Advertisement

کیا نیند کی کمی سے کورونا وائرس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ، تحقیق آگئی

ماہرین نے رات کی پرسکون نیند کو کرونا کے خطرے میں کمی کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رات نیند کا ہر اضافی گھنٹا کووڈ 19 کا خطرہ 12 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Apr 6th 2021, 11:11 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر  نیند پوری نہ ہوتو سب سے پہلا اثر آپ کی جسمانی توانائی اور دماغی کارکردگی پر ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے  آپ سارا دن تھکن اور سستی کا شکا رہتے ہیں  اور  اپنے کام ٹھیک طرح سے نہیں کر پاتے ۔ نیند کی کمی سے  آپ بدمزاج اور چڑچڑے بھی ہوسکتے ہیں ۔ ایک لمبے عرصے تک  نیند کی کمی کا شکار رہنے والے افراد موٹاپے، ڈپریشن، ذیابیطس، ذہنی دباؤ اور امراض قلب کا شکار ہوجاتے ہیں۔

22 مارچ کو طبی جریدے بی ایم جے نیوٹریشن، پریونٹیشن اینڈ ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ نیند کی کمی وجہ سے  کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

حالیہ  ہونے والی  تحقیق  میں کہا گیا ہے کہ اچھی نیند اور اپنی ملازمتوں سے مطمئن افراد میں کرونا کا خطرہ کافی حد تک کم ہے۔ماہرین نے  اس تحقیق میں میڈیکل اسٹاف کو بھی شامل کیا جو کرونا مریضوں کا بہت زیادہ سامنا کرتے ہیں اور ہمیشہ  خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔

اس تحقیق میں 2844 ہیلتھ ورکرز کو شامل کی گیا تھا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ رات کو نیند کا ہر اضافی گھنٹہ کرونا  کا شکار ہونے کا خطرہ 12 فیصد تک کم کردیتا ہے مگر دوپہر کو نیند کا ہر اضافی گھنٹہ اس خطرے کو 6 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ  جو لوگ ملازمت سے متعلق تھکاوٹ یا جسمانی توانائی میں کمی کے مسئلے کا شکار ہوتے ہیں، ان میں کووڈ 19 کی تشخیص کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں 2.6 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کرنے والوں  کا کہنا ہے کہ رات جتنی زیادہ  نیند پوری کریں گے  اتنا زیادہ کسی بھی بیماری کے خلاف لڑنے کےلیے اپنے جسم کو تیار کریں گے۔

خیال  رہے کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں نیند کی کمی کو کرونا کا خطرہ بڑھانے کا باعث قرار دیا گیا ہے۔

Advertisement