پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور راستوں کی بندش کے کیس میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد بار کی درخواست نمٹانے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔


تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت عظمیٰ کو مایوسی ہوئی کہ عدالتی کوشش کا احترام نہیں کیا گیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جسٹس یحیٰی آفریدی نے فیصلے میں اختلافی نوٹ پیش کیا۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ میں اس بات سے آمادہ نہیں کہ عمران خان کے خلاف کارروائی کے لیے عدالت کے پاس مواد موجود نہیں ہے۔
جسٹس یحیٰی آفریدی کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ عمران خان نے اپنے کارکنان کو ڈی چوک میں پہنچنے کا کہا، عمران خان نے 25 مئی کے عدالتی احکامات کو نہیں مانا۔
اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا، اکثریتی فیصلے میں متعدد سوالات اٹھائے گئے۔
عدالت نے ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی، سیکریٹری داخلہ، آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد سے جواب طلب کرلیا۔
سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ کتنے مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟ ریڈ زون کی سیکیورٹی کے انتظامات کیا تھے؟
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کی کارروائی کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا، ایگزیکٹو حکام کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات میں کیا نرمی کی گئی؟ کیا سیکیورٹی بیریئر کو توڑا گیا؟ کیا مظاہرین یا پارٹی ورکر جی نائن اور ایچ نائن گراؤنڈ میں گئے؟
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی حکم نامہ موجود فریقوں کی موجودگی میں جاری کیا گیا، اس کیس میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعلیٰ اخلاقی اقدار میں کمی واقع ہوئی، سیاسی جماعتوں کے اقدام سے عوامی حقوق اور املاک کو نقصان پہنچا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت عظمیٰ کو مایوسی ہوئی کہ عدالتی کوشش کا احترام نہیں کیا گیا، تمام ثبوتوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا عدالتی حکم کی عدم عدولی ہوئی یا نہیں؟
سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ کیا حکومت کو دی گئی یقین دہائی کی خلاف ورزی کی گئی؟ کیا انتظامیہ اور پولیس نے کارکنوں کے خلاف کوئی ایکشن لیا؟
فیصلے میں کہا گیا کہ ایگزیکٹو، پی ٹی آئی قیادت اور دیگر سیاسی جماعتیں پر امن سیاسی سرگرمیوں کا ضابطہ اخلاق بنائیں گی، پر امن احتجاج آئینی حق ہے مگر یہ ریاست کی اجازت کے ساتھ ہوسکتا ہے۔
عدالت نے زخمی، گرفتار اور اسپتال میں داخل مظاہرین کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ کی صورت حال ختم ہوگئی، سڑکیں کھل گئیں، پٹیشن غیر مؤثر ہوگئی۔
سپریم کورٹ نے اسلام آباد بار کی پٹیشن غیر موثر ہونے پر نمٹادی۔

پاک فضائیہ کی ’گولڈن ایگل‘ مشق کامیابی سے مکمل ،اعلیٰ جنگی تیاری اور عملی مہارت کا بھرپور مظاہرہ
- 13 hours ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: صاحبزادہ فرحان کی شاندار بیٹنگ،پاکستان کا امریکہ کو جیت کیلئے 191 رنز کا ہدف
- 16 hours ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ:پاکستان نے 2024 کی شکست کا بدلہ لے لیا،امریکا کو 32 رنز سے شکست
- 12 hours ago

اسحاق ڈار سے کمبوڈیا کی وزیر تجارت جم نمول کی ملاقات، دوطرفہ شراکت داری کو مضبوط بنانے پر اتفاق
- 14 hours ago

وزیراعظم سے انڈونیشین وزیر برائے سرمایہ کاری کی ملاقات،معاشی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق
- 14 hours ago
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پر سیپشن انڈیکس 2025ء جاری کر دیا
- 16 hours ago

ورلڈ ڈیفنس شو 2026 :پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈر اور سپر مشاق بیسک ٹرینر طیارہ نمائش کیلئے پیش
- 17 hours ago

طالبان رجیم کے باعث خطے میں شدت پسندی اور دہشت گردی کو فروغ پرامریکی جریدے کی رپورٹ سامنے آگئی
- 17 hours ago

سونا عوام کی پہنچ سے مزید دور، قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ،فی تو لہ کتنے کا ہو گیا؟
- 13 hours ago

بانی پی ٹی آئی کی صحت ٹھیک ہے،بیرسٹر سلمان صفدرکی عمران خان سے ملاقات کے بعد گفتگو
- 16 hours ago

ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری، اسلام آباد میں بارش، سردی کی شدت میں اضافہ
- 17 hours ago

ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے 10 لاکھ بچوں کو اے آئی کی تربیت دی جائے گی،شزا فاطمہ
- 17 hours ago










