Advertisement
ٹیکنالوجی

مصنوعی ذہانت سے آئندہ 3 سالوں میں سعودی عرب میں 17 فیصد روزگار متاثرہونے کا اندیشہ

اے آئی سے نہ صرف لوگوں کے کام کرنے کے طریقے تبدیل ہو جائیں گے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگوں کی جگہ لے لیں، پروفیشنل بزنس منیجر نجلا نجم

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر May 2nd 2024, 5:40 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
مصنوعی ذہانت سے آئندہ 3 سالوں میں سعودی عرب میں 17 فیصد روزگار متاثرہونے کا اندیشہ

ین الاقوامی مشاورتی ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے آئندہ 3 سالوں میں سعودی عرب میں 17 فیصد روزگار متاثر ہو سکتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی مشاورتی کاروباری کمپنی کی پروفیشنل بزنس منیجر نجلا نجم نے کہا ہے کہ توقع کی جا رہی ہے کہ اے آئی سے نہ صرف لوگوں کے کام کرنے کے طریقے تبدیل ہو جائیں گے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگوں کی جگہ لے لیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایسی ملازمتیں جو تخلیقی کام سے متعلق ہیں مصنوعی ذہانت 80 فیصد انہیں متاثر کر سکتی ہے جبکہ 53 فیصد ایگزیکٹوز کی پوسٹوں کو اے آئی سے خطرہ لاحق ہے، آئندہ تین برسوں کے دوران مصنوعی ذہانت سے پیداواری سیکٹر میں 10 سے 30 فیصد تک اضافے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشرق وسطٰی میں ملازمین دیگر ممالک کی نسبت پیداواری امور سے وابستہ ہیں تاہم یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ ادارے اپنے ملازمین کو نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے انہیں تربیت فراہم کریں گے۔

مصنوعی ذہانت سے متاثر ہونے والوں میں بڑی تعداد 90 کی دہائی سے21 ویں صدی کے لوگوں کی ہو گی جن کے روزگار کو خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ عالمی کنسلٹنسی فرم کے مشرق و سطیٰ کے امور کے ڈائریکٹر اولیفر نے کہا کہ آئندہ تبدیل ہونے والے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مملکت میں 3برسوں کے دوران 17 فیصد روزگار مصنوعی ذہانت کی نذر ہو جائیں گے۔

Advertisement