جامعہ کراچی میں’ نوجوانوں کا اشتراک برائے مستحکم معاشرہ‘کے تحت تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد
مقررین نے نوجوانوں کو بصیرت افروز خیالات اور عملی رہنمائی فراہم کی، جبکہ میثاقِ مدینہ اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے موضوعات پر مدلل گفتگو کی گئی


کراچی: جامعہ کراچی میں منعقدہ تین روزہ تربیتی ورکشاپ بعنوان "نوجوانوں کا اشتراک برائے مستحکم معاشرہ" ادارہ امن و تعلیم (PEF) کی جانب سے ایک اہم اقدام تھا، جس کا مقصد نوجوانوں کو معاشرتی ہم آہنگی، قیامِ امن، اور انتہا پسندی کے سدباب کے لیے مؤثر علم، مہارت اور عملی اوزار فراہم کرنا تھا۔ 17 تا 19 اپریل 2025 کو ہونے والی اس ورکشاپ میں متنوع پس منظر رکھنے والے نوجوانوں نے شرکت کی، جس نے اس تربیتی سیشن کو ایک فکری، مکالماتی اور باہمی سیکھنے کا بھرپور موقع بنا دیا۔
ورکشاپ کا افتتاح سابق وفاقی وزیرِ قانون بیرسٹر شاہدہ جمیل نے اپنے متاثر کن خطاب سے کیا، جس میں انہوں نے نوجوانوں کو معاشرتی تبدیلی کا کلیدی محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ: "نوجوان قیادت صرف مستقبل کا خواب نہیں بلکہ حال کی حقیقت ہے۔ انہیں علم، آگہی اور وسائل سے آراستہ کرنا ہماری اجتماعی ذمے داری ہے۔"
ورکشاپ کی نمایاں سرگرمیاں:
گروہی مباحثے اور مشقیں۔
مسئلہ حل کرنے پر مبنی عملی سیشنز
مکالمے، افہام و تفہیم اور بین المذاہب ہم آہنگی۔
سوشل ایکشن پلانز (SAPs) کی تیاری
قیادت، جامعیت اور سماجی تبدیلی پر تربیت۔
ورکشاپ میں اساتذہ، مذہبی اسکالرز، ٹرانس جینڈر نمائندگان، مقامی صحافی، سماجی کارکن، اور سندھ و بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی کارکنان شریک ہوئے، جنہوں نے اپنے خیالات اور تجربات کے تبادلے سے ورکشاپ کو علم و بصیرت کا مرکز بنا دیا۔
نامور مقررین:
ڈاکٹر عامر طاسین (سابق چیئرمین، مدرسہ ایجوکیشن بورڈ)
ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی (سابق رکن، اسلامی نظریاتی کونسل)
ڈاکٹر امتیاز احمد (استاد، جامعہ کراچی)
مجتبیٰ محمد راٹھور (بورڈ ممبر، ادارہ امن و تعلیم)
مقررین نے نوجوانوں کو بصیرت افروز خیالات اور عملی رہنمائی فراہم کی، جبکہ میثاقِ مدینہ اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے موضوعات پر مدلل گفتگو کی گئی۔
شرکاء کو اپنے اپنے علاقوں میں عملی اقدامات کے ذریعے سماجی بہتری لانے کے لیے تربیت دی گئی۔ SAPs میں درج ذیل نکات شامل تھے:
مسائل کی نشاندہی
قابلِ عمل تجاویز
وسائل اور ٹائم لائنز کا تعین
فالو اپ میکانزم کی ترتیب
اہداف:
مقامی سطح پر امن کے فروغ کے
لیے مہمات۔
ڈائیلاگ سیشنز اور آگاہی پروگرامز
انتہا پسندی کے خلاف مربوط حکمت عملی۔
نوجوانوں کی قیادت میں کمیونٹی کی بحالی۔
یہ ورکشاپ یورپی یونین کی مالی معاونت سے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) کی سربراہی میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کے اشتراک سے جاری "پاکستان میں دہشت گردی کی روک تھام اور سدباب (CPTP)" پروگرام کا حصہ تھی۔ اس منصوبے کے تین بنیادی ستون ہیں,
1. عدالتی و انتظامی اداروں کی استعداد کار میں اضافہ
2. متاثرین کے تحفظ کے لیے مؤثر قانونی نظام
3. سماجی شمولیت اور کمیونٹی کی مضبوطی
یہ تربیتی ورکشاپ نہ صرف نوجوانوں کے لیے سیکھنے کا ایک سنہری موقع ثابت ہوئی بلکہ ان کے دلوں میں قیادت، مثبت تبدیلی اور پائیدار امن کی شمع بھی روشن کر گئی۔ اس طرح کی سرگرمیاں نوجوانوں کو صرف بااختیار ہی نہیں کرتیں بلکہ ایک مضبوط، مربوط اور انصاف پسند معاشرے کی بنیاد رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
رپورٹ عبد حسین

پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ مسترد، سینیٹر ڈاکٹر زرقا کا اضافہ فوری واپسی کا مطالبہ
- 2 days ago
کرکٹرزامام الحق اور محمد رضوان کےموبائل فونز ظبط، وجہ سامنے آگئی
- a day ago
بنگلادیش میں خسرہ وبا شدت سے پھیل گئی
- 2 days ago
پنجاب کی جیلوں میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن، 16 افسران و اہلکار معطل
- 2 days ago
وزیراعلیٰ پنجاب کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کے نکاح کی تقریب کی تاریخ کا اعلان
- 2 days ago

خریداروں کے لئے خوشخبری: ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی
- 10 minutes ago
پیراگلائیڈر آصف محمود چترال میں پیرا گلائیڈنگ کے دوران جان سے گئے
- 5 minutes ago

ملک میں سونے فی تولہ قیمت میں معمولی کمی
- a day ago
اداکارہ ہنی خان نے خود پر ہونیوالی تنقید کا جواب دے دیا
- 2 days ago

پاکستان کا سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور خوشحالی کے لیے حمایت کا اعادہ
- 19 hours ago

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
- 2 days ago
پھر ناقص کارکردگی: تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان انگلینڈ کیخلاف پہلی اننگزمیں133 رنز بناکر آؤٹ
- 2 days ago


