جی این این سوشل

صحت

ڈاکٹر ندیم جان کی آن لائن اندراج اور لائسنس کے اجراء کا افتتاح

 ڈاکٹر ندیم جان نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں شفافیت کو یقینی بنانے کےلئے کوششیں کی جارہی ہیں

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ڈاکٹر ندیم جان کی آن لائن اندراج اور لائسنس کے اجراء کا افتتاح
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان نے آج(بدھ) اسلام آباد میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں آن لائن اندراج اور لائسنس کےاجراء کے نظام کا افتتاح کیا۔

 اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ادویہ ساز کمپنیوں اور عوام کو در پیش مشکلات کم کرنا ہے۔

 ڈاکٹر ندیم جان نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں شفافیت کو یقینی بنانے کےلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کے بعد ادویات کی مصنوعی قلت کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔

علاقائی

پنجاب اسمبلی نے 358 ارب روپے کا بجٹ منظور کر لیا

مریم اورنگزیب کی جانب سےبجٹ پیش کیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پنجاب اسمبلی نے 358 ارب روپے کا بجٹ منظور کر لیا

نجاب اسمبلی نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ 358ارب روپے کا ایک ماہ کا بجٹ منظور کرلیا، رقم 31 مارچ تک سرکاری اخراجات کی ادائیگی کےلئے خرچ ہو گی۔

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اجلاس کی صدارت کی ۔مریم اورنگزیب کی جانب سے ایک ماہ کیلئے 358 ارب سے زائد کا بجٹ پیش کیا گیاتھا۔

سپیکر ملک احمد خان نے کہا کہ اسمبلی کےرولز 104 کے تحت تخمینہ کی تحریک پر کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ اگر اپوزیشن کو اعتراض ہے وہ بات کر سکتے ہیں۔ اگر اپوزیشن تحریک پر ووٹنگ کرنا چاہتی ہے تو کروا لیں۔جن کو فلور دیا وہ بات کریں گا۔آرٹیکل 125 کے تحت موجودہ صورتحال پر اسمبلی تحریک پیش کرسکتی ہے۔

سنی اتحاد کونسل کےرانا آفتاب کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھاکہ جناب سپیکر 358 ارب سے زائد کے بجٹ کی ضرورت کیوں ہے۔ضمنی بجٹ پر بحث ہونا ضروری ہے۔جو بجٹ منظوری کیلئے  پیش کیا جائے گا اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کن کن محکموں کو جاری ہوا اس کی تفصیلات نہیں ہے۔جناب سپیکر اتنا ییسہ تنخواہوں کی مد میں جارہا ہمیں معلوم ہونا چاہئیے۔جناب سپیکر بجٹ پیش کون کرسکتا ہے۔میرا اعتراض ہے معزز رکن بجٹ پیش نہیں کر سکتی ۔فنانس منسٹر یا وزیر اعلیٰ ایوان میں بجٹ کی تحریک پیش کرسکتا ہے۔

بعدازاں پنجاب اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

سعودی عرب کی اقوام متحدہ میں غزہ تباہی پر عالمی برادری کی خاموشی پر کڑی تنقید

ہم یہاں کن حقوق کی بات کر رہے ہیں جب کہ غزہ ر اکھ اور ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، سعودی وزیر خارجہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سعودی عرب کی اقوام متحدہ  میں غزہ  تباہی پر عالمی برادری کی خاموشی پر کڑی تنقید

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں غزہ کی تباہی پر عالمی برادری کی خاموشی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 55ویں اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اسرائیل کی جبری بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینیوں کی آخری پناہ گاہ رفح پر حملے کی دھمکیوں پر عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔

وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے سوال اُٹھایا کہ ہم یہاں کن حقوق کی بات کر رہے ہیں جب کہ غزہ راکھ اور ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ عالمی برادری اس پر کیسے خاموش رہ سکتی ہے جب کہ غزہ کے لوگ بے گھر اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی قراردادوں کے اطلاق میں دوہرے معیار اور پسند و ناپسند رویے کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل کے رفح پر حملے کے  تباہ کن اثرات سے خبردار کیا۔

سعودی وزیر خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے سنجیدہ، منصفانہ اور جامع اقدام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے تاکہ معصوم شہریوں کی حفاظت کی جا سکے۔ غزہ سے 30 ہزار ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے اس کے علاوہ 20 لاکھ سے زائد افراد فاقہ کشی، تحفظ، پانی، بجلی اور ادویات جیسی بنیادی ضرورتوں کے فقدان کا شکار ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان تمام مظالم کے باوجود سلامتی کونسل اپنے اجلاسوں کو بغیر کسی نتیجے کے ختم کردیتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل قرارداد نمبر 2720 پر عمل درآمد کروائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

الیکشن کمیشن نے ہمیں مخصوص نشستیں نہ دیں تو سپریم کورٹ جائیں گے، بیرسٹر علی ظفر

اگر ہماری سیٹیں چھین کر بانٹ دی گئیں تو صدر اور وزیر اعظم سمیت تمام الیکشن متنازع ہو جائیں گے،رہنما پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

الیکشن کمیشن نے ہمیں مخصوص نشستیں نہ دیں تو سپریم کورٹ جائیں گے، بیرسٹر علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ اگر ہماری سیٹیں چھین کر بانٹ دی گئیں تو صدر اور وزیر اعظم سمیت تمام الیکشن متنازع ہو جائیں گے، اُمیدہے آئین اور قانو ن کے مطابق فیصلہ ہوگا،اگر الیکشن کمیشن نے ہمیں مخصوص نشستیں نہ دیں تو سپریم کورٹ جائیں گے۔

مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کی سماعت ہوئی، ہماری سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہےلیکن عمل نہیں کرتی، آئین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، آئین میں جو حصہ دوسری جماعتوں کا ہے آپ وہ انہیں دے چکے ہیں اور پی ٹی آئی ارکان کو آئین کے مطابق حصہ دینا ہی دینا ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ ہماری مخصوص نشستیں خود میں تسلیم کرلیں، مخصوص نشستیں کوئی خیرات نہیں آئینی حق ہے، ہم نے کہا الیکشن کمیشن یہ معاملہ خالی بھی نہیں چھوڑسکتا، جنہیں نشستیں مل گئی انہیں دوبارہ نہیں مل سکتیں، دوران سماعت کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت تو ہے لیکن انہوں نے پارلیمنٹ میں کوئی سیٹ نہیں جیتی ، اس لئے آزاد ارکان کی اس جماعت میں شمولیت کے بعد بھی کوئی مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتی،ہم نے آرٹیکل 51 دکھایا کہ ارکان کسی بھی پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں،آئین میں کہیں یہ قدغن نہیں لگائی کہ اسی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں جو پارلیمنٹ میں ہو۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ دوسری بحث یہ کی کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں سے متعلق کوئی لسٹ الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کرائی جس کے جواب میں ہم نے کہا کہ قانون میں کہا لکھا ہے کہ لسٹ بعد میں جمع نہیں کرائی جا سکتی۔اگر مخصوص نشستیں چھین کر دوسری جماعتوں میں بانٹی گئیں تو وہ سپریم کورٹ جائیں گے لیکن اگر ایسی بانٹ ہوئی تو صدر کا الیکشن، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر کے الیکشن سمیت تمام الیکشن متنازع ہو جائیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما علی ظفر کا مزید کہنا تھا کہ خط میں کہیں نہیں لکھا کہ ہمیں مخصوص سیٹیں نہیں چاہیئے، اس خط کا مخصوص نشستوں سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔  سنی اتحاد کونسل کے سربراہ کا خط انہیں دکھایا نہیں گیا لیکن انہیں معلوم ہوا ہے کہ وہ خط رول 206 کے تحت لکھا گیا تھا، جب الیکشن کمیشن نے رسمی کارروائی کے لیے سنی اتحاد کونسل سے پوچھا کہ انہوں نے مخصوص نشستوں کے لیے ترجیحی فہرست فراہم نہیں کی تو جواب میں سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ انہوں نے الیکشن نہیں لڑا اور اس فہرست کی ضرورت نہیں۔

اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئین کے مطابق پی ٹی آئی کے 293 اراکین نے سنی اتحاد جوائن کیا، قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی کے 86 اراکین نے سنی اتحاد جوائن کیا، پنجاب سے 107، خیبرپختونخوا سے 91 جبکہ سندھ اسمبلی سے 9 ایم پی ایز نے جوائن کیا۔

اس سے قبل سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے سے متعلق درخواستوں پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll