وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام 2023 میں نائب وزیر دفاع کیتھلین ہکس نے شروع کیا تھا جس کا مقصد "چھوٹے، سمارٹ اور سستے" ڈرونز فراہم کرنا تھا


واشنگٹن — بحرالکاہل میں چین کی بڑھتی فوجی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی فوج کا خودکار ڈرونز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پروگرام "ریپلیکیٹر" متعدد فنی مسائل، تاخیر اور بلند اخراجات کی وجہ سے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے بعد اسے ایک نئی تنظیم کے حوالہ کر دیا گیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام 2023 میں نائب وزیر دفاع کیتھلین ہکس نے شروع کیا تھا جس کا مقصد "چھوٹے، سمارٹ اور سستے" ڈرونز فراہم کرنا تھا، اور اگست 2025 تک فضائی، زمینی اور بحری سطح پر ہزاروں ایسے نظام دینے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ تاہم کچھ ڈرون ناقابلِ اعتماد، بعض مہنگے اور کئی سافٹ ویئر مسائل کے باعث مختلف کمپنیوں کے نظاموں کو یکجا کر کے ہم آہنگ کرنا مشکل ثابت ہوا۔
نتیجتاً پینٹاگون نے ریپلیکیٹر کو اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے تحت قائم "ڈیفنس آٹونومس وارفیئر گروپ" (DAWG) کے سپرد کر دیا ہے، جس کی نگرانی لیفٹیننٹ جنرل فرینک ڈونووان کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد عمل کو تیز اور وسائل کو مؤثر ہتھیاروں تک محدود کرنا ہے۔
رپورٹ میں چند مخصوص نقائص بھی منظرِ عام پر آئے، مثلاً کیلیفورنیا میں ایک بغیر پائلٹ کشتی (Black Sea Technologies کی) کا اسٹیئرنگ ناکام ہو کر وہ بہہ گئی، ایک فضائی ڈرون کی لانچ میں تاخیر ہوئی، اور متعدد کشتیوں کے سافٹ ویئر اشیاء کی درست شناخت میں ناکام رہے۔
مزید برآں، پروگرام کے تحت خریدے گئے درجن بھر نظاموں میں سے چند نامکمل یا نظریاتی سطح تک محدود رہے؛ بڑی تعداد میں خریدی گئی بغیر پائلٹ کشتی "گارک" طویل فاصلے یا پیچیدہ مشنز کے لیے موزوں ثابت نہیں ہوئی، اور "سوئچ بلیڈ 600" جیسا ماڈل، جو یوکرین میں مسائل کا شکار رہا، بھی وسیع تعداد میں لیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگ میں مواصلاتی خلل کے دوران ایسے خودکار نظام کمزور پڑ سکتے ہیں۔ لیکن بعض مبصرین نے کہا ہے کہ ریپلیکیٹر نے دو سال کے اندر نئے ڈرون سسٹمز کی خرید، آزمائش اور ترقی کے عمل کو تیز کر کے روایتی حصولی عمل کو مختصر کر دیا۔
پینٹاگون کے عہدیدار واضح کرتے ہیں کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد بحرالکاہل میں چین کے ساتھ ممکنہ تنازعے کے لیے تیاری کرنا ہے، کیونکہ ان کے خیال میں چین نے اپنی بحری و فضائی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے اور وہ 2027 تک تائیوان پر حملے کے قابل ہو سکتا ہے۔ DAWG کے پاس اب دو سال سے بھی کم وقت ہے کہ وہ پینٹاگون کو مطلوبہ ڈرونز اور خودکار نظام مہیا کر سکے۔

مودی سرکار نے اسرائیل کی حمایت کر کے بھارت کی سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا ہے،سونیا گاندھی
- 12 hours ago

افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق پوری شدت سے جاری،مزید 67 خارجی جہنم واصل
- 12 hours ago

اسرائیلی فورسزکی جارحیت جاری ، لبنان میں زمینی کارروائی شروع کردی، 52 افراد جاں بحق
- 12 hours ago

پاکستان سپر لیگ کا گیارہویں ایڈیشن: افتتاحی تقریب اور میچ کی تفصیلات سامنے آ گئیں
- 8 hours ago

ہم خطے کے ممالک پر نہیں ،امریکی اڈوں پر حملہ کرتے ہیں،جو ہمارا جائز ہدف ہیں،عباس عراقچی
- 8 hours ago

ایران کی جوابی کارروائی جاری، فوجی اڈوںسمیت مختلف اسرائیلی شہروں پر حملہ، امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی
- 11 hours ago

174 ایرانی بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے،اماراتی حکام
- 9 hours ago

امریکی میرینز نے کراچی میں قونصل خانے پر دھاوا بولنے والے مظاہرین پر فائرنگ کی ،رائٹرز
- 12 hours ago

کئی روز کے مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی
- 11 hours ago

فورسزکی افغان طالبان کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں،جلال آباد اورننگرہار میں سٹوریج سائٹس تباہ
- 12 hours ago

پیپلز پارٹی کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات،حکومتی قانون سازی پر تحفظات کا اظہار
- 12 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے،وزیر دفاع
- 9 hours ago













