جی این این سوشل

تجارت

وزیراعظم کا گھریلو صارفین کو بجلی کے بلوں میں سبسڈی دینے کا اعلان

شہباز شریف نے بتایا کہ آئی ایم ایف معاہدہ حکومت کی مجبوری تھی، جس کی وجہ سے ملک میں ٹیکسز لاگو کرنا پڑے اور مہنگائی بڑھ گئی  

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وزیراعظم کا گھریلو صارفین کو بجلی کے بلوں میں سبسڈی دینے کا اعلان
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 

وزیراعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں مہنگائی اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں پر احتجاج ہوا۔ جو کہ جائس بھی تھا۔ 
وزیر اعظم نے بجلی کے بلوں کے بارے میں حکومتی لائحہ عمل بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے گھریلو صارفین کو بجلی کے استعمال میں سبسڈی دینے کا پلان بنایا ہے۔ 3 ماہ میں ڈھائی کروڑ گھریلو صارفین کو 50 ارب کی سبسڈی کا فائدہ ہو گا۔ 
 اس پلان کے تحت 200 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کے بلوں میں 3 ماہ تک سبسڈی دی جائے گی۔  موجودہ سبسڈی پروگرام سے 94 فیصد گھریلو صارفین مستفید ہوں گے۔ بجلی سبسڈی پروگرام سے گھریلو صارفین کو جولائی سے ستمبر تک فائدہ ہو گا۔ 
وزیراعظم نے بتایا کہ بجلی کے بلوں کی سبسڈی میں کے الیکٹرک کے صارفین بھی شامل ہیں۔ 

شہباز شریف نے بتایا کہ آئی ایم ایف معاہدہ حکومت کی مجبوری تھی، جس کی وجہ سے ملک میں ٹیکسز لاگو کرنا پڑے اور مہنگائی بڑھ گئی۔  
بلوچستان میں سستی بجلی کی پیداوار کے لیے منصوبہ لا رہے ہیں۔ بلوچستان کے بجلی منصوبہ کے لیے 55 ارب روپے خرچ ہوں گے،  جسں کے لیے رقم کا 70 فیصد وفاق اور 30 فیصد بلوچستان دے گا۔
ملک میں 10 لاکھ ٹیوب ویل تیل پر چلتے یں۔ جلد ہی 10 لاکھ ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر لائیں گے۔ 

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک کے لیے مانگی جانے والی  بھیک کا کشکول توڑنے کے لیے دن رات محنت کرنا ہو گی۔انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ شبانہ روز محنت کر کے ملک کو عروج پر پہنچائیں گے۔

موسم

کراچی کے مختلف علاقوں میں بادلوں کے برسنے کا سلسلہ جاری

شہر کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش جاری ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کراچی کے مختلف علاقوں میں بادلوں کے برسنے کا سلسلہ جاری

کراچی کے مختلف علاقوں میں بادلوں کے برسنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا، شہر کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش جاری ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے آج بھی کراچی میں ہلکی اور تیز بارش کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ بارش کا یہ سلسلہ شہر کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ کیا گیا، کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا۔

شہر کے علاقوں لانڈھی، کورنگی، شاہ فیصل، ملیر، ائیرپورٹ، سہراب گوٹھ، صفورا چورنگی، گلشن اقبال، یونیورسٹی روڈ اور گلستان جوہر سمیت ملحقہ علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی، اس کے علاوہ شارع فیصل، سرجانی ٹاؤن اور ایف بی ایریا میں بھی بادل برسے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش برسانے والے بادل ضلع غربی اور وسطی میں پھیل سکتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ملک میں منصوبے کے تحت مایوسی اور انتشار کا زہر پھیلایا جا رہا ہے، سعد رفیق

بہت سے لوگ دانستہ اور غیر دانستہ طور پر اس صورت حال کاحصہ بن رہے ہیں، سینئر رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن)

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک میں منصوبے کے تحت مایوسی اور انتشار کا زہر پھیلایا جا رہا ہے، سعد رفیق

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماء اور  سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہا کہ سوچےسمجھےمنصوبے کےتحت مایوسی، جھوٹ، تشدد، کنفیوژن اور انتشار کا زہر پھیلایا جارہا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ (ایکس) پر پیغام میں سعد رفیق نے لکھا کہ بہت سے لوگ دانستہ اور غیر دانستہ طور پر اس صورت حال کاحصہ بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئینی پامالی، زرد جمہوریت، معاشی بدحالی اور غربت جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ توڑنا آسان جب کہ جوڑنا بہت مشکل کام ہے، ایک دوسرے کے گریبان پھاڑنے اور دامن تار تار کرنے سے فرصت ملے تو سوچیے کہ ہم اجتماعی خود کشی پر کیوں تُلے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے 750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے، سابق وزیر تجارت

حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے جبکہ سولر اور ونڈ پاور پلانٹس سے فی یونٹ 50 سے زائد میں خریدا جارہا ہے، گوہر اعجاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے  750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے، سابق وزیر تجارت

سابق وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے ایک پاور پلانٹ سے 750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے۔

گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ میں نے ڈیٹا شیئر کرکے چالیس خاندانوں کے خلاف آواز اٹھائی کہ ان سے ملک کو بچایا جائے، حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے، سولر اور ونڈ پاور پلانٹس سے فی یونٹ 50 سے زائد میں خریدا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام پاور پلانٹس 20 فیصد سے کم کپیسٹی پر چل رہے ہیں، ان آئی پی پیز کو 1.95 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں ہوچکی ہے اور بقایا 160 ارب روپے کی تصدیق ہورہی ہے، حکومت ایک ایسے پاور پلانٹ کو 150 ارب روپے ادا کررہی ہے جس کا لوڈ فیکٹر 15 فیصد سے کم ہے۔

سابق وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ایسے پاور پلانٹ کو 140 ارب روپے ادا کررہی ہے جس کا لوڈ فیکٹر 15 فیصد ہے، ایک ایسے پاور پلانٹ کو 120 ارب روپے ادا کررہی ہے جو 17 فیصد لوڈ فیکٹر پر چل رہا ہے، حکومت 22 فیصد لوڈ پر چلنے والے پلانٹ کو 100 ارب روپے ادا کررہی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ حکومت تین پاور پلانٹس کو 370 ارب روپے ادا کررہی ہے جو 15 فیصد لوڈ فیکٹر پر چل رہے ہیں، حل صرف ایک ہی ہے" نو کپیسٹی پیمنٹس"، آئی پی پیز کو صرف بجلی کے پیداوار کی رقم ادا کی جائے، آئی پی پیز کے ساتھ بھی دیگر کاروبار کی طرح سلوک کیا جائے۔

گوہر اعجازکا مزید کہنا تھا کہ آئی پی پیز میں 52 فیصد حکومت کے اور 28 فیصد پاکستانی پرائیویٹ سیکٹر کے ہیں ، ہم 60 روپے فی یونٹ ان کرپٹ معاہدوں کی وجہ سے ادا کرتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll