وفاق کے پاس 43 وزارتیں اور ان کے 400 ذیلی ادارے ہیں جن پر 900 ارب روپے کا خرچہ کیا جاتا ہے، محمد اورنگزیب


وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومتی اخراجات کم کرنے جا رہے ہیں، وفاقی وزارتوں اور اداروں میں ایسی خالی اسامیاں جن پر ابھی بھرتیاں نہیں ہوئی تھیں، ان میں سے 60 فیصد کو ختم کر دیا گیا، جن کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ بنتی ہے، اب ان اسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی جائیں گی۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے معیشت کو پائیدار ترقی کی جانب لیکر جائیں، ٹیکس نظام میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات دسمبر سے جاری ہیں، معاشی ترقی کے لے نجی شعبے کو کردار نبھانا ہوگا۔ الحمد اللہ معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، اہداف درست سمت میں جارہے ہیں، ہم حکومتی اخراجات کم کرنے جارہے ہیں، یہ وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کی جانب اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ ہم سے بہت ٹیکس لے رہے ہیں، تو پیسہ کہاں خرچ ہورہا ہے، آپ اپنے اخراجات کیوں کم نہیں کرتے؟ یہ بہت اچھا سوال ہے، اسی سلسلے میں وزیراعظم نے میری سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی میں حکومت، اتحادی جماعتوں، سرکاری افسران اور بزنس کمیونٹی کے نمائندے شامل ہیں، کمیٹی کے ٹی او آرز طے کرلیے گئے تھے، جن کے مطابق بنیادی مقصد حکومتی اخراجات میں کمی لانا تھا، یہ عوام کا پیسہ ہے اور حکومت کے اخراجات میں کمی ضرور ہونی چاہیے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس دوران یہ سوال بھی سامنے آیا کہ کیا یہ اقدام وفاقی حکومت کو کرنا چاہیے یا اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ ذمہ داری صوبوں کو دی جائے یا پھر اسے نجی شعبے کے حوالے کیا جائے، وفاق کے پاس 43 وزارتیں، ان کے 400 ذیلی ادارے ہیں، ان سب کے لیے 900 ارب روپے کا خرچہ کیا جاتا ہے، اب اس پر کام جاری ہے، کہ کیسے اس خرچے کیسے کم کرنا ہے، عوام کا پیسہ بچانے کے لیے ہم قدم اٹھا چکے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم یکدم 43 وزارتوں کے اخراجات کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کے بجائے بتدریج مختلف وزارتوں اور ان کے ذیلی اداروں کو اخراجات کم کرنے کے دائرے میں لائیں گے، اس کے لیے ایک وقت میں 5 سے 6 وزارتوں کا انتخاب کیا جائے گا۔ پہلی 6 وزارتوں کے وزرا، ان کے سیکریٹری، ذیلی اداروں کے سربراہان اور متعلقہ افسران کو کمیٹی میں بلاکر سنا گیا، ان کا موقف جاننے کا موقع ملا، کہ کس طرح اخراجات کم کیے جائیں۔
اسی طرح دوسرے مرحلے میں 4 وزارتوں کو لیا گیا، اب ہم تیسرے مرحلے میں 5 وزارتوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، ان تفصیلی ملاقاتوں کے بعد رائٹ سائزنگ کے لیے حکمت عملی بنتی ہے، سارے عمل کی نگرانی وزیراعظم خود کر رہے ہیں۔ اس سارے عمل میں دیکھا جاتا ہے، کہ اداروں کے وسائل اور انسانی افرادی قوت کا کیا کرنا ہے، 6 ماہ کے دوران جو فیصلے کیے گئے ہیں کہ خالی اسامیاں ، جن پر ابھی بھرتیاں کی جانی تھیں، ان میں سے 60 فیصد کو ختم کر دیا جائے، یہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ اسامیاں بنتی ہیں، انہیں ختم کر دیا ہے۔
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- a day ago
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- a day ago
رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ انتقال کرگئے
- a day ago

ایل پی جی مہنگی ہو گئی، فی کلو قیمت جانیے
- 2 days ago
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- a day ago

کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلہ
- 2 days ago
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- a day ago
لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- a day ago
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 4 hours ago
براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے سے لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 8 کی لاشیں مل گئیں، 2 کی تلاش جاری
- 2 days ago

خواجہ آصف عوام سے معافی مانگیں، شعیب صدیقی
- 2 days ago

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- a day ago
