت مختلف اسرائیلی شہروں پر حملہ، امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی

ایران کی جوابی کارروائی جاری، فوجی اڈوںسمیت مختلف اسرائیلی شہروں پر حملہ، امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی

  • ایک دن قبل
Advertisement