جی این این سوشل

تجارت

سونے کی فی تولہ قیمت میں اچانک بڑی کمی

ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 1400 روپے کی کمی کے بعد سونا 2 لاکھ 41 ہزار 500 روپے کا ہو گیا ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سونے کی فی تولہ قیمت میں اچانک بڑی کمی
سونے کی فی تولہ قیمت میں اچانک بڑی کمی

ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت کی 1400 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 1400 روپے کی کمی کے بعد سونا 2 لاکھ 41 ہزار 500 روپے کا ہو گیا ہے۔

اسی طرح 10 گرام سونا 1201 روپے کم ہو کر 2 لاکھ7 ہزار 47 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کا قیمت43 ڈالر کم ہوکر 2320 ڈالر فی اونس ہے۔

پاکستان

پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر حلف لینے والے ممبران کا عدالت جانے کا فیصلہ

ہمیں سنے بغیر ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا، ممبران کا موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر حلف لینے والے ممبران کا  عدالت جانے کا فیصلہ

پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر حلف لینے والے ممبران نے ذاتی طور پر عدالت جانے کا فیصلہ کرلیا۔ اس سے قبل ان ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی کو حلف لینے کے بعد سپریم کورٹ نے معطل کردیا تھا۔

مخصوص نشستوں پر منتخب نمائندے،  جنہوں نے مسلم لیگ ن، پی پی پی، ایم کیو ایم-پی، جے یو آئی-ایف اور دوسری جماعتوں کی سفارشات پر حلف اٹھایا تھا اور اب سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی وجہ سے انہیں نکالے جانے کا سامنا ہے، نے اس کے خلاف اپیلٹ کورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

یہ ممبران علیحدہ علیحدہ سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کریں گے جس میں ممبران موقف اپنائیں گے کہ ان کو سنے بغیر ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا۔ ان ممبران نے رٹ پٹیشن کے مندرجات پر مشاورت مکمل کرلی ہے اور ان اراکین کو رٹ پٹیشن دائر کرنے کا حکم سیاسی پارٹیوں نے دیا۔

بظاہر ممبران ذاتی طور پر رٹ دائر کریں گے لیکن پارٹیوں کی در پردہ حمایت حاصل ہوگی، یہ رٹ پٹیشن آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا اور مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ملک میں 11 برس بعد نیشنل ڈرگ سروے کرنے کی اصولی منظوری

نیشنل ڈرگ سروے کے تحت ملک بھر میں منشیات استعمال کرنے والے افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک میں 11 برس بعد نیشنل ڈرگ سروے کرنے کی اصولی منظوری

وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات نے ملک میں 11 برس بعد نیشنل ڈرگ سروے کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔

وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی کی زیر صدارت کمیٹی برائے نیشنل ڈرگ سروے کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری پلاننگ، ایڈیشنل سیکریٹری فنانس، اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ، ڈی جی اے این ایف اور چیف اسٹیٹیشن نے شرکت کی۔ نیشنل ڈرگ سروے کے تحت ملک بھر میں منشیات استعمال کرنے والے افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ نیشنل ڈرگ سروے کو ہر صورت جامع اور مستند  ہونا چاہیے، سروے کے درست ڈیٹا کی اصل اہمیت ہے اور اسی کا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے سروے میں گھروں کے علاوہ تعلیمی اداروں، کچی آبادیوں اور دیگر جگہوں سے بھی ڈیٹا اکٹھا جمع کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مستند اور جامع سروے سے ہی انسداد منشیات کے ضمن میں بھرپور اور مفصل فیصلہ سازی ممکن ہو گی، انسداد منشیات پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوگا کیونکہ یہ قوم کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے 15 دن کے اندر سروے سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ اے این ایف اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس مل کر سروے کے انعقاد کے لیے طریقہ کار، مطلوبہ ڈیٹا کی نوعیت، نمونہ کی شکل اور ٹائم لائن کو وضع کریں۔ سروے کے انعقاد میں تعاون کے لیے بین الاقوامی ترقیاتی اداروں سے بھی رابطہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ ملک میں آخری نیشنل ڈرگ سروے 2013 میں ہوا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

خیبر پختونخوا حکومت نے تمباکو کے ساتھ نسوار پر بھی ٹیکس عائد کردیا

نسوار کا ایک پیکٹ میں 10روپے کا اضافہ کردیا گیا جو اب 30روپے میں دستیاب ہوگی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

خیبر پختونخوا حکومت نے تمباکو کے ساتھ نسوار پر بھی ٹیکس عائد کردیا

بجٹ میں جہاں اشیائے خورد ونوش ،ضروری استعمال کے دیگر چیزیں مہنگی کرکے عوام کو ہزار واٹ کے جھٹکے دیئے گئے وہی ایک اور جھٹکا ان سب چیزوں پر بھاری رہا ۔

خیبر پختونخوا حکومت نے تمباکو کے ساتھ نسوار پر بھی ٹیکس عائد کردیا جس نے نسوار ڈالے بغیر اس کے بنانے اور استعمال کرنے والوں کو چکراکررکھ دیا، نسوار کا ایک پیکٹ میں 10روپے کا اضافہ کردیا گیا جو اب 30روپے میں دستیاب ہوگی ۔نسوار پر ٹیکس لگانے کے حق میں دلیل دیتے ہوئے صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم کہتے ہیں اس سے اگر ایک جانب صوبے کو مالی فائدہ ہوگا تو دوسری جانب نسوار استعمال کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی کی جائے تاکہ اسکا استعمال کم ہو لوگ اس کے مضر اثرات سے محفوظ ہو جائے ۔

مشیر خزانہ کی منطق اپنی جگہ لیکن صوبہ بھر میں اس کاروبار سے بھی لاکھوں لوگ وابستہ جن کے کاروبار پر بھی انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ٹیکسوں تلے دھب کر اگر یہ کاروبار بھی ختم ہونے لگا تو ان لاکھوں لوگوں کو کیا ہوگا جو بے روزگار ہونگے ۔

ظہور شاہ پشاور پھندو روڈ پر ایک چھوٹے سے دکان میں نسوار بناتا ہے جن کا کہنا ہے ٹیکس لگنے کے بعد نسوار بنانے کےلئے پنجاب سے منگوائے جانے والے تمباکو کی قیمت میں 10سے 15ہزار روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے پہلے 60کلو کی ایک بوری 30ہزار میں خریدتے تھے تو اب اس کی قیمت 40سے 45ہزار روپے تک پہنچ گئی جبکہ نسوار بنانے والی مشین بجلی سے چلتی اور یہاں کام کرنے والوں کی مزدوری سمیت کل ملاکر 30روپے فی پیکٹ میں بھی اب گزارہ مشکل ہوگیا ہے جبکہ صوبائی ٹیکس اور انکم ٹیکس الگ مسئلہ ہے جس میں اب کاروبار چلانا بھی مشکل ہوگیا ہے ۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ریسرچ پیپر "نسوار (سموک لیس ٹوبیکو پراڈکٹ) ،اورل کینسر اینڈ ٹوبیکو کنٹرول ان خیبر پختونخوا  میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 13.3فیصد جبکہ خیبر پختونخوا کے کل آبادی کے 15 فیصد لوگ نسوار کے عادی ہیں ۔اس کے نقصانات کے بارے میں پیپر میں واضح لکھا گیا ہے کہ عام لوگوں کی نسبت نسوار استعمال کرنے والوں میں اورل کینسر کا رجحان 20 درجے زیادہ ہوتا ہے ،جبکہ اس کے زیادہ استعمال سے اورل کینسر خدشات میں مزید اضافہ ہوتا ہے ۔ریسرچ پیپر کے مطابق اگر نسوار کا استعمال ترک کیا جائے تو صوبہ بھر میں اورل کینسر کے کیسز میں 70فیصد کمی واقع ہوجائے گی ۔

طبی ماہر ڈاکٹر شفیع اللہ کہتے ہیں یہ بات سچ ہے کہ نسوار کےمسلسل  استعمال سے منہ کا کینسر ہوسکتا ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ  ہے نسوار کے تمام اجزاء بذات خود کینسر کے اسباب میں شامل ہے۔تمباکو میں کئی اقسام کے کیمیکل موجود ہے اسی نسوار میں چونا اور راکھ بھی استعمال ہوتا ہے جس میں بھی مختلف اقسام کے خطرناک جراثیم موجود ہوتے ہیں ۔نسوار کے مسلسل استعمال سے منہ کے اندرونی عضلات متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں  اور آخر کار قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے جس کی وجہ کینسر کے جراثیم طاقتور ہوکر اپنا کام شروع کردیتے ہیں ۔

اگر طبی ماہرین نسوار کو ترک کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں تو صوبائی مشیر خزانہ کے منطق کو  بھی اپنی جگہ درست مانا جاسکتا ہے کہ ٹیکس لگنے سے شائد استعمال کرنے والوں کو نسوار چھوڑنے پر مجبور کیا جائے تاہم اس کے نقصانات سے بے خبر سالوں سے نسوار استعمال کرنے والے شہریوں نے نسوار مہنگا ہونے کے باوجود استعمال ترک کی بجائے مزید بڑھا دی ہے کہتے ہیں یہ تو ہمارا پرانا نشتہ چاہئے قیمت جو بھی ہو ترک نہیں کرینگے بلکہ اب تو استعمال اور بھی بڑھ گیا ہے 

ادھیڑ عمر نور محمد جو محنت مزدوری کرتا ہے عرصےبیس سال  سے نسوار استعمال کر رہا ہے کہتا اس کا اپنا ایک نشہ ہے ۔نسوار کے پیکٹ کی قیمت میں 10روپے اضافہ ہوگیا ہے لیکن ہم نے بھی استعمال مزید بڑھا دی ہےپہلے ایک پیکٹ روزانہ استعمال کرتے تھے اب دو پیکٹ کا استعمال ہو رہا ہے ہاں اگر کوئی مفت مانگے تو انکی طرف پرانا پیکٹ آگے بڑھا دیتے اس تاکید کے ساتھ کہ مہنگے ہیں زیادہ استعمال نہ کرو ۔

پختونوں  میں نسوار استعمال کرنے کی روایت بہت ہی پرانی ہے جیسے جیسے وقت گزرتا گیا نسوار کے اقسام اور استعمال میں بھی اضافہ ہوتا گیا ۔تاہم افغان مہاجرین نے  پاکستان آمد کے ساتھ خشک نسوار کی ایک قسم یہاں متعارف کرائی ۔اس وقت صوبے کے مختلف علاقوں میں استعمال ہونے والے نسوار کی 30اقسام ہے جس میں بہت سے اب برانڈ بن گئے جو پاکستان سے خلیجی ممالک بھی بھجوائے جاتے ہیں ۔ریمنڈ ڈیوس کے مشہور واقعہ میں انوسٹیگیشن کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے چارسدہ کے باچا نسوار کے مالک سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی کیونکہ ریمنڈ ڈیوس کے سامان سے باچا نسوار کا پیکٹ برآمد ہوا تھا اورا سی بنیاد پرنسوار بنانے والے سے پوچھ گچھ کی گئی تھی 

نسوار کے استعمال کو طبی ماہرین بھی مضر صحت قرار دے رہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے ٹیکس لگا کر یہ منطق اختیار کی ہے کہ اس کے  استعمال میں کمی آئی گی جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ کبھی نسوار کا استعمال ترک نہیں کرینگے ۔اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔

(تحریر جی این این رپورٹر سید کامران علی شاہ)

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll