پنجاب میں 25 فیصد نوجوان لڑکیاں وٹامن اے جبکہ 80 فی صد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں ، کینیڈین تنظیم
پنجاب حکومت آٹا، کھانے کا تیل، چاول اور نمک میں مائیکرو نیوٹرینٹس شامل کرنے کے لیے قانون سازی کرے، شرکا مطالبہ


لاہور:پاکستان میں کام کرنے والے کینیڈا کے نجی ادارے نیوٹریشن انٹرنیشنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کی 25 فیصد نوجوان لڑکیاں وٹامن اے جبکہ 80 فی صد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نجی کینڈین ادارے نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام پنجاب یونیورسٹی میں سینمار کا اہتمام کیا گیا، جس میں نیشنل نیوٹریشن سروے 2018 نتائج شئیر کئے گئے، جن کے مطابق صوبہ پنجاب میں 41 فیصد خواتین، جو بچے پیدا کرنے کی عمر میں ہیں، خون کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ 25 فیصد میں وٹامن اے کی کمی ہے اور 80 فی صد سے زائد خواتین وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔
نیوٹریشن انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں 2018 سے نیوٹریشن سروے نہیں ہوا ، اور یہ اعداد و شمار کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔
شرکا نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت آٹا، کھانے کا تیل، چاول اور نمک میں مائیکرو نیوٹرینٹس شامل کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔سیمینار سے صوبائی پروگرام مینجر نیوٹریشن انٹرنیشنل پاکستان داؤد مفتی نے نیوٹریشن انٹرنیشنل کے پاکستان میں جاری پروگرامز کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ لارج سکیل فورٹیفیکش پروگرام کے اغراض و مقاصد پر بات کی۔
اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر سائنسز پروفیسر ڈاکٹر تہمینہ انجم، چیئرمین شعبہ فوڈ سائنسز پروفیسرڈاکٹرشناور وسیم علی، ڈائریکٹر اورک پروفیسر ڈاکٹر عقیل انعام, ممبر فوڈ، پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی ڈاکٹر محمد ناصر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ، پنجاب فوڈ اتھارٹی منیر حسین چوپڑا وزارتِ قانون اور محکمہ خوراک کے اراکین، فیکلٹی ممبران اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی تھے ، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس کے باوجود پھل اور سبزیاں مارکیٹ میں مہنگے داموں ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھی خوراک مثبت سوچ اور متحرک رہنے کے لئے ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جامعات کو پائیدار غذائی حکمتِ عملیوں کی تشکیل اور ادارہ جاتی شراکت داری کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے بہترین تقریب کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری،سستی اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے لئے آگاہی پروگرام اہم کردار ادا کرتے ہیں۔.webp)
پروفیسر ڈاکٹر شناور وسیم علی نے کہا کہ پاکستان میں 40 فیصد لوگ آئرن کی کمی کا شکار ہیں،جو لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئرن کی کی کمی سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی اقدامات اور بڑے پیمانے پر آگاہی فراہم کرنے کے لئے ادارہ اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آٹے اور خوردنی تیل جیسی بنیادی غذاؤں کی غذائی افزودگی عوامی صحت بالخصوص خواتین اور بچوں کے نتائج کو بہتر بنانے میں نہایت اہم ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر تہمینہ انجم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ زرعی سائنسدان تحقیق کے ذریعے غذائیت سے بھرپور اجناس کی پیداوار کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سیمینار کے اختتام پر اورک اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کے اراکین کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے شاندار، معلوماتی سیمینار کے لیے خدمات پیش کیں۔

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 4 دن قبل

پاکستانی نژاد امریکی اداکار فاران طاہر کی اٹھارہ سال بعد ہالی وڈ واپسی
- 2 دن قبل

ملک میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی
- 2 دن قبل

اداکار معمر رانا کی بیوی نے لاہور کی فیملی عدالت سے خلع لے لیا
- 2 دن قبل

پاکستان سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
- 2 دن قبل

اسپین: دو تیز رفتار ٹرینوں میں خوفناک تصادم، 68 افراد ہلاک
- 4 دن قبل

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 4 دن قبل

کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری
- 3 دن قبل
نوشہرہ میں فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنرمانسہرہ زخمی
- 2 دن قبل

پاکستان، سنگاپور کا مختلف شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار
- 3 دن قبل

سرگودھا ریجن پولیس کے 8 شہداء کے ورثاء میں پلاٹوں کے کاغذات تقسیم
- 3 دن قبل

ہانگ کانگ سپر سکسز: پاکستان نے بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دیدی
- 3 دن قبل






