جی این این سوشل

تفریح

فلم اور تھیٹر کے لیجنڈ اداکار افضال احمد کو دنیا سے  رخصت ہوئےایک برس بیت گیا

 اداکار افضال احمد کو برین ہیمریج کے باعث یکم دسمبرکو ہسپتال لایاگیا تھا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکےتھے اور انتقال کر گئے تھے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

فلم اور تھیٹر کے لیجنڈ اداکار افضال احمد کو دنیا سے  رخصت ہوئےایک برس بیت گیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ٹی وی، فلم اور تھیٹر کے لیجنڈ اداکار افضال احمد کو دنیا سے  رخصت ہوئے ایک سال بیت گیا۔

 اداکار افضال احمد کو برین ہیمریج کے باعث یکم دسمبرکو ہسپتال لایاگیا تھا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے ۔ ایک سال پہلے افضال احمد کو فالج کا اٹیک ہوا تھا اس کے باعث وہ مشکلات میں زندگی گزار رہے تھے۔

اداکار افضال احمد اور قوی خان کی جوڑی نے شہرت حاصل کی، وہ  افضال چٹہ کے نام سے مشہور تھے ، انہوں نے جزیرہ، چل سو چل سمیت متعدد  ڈراموں اور  200 سے زائد فلموں  میں کام کیا۔ان کی مشہور فلموں  میں شعلے، شریف بدمعاش، وحشی جٹ، عشق نچاوے گلی گلی اور دیگر فلمیں شامل ہیں۔

دنیا

غزہ میں معاہدے کے بغیر جنگ بندی نہیں ہو گی، اسرائیل

غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی تجویز پر حماس کا ردعمل منفی ہے، اسرائیلی اہلکار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

غزہ میں معاہدے کے بغیر جنگ بندی نہیں ہو گی، اسرائیل

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں کسی بھی قسم کی جنگ بندی معاہدے کے بغیر نہیں ہو گی۔

اسرائیلی عہدیدار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں اموات کی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

اسرائیلی عہدیدار نے ثالث ممالک کے ذریعے حماس کو پیغام بھیجا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے بغیر ممکن نہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کا خاتمہ ایک معاہدے کےاور پیشگی عزم کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ حماس نے پہلے بھی ان معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے جن پر اس نے اتفاق کیا تھا۔

گزشتہ روز ایک اور اسرائیلی اہلکار نے کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی تجویز پر حماس کا ردعمل منفی ہے۔

دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اس کا ردعمل مثبت ہے۔ اس نے صدر جوبائیڈن کی طرف سے پیش کی گئی جنگ بندی تجویز میں معمولی تجویزکی ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری، شہید فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار سے متجاوز

شہید ہونے والوں میں سب سے زیادہ فلسطینی بچے اور عورتیں شامل ہیں، فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کل تعداد کا دو تہائی ہو سکتی ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری، شہید فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار سے متجاوز

غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کر گئی ۔ اسرائیل کی جانب سے عیدا لاضحی کے روز بھی حملے جاری ہیں، آج کے حملوں میں مزید 40 فلسطینی شہید ہو گئےجس کے بعد 37337 تک پہنچ گئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق شہید ہونے والوں میں سب سے زیادہ فلسطینی بچے اور عورتیں شامل ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کل تعداد کا دو تہائی ہو سکتی ہے۔

وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 85229 ہے۔

واضح رہے کہ 7اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد یہ دوسری عید ہے جس میں اسرائیلی فوج نے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اتوار یعنی عید الاضحیٰ کے روز بھی اسرائیلی فورسز نے حملہ کرکے 40 فلسطینیوں کو شہید کیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

نیتن یاہو نے 6 رکنی جنگی کابینہ تحلیل کر دی

نیتن یاہو ایک چھوٹے گروپ کے ساتھ غزہ جنگ کے بارے میں مشاورت کریں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیتن یاہو نے 6 رکنی  جنگی کابینہ تحلیل کر دی

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنگی کابینہ تحلیل کر دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے 6 رکنی جنگی کابینہ کو تحلیل کر دیا ہے، مرکزپسند سابق جنرل بینی گانٹرز کے استعفے کے بعد اس اقدام کی توقع کی جا رہی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی رہنما نے اس فیصلے کا اعلان گزشتہ شام سیاسی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں کیا تھا، اب نتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی شراکت دار ایک نئی جنگی کابینہ کے قیام کے لیے زور دے رہے ہیں۔نیتن یاہو اب جنگی کابینہ میں رہنے والے وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر سمیت وزرا کے ایک چھوٹے گروپ سے غزہ جنگ کے بارے میں مشاورت کیا کریں گے۔

نیتن یاہو کو وزیر خزانہ بیزلیل سموٹرچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر جیسے قوم پرست مذہبی شراکت داروں کی جانب سے جنگی کابینہ میں شمولیت کے مطالبے کا سامنا تھا، یہ ایسا اقدام ہے جس سے امریکا سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تناؤ مزید بڑھ جائے گا۔

مذکورہ جنگی کابینہ گزشتہ برس اکتوبر میں جنگ کے آغاز پر تشکیل دی گئی تھی، جب بینی گانٹز نیتن یاہو کے قومی اتحاد کی حکومت میں شامل ہوئے، کابینہ میں گانٹز کے ساتھی گاڈی آئزن کوٹ اور مذہبی جماعت شاس کے سربراہ آریہ دیری کو بطور مبصر شامل کیا گیا تھا۔ بینی گانٹز اور آئزن کوٹ دونوں نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو حکومت کو اس اعتراض کے ساتھ چھوڑ دیا، کہ وزیر اعظم غزہ جنگ کے لیے کوئی حکمت عملی بنانے میں ناکام ہو گئے ہیں، ان کا مطالبہ تھا کہ امریکی اور اتحادیوں کے مطالبات کے باوجود غزہ پر بمباری جاری رکھی جائے، تاہم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر انھیں مسترد کر دیا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll