Advertisement
پاکستان

ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کا رونا رویا جاتا ہے: شیخ رشید

کراچی:وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ہرالیکشن کے بعد دھاندلی کا رونا رویا جاتا ہے،اپوزیشن الیکٹرانک ووٹنگ پر آئے، بات کرے،الیکٹرانک ووٹنگ مشین اس لیے لانا چاہتے ہیں تاکہ الیکشن کو عزت ملے،الیکشن کمیشن کو مطمئن  اوران کے خدشات دور کردیں گے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Sep 12th 2021, 10:27 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کا رونا رویا جاتا ہے: شیخ رشید

تفصیلات کے مطابق کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ادارے عظیم ہیں، وہ پاکستان کے لیے جیتے اور مرتے ہیں، یہ کہنا کہ ہم نے افغان حکومت کو قبول کیا ہے یا نہیں یہ عمران خان کا فیصلہ ہے، ادارے چاہتے ہیں کہ اس خطے میں امن ہو۔

انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت خطے میں امن کے لیے سب سے رابطے میں ہے، وہ 17 تاریخ کو چین اور روس کے صدور کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے جبکہ توقع ہے کہ ایران کے صدر سے بھی ان کی ملاقات ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مداخلت کرتا ہے نہ ہی کسی کو کرنے دے گا جبکہ پاک فوج ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اشرف غنی کو ازبکستان میں سمجھایا لیکن انہوں نے یہی کہا کہ پاکستان سے 10 ہزار مجاہدین افغانستان میں داخل ہوگئے ہیں لیکن اب انہیں سمجھ آچکی ہے کہ ہمارا افغانستان سے کوئی واسطہ نہیں اور پاکستان، افغانستان کے مسائل ان پر ہی چھوڑتا ہے۔

انہوں نے کہا ہےکہ دنیا چاہتی ہے کہ افغانستان 8 روز میں معیاری علاقہ بن جائے لیکن اس میں وقت لگے گا اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ افغانستان کے کھاتے منجمد کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے، اس سے انسانی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم دنیا سے اپیل کر سکتے ہیں کہ افغانستان کے کھاتے بحال کیے جائیں تاکہ افغانستان میں بحران جنم نہ لے۔

شیخ رشید کاکہنا ہے کہ امریکی صدر کا چینی ہم منصب سے بات کرنا خوش آئند ہے کہ 8، 9 ماہ بعد دو سپر پاورز آپس میں بات کر رہی ہیں، پاکستان کے لیے یہ خوش آئند ہے کیونکہ چین اور امریکا کی تلخیاں ہم جیسے غیر جانبدار ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتی ہیں۔

ان کامزید کہنا تھا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ پاکستان میں موجود 40 لاکھ افغان مہاجرین کے بارے میں بھی حکومت سوچے، لیکن اس سے پہلے افغانستان میں طالبان کی حکومت مستحکم ہونے کی ضرورت ہے۔

 

 

Advertisement