Advertisement

طالبان حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، بدخشاں میں دھڑوں میں جھڑپیں

طالبان حکومت میں مسلح افواج کے سربراہ فصیح الدین فطرت نے تنازع ختم کرنے اور فریقین کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوشش کی، تاہم یہ کوششیں ناکام رہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ 10 months ago پر Oct 29th 2025, 5:53 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
طالبان حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، بدخشاں میں دھڑوں میں جھڑپیں

افغانستان میں طالبان حکومت کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور صوبہ بدخشاں میں سونے کی کانوں پر قبضے کے لیے طالبان کے دو دھڑے آپس میں لڑ پڑے ہیں۔

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق، بدخشاں کے ضلع شہر بزرگ میں جھڑپیں طالبان رجیم کے سابق سربراہ برائے کان کنی عبدالرحمان عمار اور نئے تعینات ہونے والے سربراہ شفیق اللہ حافظی کے گروپوں کے درمیان جاری ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں کمانڈر بدخشاں میں بااثر طالبان رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، طالبان حکومت میں مسلح افواج کے سربراہ فصیح الدین فطرت نے تنازع ختم کرنے اور فریقین کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوشش کی، تاہم یہ کوششیں ناکام رہیں۔

جھڑپوں کے دوران متعدد طالبان جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سابق کمانڈر عبدالرحمان عمار نے اپنے حامیوں کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں مورچے سنبھال رکھے ہیں۔ طالبان کی مرکزی قیادت نے باغی کمانڈر کی گرفتاری کے لیے مزید فوجی دستے بدخشاں روانہ کر دیے ہیں۔

بعض افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق، طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عبدالرحمان عمار کو گرفتار کرکے قندھار لانے کا حکم دیا ہے، تاہم اب تک افغان فورسز انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

Advertisement